کالا اور سفید کوٹ

کالا اور سفید کوٹ
کالا اور سفید کوٹ

  



ڈاکٹر صحیح یا غلط، انسانیت کے مسیحا کہلاتے ہیں۔ وکلاء قانون کے علمبردار،جبکہ پولیس امن و امان اور مال و جان کی محافظ! ان کے بارے میں عام تاثر تعلیم یافتہ اور فرض شناس ہونے کا ہے!مگر لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جو کچھ ہوا، اس نے اس امر و خیال کی نفی کر دی۔ اے کاش! ایسا نہ ہوتا، ویسا ہوتا جو ہونا چاہیے تھا۔ فی الواقع اخلاقی اعتبار سے کسی کے پلے کچھ بھی نہیں رہا۔ مسیحاؤں،قانون کے علمبرداروں اور امن و امان کے وارثوں کو کیا ہوا …… پھر اس پر مستزاد یہ کہ رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا نے نکال دی۔ جانب دارانہ رپورٹنگ اور یک طرفہ پروپیگنڈہ ……ایک تاثر یہ بنا کہ دوچار سو وکلاء نے برادری کا سرشرم سے جھکا دیا۔ کیا اس سلسلے میں ڈاکٹر بے گناہ ٹھہرے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ اِدھر یا اُدھر والوں کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شایدکسی نے بھی اپنا معیار اورکردار پیش نہیں کیا۔

یہ درست ہے کہ من حیث القوم ہم زوال کا شکار ہیں۔ ادارے بھی عبرتناک حد تک گراوٹ کا شاہکار! ایسے میں سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کا وجود غنیمت! ان کے دروازے سائلان پر کھلے رہتے ہیں۔ بدقسمتی کہ وہ بھی اس دوران نیک نفسی اور فرض شناسی کے باوجود اپنی کارکردگی دکھانے میں ”پابند“ رہے! ڈاکٹروں اور وکلاء کی کارگزاری قابلِ فخر ہرگز نہیں ہے، لیکن جس طرح چند سو وکلاء کا اشتعال اور ہُلڑبازی پوری برادری کو پریشان کر گئی ہے، اسی طرح ڈاکٹروں کا رویہ بھی معیاری بالکل نہیں تھا۔ اس سانحہ پر باقاعدہ غیر جانبدارانہ انکوائری عمل میں آنی چاہئے، جس میں اس بے ہودہ پن کا کھوج لگانا ناگزیر ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس ہنگامہ آرائی کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟ کیا یہ کوئی منظم سازش تھی؟ جس کا پورا پورا امکان موجود ہے۔ اگر یہ سازش تھی تو اس کے تانے بانے آخر کس نے اور کیسے بُنے ہیں؟

میں سوچتا ہوں کہ مجھے مستقبل کے حوالے سے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے تو بطور قانون کے طالب علم بڑے سہانے خواب دیکھے تھے۔ملک و قوم اور انسانیت کی خدمت کے خواب! کیا ڈاکٹر اور وکیل اپنی ذمہ داریاں صحیح طورپر نبھا رہے ہیں؟ کیا اس اندوہناک واقعہ نے پیشہ ورانہ اصولوں کا کھوکھلا پن نمایاں، بلکہ عریاں نہیں کر دیا۔ میں نے اس صورت حال پر اپنے متعدد وکلاء صاحبان کومضطرب و دلبرداشتہ پایا۔ رائے ارشاد کمال، عاصم شہزاد بھٹی، محمد طاہر بٹ صالح، مزمل قاسمی اور رائے غضنفر علی بہت بے قرار ہیں۔ خدا کے لئے جہاں بھی، جس سے، جو غلط ہوا ہے، ہم اپنی اصلاح کریں، نہیں تو سب ادارے مزید رسوا ہوں گے۔ ڈاکٹر، بیماریوں سے لڑیں، وکلاء سے نہیں۔ وکلاء، لاقانونیت سے پنجہ آزمائی کریں، ڈاکٹروں سے نہیں۔ریاست اور شہریوں میں بھی شائد نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت آ پڑی ہے۔ ہمیں ہر شعبے میں، ہر سطح پر انقلابی اصلاحِ احوال کی فوری ضرورت ہے۔ نہیں تو خاکم بدہن! آشیانہ ہی برباد نہ ہو جائے! ملک ہے تو ہم سب ہیں۔ خدانخواستہ یہی نہ رہا تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ بادی النظر میں ہمارا رویہ و عمل انسانی رہا ہے، نہ اسلامی! کیا انسان اور مسلمان ایسے ہوتے ہیں؟ اگر ایسے ہوتے ہیں تو غیراسلامی اور غیر انسانی کیا ہیں؟ یہ ایک سوال کا سوال ہے اور اپنی فطرت میں جواب کا جواب!

مزید : رائے /کالم