تبدیلی کہاں کھو گئی؟

تبدیلی کہاں کھو گئی؟
تبدیلی کہاں کھو گئی؟

  

حکومتی مقبولیت کیوں داؤ پر لگی؟ قابل اطمینان کامیابی کے بعد اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل کا سفر کیوں شروع نہیں ہوا؟ تیسری سیاسی قوت کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے والے عوام کیونکر مصائب کے نئے سمندروں میں ڈوبے؟ کیا وزیراعظم عمران خان قوم سے کئے گئے وعدوں کو بھول گئے؟ کیا پی ٹی آئی تھنک ٹینک ریاستی چیلنجوں کے سامنے بے بس ہوگیا؟ کیا وزراء ناکام، بیوروکریسی منہ زوراور سماجی اکائیاں حوصلہ ہار بیٹھیں؟ اور کیا پاکستان تحریک انصاف ریاستی طبقات کو مطمئن کرنے کی سکت کھو بیٹھی؟معاملات بے حد پیچیدہ ہو چکے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے جن حالات میں پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی وہ سادہ اور آسان نہیں تھے۔ اقتدار کی شروعات میں وزیراعظم تمام تر مشکلات کو ٹھوکروں سے اڑانے جیسی سپرٹ سے بھرے ہوئے تھے۔ اسی زعم اور جوش میں پہلی بھیانک غلطی یہ کی کہ ٹی وی پر آکر عوام کو سو دنوں کا ایجنڈا دے بیٹھے۔ یہ بدترین سیاسی بلنڈر تھا۔ اپوزیشن کی باچھیں کھل اٹھیں کہ کس سادگی سے وزیراعظم نے ماضی کی تمام حکومتوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا۔ اپوزیشن کو علم تھا کہ سو دنوں میں کچھ نہیں ہونا۔ الٹااس نے پہلے دس دنوں بعد ہی وزیراعظم کو سو دنوں کے ٹائم فریم میں پھنسا کر تبدیلی نہ لانے کے طعنے دینا شروع کر دیئے۔

دن ہفتوں میں بدلے۔ سو دن گذر گئے، آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے کہ نہیں والا سیریل شروع ہوگیا۔کلائمیکس اس وقت آیا جب اسد عمر یہ کہتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہوگئے کہ وہ عوام پر پھوٹنے والے مہنگائی کے بم کی پن نہیں کھینچ سکتے۔ عالمی مالیاتی ادارہ آیا، مذاکراتی دور چلے، وہ فیصلہ کن راستہ آن پہنچا جس پر سفر کرنے کو ماضی کی ہر حکومت نے سیاسی خودکشی قرار دیا۔وہ راستہ کیا تھا؟ ریاست بچانے کی خاطر ہر طرح کا معاشی بوجھ بتدریج عوام پر منتقل کر نا۔ آئی ایم ایف پروگرام منظور ہوا۔ خدوخال سامنے آئے تو ماہرین معیشت بھانپ گئے کہ مہنگائی اب طویل عرصے تک پاکستان کے گلی کوچوں پر راج کرے گی۔ڈالر نے جمپ مارا۔ کاروباری برادری میں اتھل پتھل مچی، فلاحی منصوبوں پر کٹ لگا۔ ترقیاتی بجٹ شارٹ ہوئے، سبسڈیز کا خاتمہ ہوا، اور پاکستان کی بلیک اکانومی اس وقت ڈگمگائی جب معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ دستاویزی بنانے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت نے سارے محاذ اکٹھے کھول لئے۔ سرمائے سے بھرا پیالہ تیزی سے خالی ہوا اور بیچ چوراہے میں بیروزگاروں کی ٹھوکروں سے پاش پاش ہو گیا۔

اس مرحلے پر رائے عامہ کئی حصوں میں تقسیم ہوئی۔ ایک طبقے نے کہا، موجودہ حکومت نے ملک کو تباہ کر دیا۔ دوسرے کا اصرار تھا ریاست بچانے کے لئے عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ تیسرا بولا معیشت کو مرحلہ وار دستاویزی کرنا چاہئے تھا، جبکہ چوتھا یہ سوچ کر بلبلا اٹھا کہ ان کے آشیانوں پر ٹوٹتی مہنگائی کبھی رک بھی سکے گی؟ مستقبل کیا کہتا ہے،ابھی کسی کو کچھ علم نہیں۔ بظاہر حکومت اپنی ساکھ بری طرح مجروح کر بیٹھی ہے۔ گلیوں، محلوں میں لوگ تمسخرانہ انداز میں تبدیلی پر فقرے کس رہے ہیں۔ حکومتی میڈیا ٹیمیں تقریباً ًمعذور ہو چکی ہیں۔ ہمدرد ذرائع ابلاغ سمیت سوشل میڈیا کی توپیں دن رات تحریروں اور تصویروں کی صورت حکومتی پالیسیوں پر گولے داغ رہی ہیں۔ تبدیلی کے دعوے دار دور بہت دور اطمینان کے جزیروں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں۔ بظاہر کوئی معجزہ ہی ہے جو حکومتی ساکھ بحال کر سکے۔ شائد ایسا ابھی بھی ممکن ہے۔آپ معیشت کو ایک لمبے عرصے تک کے لئے ٹھیک نہیں کر سکتے۔ ہاں وہ اصلاحاتی ایجنڈہ ضرور پورا کر سکتے ہیں جو ڈالر، روپیہ نہیں، بلکہ وژن مانگتا ہے۔ جی ہاں وہی وژن جس کی کمی کے طعنے آپ اپوزیشن لیڈروں کو دیا کرتے تھے۔

جناب وزیراعظم تنہا بیٹھیں، ان تقاریر کو سنیں جنہوں نے لوگوں کو دیوانہ بنا یا۔ان فقروں کی معنویت میں اتریں جو گھر گھر گونجے۔ اس اصلاحاتی ایجنڈے کو آنکھوں کے سامنے لائیں جس کی تکمیل کے لئے اقتدار ملا؟ زیادہ دیر نہیں لگے گی سمجھ آجائے گی کہ لوگوں نے اقتدار ”نظام کی تبدیلی“ کی خاطر سونپا۔ کتنا وقت گذر گیا۔ کیا نظام بدلنے کی شروعات بھی ہو سکیں؟ کیا کبھی بھولے بسرے سے بھی خودمختار اداروں کے تصور کا ذکر کیا گیا؟۔ آزاد پولیس کا عزم کن پاتال جیسی گہرائیو ں میں دفن ہوگیا؟۔ اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے آپ مکمل با اختیار ہیں۔ اپوزیشن بند گلی میں، اسٹیبلشمنٹ پوری طرح سے ساتھ، اب نہ تو کوئی شکوہ ہونا چاہئے نہ بہانہ۔ اگر اب بھی اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل نہ کی گئی تو سمجھا جائے گا آپ خود ہی نظام بدلنے پر آمادہ نہیں یا اتنی صلاحیت ہی نہیں۔ ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے نہ تو آئی ایم ایف سے قرض مانگنا پڑے گا۔ نہ عالمی اداروں سے بھیک …… اگر مہنگائی میں پستے عوام کو اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کرکے دکھا دیا جائے تو حکومتی ساکھ بہت حد تک بحال ہو سکتی ہے، وگرنہ بے چینیوں کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور آپ اس حد کو تقریبا چھو چکے۔

مزید :

رائے -کالم -