ہم دماغ تو رکھتے ہیں، اس کا استعمال نہیں جانتے

ہم دماغ تو رکھتے ہیں، اس کا استعمال نہیں جانتے
ہم دماغ تو رکھتے ہیں، اس کا استعمال نہیں جانتے

  

ہمارے معاشرے کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ سوچ کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نہ سوچنے کا ہے…… یعنی ہمارے لوگ ہر شعبہ ہائے زندگی میں بغیر سوچے سمجھے اپنا ایک ذہن بنا لیتے ہیں یا یوں کہیے کہ تحقیق کے بغیر ادھوری معلومات لے کر دوڑ پڑتے ہیں، اسی لیے ہمارا معاشرہ تضادات کا شکار ہے، بے اعتمادی کا شکار ہے، اکثر لوگ ظلم کرتے ہوئے بھی خود ہی کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں، ہر کوئی دوسروں کے گلے شکوے کر کے اپنے معاشرے کو کوسنے دیتا نظر آتا ہے۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور رات کو سو کر صبح اٹھیں تو سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہو، ہر طرف ہریالی ہو اور ملک ترقی کر چکا ہو۔ ہماری گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں پر لکھے گئے اشعار، فقرے اور جملے ہماری اجتماعی سوچ کے عکاس ہیں۔ ہر کوئی دوسروں سے شکوہ کرتا نظر آتا ہے۔ خود ساختہ دشمن اور شریک ہیں۔ ساری قوم جذبات سے سوچتی ہے اور عقل کو گھاس چرنے بھیجے رکھتی ہے۔ شریک کے لفظ کی آج تک سمجھ نہیں آئی، نہ اس کے معانی کسی کو معلوم ہیں، کیونکہ یہ اکلوتا رشتہ صرف پاکستان ہی میں ملتا ہے۔ ایک طرف ہم اپنے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو چور اور ڈاکو کہہ کر پکارتے ہیں، دوسری طرف ان سے اتنے مرعوب ہیں کہ سامنے آجائیں تو ان کے آگے بچھ جاتے ہیں، ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔ دینی لحاظ سے ہماری قوم اس قدر پسماندگی کا شکار ہے کہ دین کو چند مذہبی رسوم تک محدود کر رکھا ہے۔ مذہب سے صرف دنیاوی فائدے اٹھانے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ کسی نے اپنی دکان کا نام مکہ یا مدینہ رکھا ہے، تو کوئی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ اپنا نام لگا کر شہرت حاصل کرنے کا متمنی ہے۔

ہر طرف مختلف ناموں اور موضوعات کے حوالے سے مذہبی کانفرسیں اور مجلسیں جاری ہیں، لیکن عمل اور اخلاقیات میں ہم زیرو+زیرو ہیں۔

ایک طرف ہم جمہوریت کا ورد کرتے ہیں، دوسری طرف جمہور کو ریاستی معاملات سے کوسوں دور رکھتے ہیں۔ لوگوں کو جذباتی تقریروں اور نعروں میں مصروف رکھتے ہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی جب آزادکشمیر کے وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک جذباتی تقریر کر کے پورے آزاد کشمیر سے داد وصول کی تھی۔ اس خاکسار نے اس تقریر کا ایک ایک لفظ غور سے سنا اور پوری کوشش کی کہ اس تقریر میں سے کوئی بات مل جائے، جس کی تعریف کر کے مَیں بھی تعریفوں کے پل کے نیچے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لوں، لیکن مجھے اس تقریر میں کہیں دور دور تک کوئی ایسا لفظ نہیں ملا جس کا حقیقت سے یا درپیش صورت حال سے کوئی تعلق ہو۔ اس تقریر سے ڈیڑھ ماہ پہلے اور اس تقریر کے بعد آج تک حکومت آزادکشمیر میں کوئی جنبش نظر آئی، نہ وزیراعظم کو یاد کہ انہوں نے کیا باتیں کی تھیں؟ لیکن ہماری قوم اس تقریر پر مر مٹی تھی۔ جب بھارت نے اپنے آئین میں ترامیم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا اور کشمیر کو زبردستی بھارت کا حصہ بنانے کی کوشش کی تو ہمارے لوگوں کا غم و غصہ اپنی جگہ،لیکن کوئی منظم تحریک نظر آئی، نہ معقول آواز بلند ہوئی، البتہ ہر جماعت نے اپنے اپنے جھنڈوں کے ساتھ ریلیاں ضرور نکالیں۔ بھمبر کی بیشتر ریلیوں میں یہ خاکسار بھی حاضر رہا اور ہر موقع پر یہی عرض کیا کہ حکومت آزادکشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا کر تحریک چلانی چاہیے اور اقوام عالم میں اپنے نمائندوں کو بھیج کر ان کے ضمیروں کو جھنجوڑنا چاہیے، لیکن 4 ہفتوں کی منتشر ریلیوں کے بعد ایسی خاموشی چھائی ہے، جیسے مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہو۔

اُدھر پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی مولانا کی قیادت میں آزادی مارچ اور دھرنے کے وقت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا،جیسے میڈیا اور لوگوں کی توجہ کو کشمیر سے ہٹانا مقصود ہو۔ اب کسی طرف سے کشمیریوں کے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھ رہی، جبکہ بھارت نے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا ثبوت ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں شائع ہوا ہے۔ جب ایک امریکن صحافی بھیس بدل کر کشمیر میں داخل ہوا اور ساری صورت حال کا مشاہدہ کر کے امریکی اخبار میں اپنی رپورٹ شائع کروا دی۔ ذرا غور کیجیے کہ دنیا میں جتنے ترقی یافتہ اور طاقتور ملک ہیں، انہوں نے کیسے ترقی کی ہے؟…… ان کی کئی نسلوں نے قربانیاں دے کر، سخت محنت کر کے اور اپنی ذات سے زیادہ اپنے ملک سے محبت کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اگر آپ بھی ترقی چاہتے ہیں، آپ بھی حقیقی عزت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے دماغ کا استعمال کریں اور سوچنا شروع کریں، معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنی قیادت کا انتخاب کرتے وقت ان کا حسب و نسب یا طاقت کو مدنظر رکھنے کی بجائے ان کے کردار اور اہلیت پر نظر رکھیں۔حال ہی میں پاکستان کے اندر دو نئے مافیاز نے سر اٹھا رکھا ہے اور دنیا کو دکھایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اور وکلاء کتنے طاقتور ہوتے ہیں، جن کے سامنے ریاست بھی بے بس ہو جاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -