اندھاقانون

اندھاقانون
اندھاقانون

  

پاکستان کے دل لاہور میں دل کے امراض کے ہسپتال پر وکلاء کے حملے نے ملک بھر کے اہل دل کو لرزا کر رکھ دیا۔ پاکستان ایک وکیل نے بنایا تھا۔ ایک ایسا وکیل نے جس نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا تھا۔ انہوں نے قانون شکنی کے الزام میں کبھی جیل یاترا نہیں کی تھی اور پاکستان کا مقدمہ انگریزوں کے ساتھ اتنی ذہانت اور لیاقت کے ساتھ لڑا کہ دنیا عش عش کر اٹھی، حتیٰ کہ وجے لکشمی پنڈت نے کہاکہ اگر مسلم لیگ کے پاس سینکڑوں گاندھی اور نہرو ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک محمدعلی جناح ہوتے تو برصغیر کبھی تقسیم نہ ہوتا۔ ایک وکیل نے پاکستان بنا کر وکالت کے شعبے کو منفرد اور غیرمعمولی عزت دی تھی، مگر پی آئی سی پر حملہ کرنے والے وکلاء کوئی دوسری مخلوق دکھائی دیتے ہیں ……ٹیلی ویژن پر وکلاء کے حملے کی تصاویر دکھائی جا رہی تھیں۔وہ عملے کو زدوکوب کر رہے تھے، مریضوں کے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے، انتہائی قیمتی مشینوں کو توڑ رہے تھے، کالے کوٹ میں ملبوس معاشرے کے معتبر اراکین بدترین تشدد کر رہے تھے۔اکثر افراد اس بدمست بھینسے کی طرح نظر آ رہے تھے جو سرخ رنگ کا کپڑا دیکھ کر پاگل ہوجاتاہے اور سامنے آنے والی ہر چیز پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔دنیا بھر میں جنگ کا بھی یہ مسلمہ اصول ہے کہ ہسپتالوں کو نشانہ نہیں بنایاجاتا، حتیٰ کہ دہشت گرد بھی ہسپتالوں پر حملے سے گریز کرتے ہیں۔اسے قومی بدقسمتی کے سوا کوئی ددسرا نام کیسے دیاجاسکتا ہے کہ پاکستان کا وہ طبقہ، جس نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا،اس نے تباہی اور بربادی کے طوفان کی صورت اختیار کر لی۔

دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔مدتوں سے مَیں ایسی کتابوں کو پڑھ رہا ہوں،جن میں وطن عزیز کے مستقبل کے متعلق بری بری پیشین گوئیاں ہوتی ہیں، مگر مَیں کبھی پاکستان کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوا۔ مجھے اس امریکی مصنف کی بات ہمیشہ پسند آئی، جس کا کہنا ہے کہ پاکستان مسائل کا شکار ہے، مگر اس کے لوگوں میں اپنی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کی جو قوت ہے، وہ اسے ہر خطرے سے محفوظ رکھتی ہے۔اس قوم کی قوت مزاحمت میں ہی اس کی بقاکاراز پوشیدہ ہے۔ آج جبکہ دنیا بھر میں اس حملے کو دکھایا جا رہا ہے اور اس کے حوالے سے پوری قوم کے چہرے پر جو سیاہی لگائی جا رہی ہے، اس پر ہر دردمند دل اذیت میں مبتلا ہے اور یہ سوال بار بار کسی نہ کسی انداز سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ہم کیسی قوم بن گئے ہیں؟ پاکستان کو دنیا کی کرپٹ اقوام میں شامل کیا جاتا رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ چیرٹی کا کام بھی وطن عزیز میں ہوتا ہے…… وکلاء کے پاس دلیل کی قوت ہوتی ہے۔ دلیل کی قوت سے وکلاء نے دنیا میں انقلاب بپاکیا ہے۔ امریکہ میں وکلاء نے ہی آزادی کے نظریات دیئے اور آج امریکی فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو ٹیکنالوجی ہی نہیں دی، بلکہ بہت اعلیٰ درجے کے نظریات بھی دیئے ہیں۔

مجھے برطانوی آئین کے متعلق ایک برطانوی دانشور کی کتاب یاد آرہی ہے، جس نے لکھا تھاکہ برطانیہ میں قانون کی برتری اور شخصی آزادیوں کا کریڈٹ اداروں کو دیا جاتاہے اور یہ بات غلط بھی نہیں ہے، لیکن اس کا اصل کریڈٹ برطانوی عوام میں موجود آزادی اور قانون کے احترام کی روح کو جاتاہے۔اگر ان اداروں کو توڑ بھی دیاجائے تو اس روح کی تڑپ ان اداروں کو دوبارہ جنم دے گی۔ اس برطانوی مصنف نے لکھا تھا کہ آپ انسانوں کو زبردستی غلام تو بنا سکتے ہیں، لیکن زبردستی آزاد نہیں کرسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ غلاموں کو آزادی دیتے ہیں تو اس آزادی کے بعد اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ان کا رویہ آزاد انسانوں جیساہوگا۔ ٹیلی ویژن پر پی آئی سی کے مناظر دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ ہم ذمہ دار انسان کیوں نہیں ہیں؟ وکلاء جن کی سب سے بڑی طاقت دلیل ہوتی ہے، انہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے کیوں اٹھا لئے؟

آٹھ عشرے قبل امریکہ میں ایک پریس کمیشن نے کہاتھا کہ آزاد پریس کو ذمہ دار ہونا چاہیے، کیونکہ اگر پریس ذمہ دار نہیں ہوگا تو وہ اپنی آزادی بھی کھو بیٹھے گا۔ یہ اصول محض پریس تک محدود نہیں ہے، تاریخ عالم پر اگر نظر ڈالیں تو یہ سچائی کھل کر سامنے آتی ہے کہ جن قوموں کے مزاج سے ذمہ داری رخصت ہوئی اور انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لینااپنا وطیرہ بنالیا، وہ قومیں زیادہ دیر تک آزاد نہیں رہیں۔پی آئی سی پر حملہ چھوٹا واقعہ نہیں ہے۔ چند درجن افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ رویے تبدیل کرنے کا ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد 1935ء کے ایکٹ کو آئین پاکستان کا درجہ دے دیاگیا تھا اور اس میں صرف یہ تبدیلی کی گئی تھی کہ جہاں ”ملکہ برطانیہ کی رعایا“ کے الفاظ تھے انہیں ”پاکستان کے عوام“ کے الفاظ سے تبدیل کردیاگیاتھا۔ اس کے بعدپاکستان میں آئین بنتے رہے۔ آج ترامیم کے ساتھ 1973ء کا آئین موجود ہے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور دوسرے ادارے کیسے کام کریں گے؟

عوام کے بنیادی حقوق کیا ہیں؟ اور ان کے تحفظ کے لئے کیسے آئینی تحفظات ہیں؟ مگر پی آئی سی میں وکلاء نے جو کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئین اور قانون ہمارے مزاج کو تبدیل کرنے میں کتنی بُری طرح ناکام ہوا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جو فسادات ہوئے ان میں 20لاکھ سے زائد افراد مارے گئے۔ آج بھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ صدیوں سے ایک گاؤں میں رہنے والوں نے ایک دوسرے کو قتل کیوں کیا، ایک دوسرے کے گھر کیوں جلائے، وحشت کے جنون میں مبتلا ہو کر درندگی کے مظاہرے کیوں کئے گئے؟ اس کا جواب تو تلاش نہیں کیا جا سکا،مگر اس خطرے کا اظہار ضرور ہوتا ہے کہ اس خطے میں رہنے والوں کے مزاج میں وحشت اور ظلم کسی نہ کسی انداز میں شامل ہے۔ پی آئی سی میں اس کی ایک جھلک نظر آئی ہے، اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا قومی مزاج یہ رہا ہے کہ ہم نے بڑے سے بڑے مسئلے کو ”مٹی پاؤ“ کے فلسفے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے وقتی طور پر معاملات دب تو جاتے ہیں، مگر پھر کچھ عرصے بعد بھیانک انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔ قانون کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ اندھا ہوتا ہے اور انصاف وہ ہوتا ہے جو ہوتا ہوا نظر آئے۔ آج قانون اور انصاف کو اپنے تقاضے پورے کرنے ہیں، وگرنہ معاشرہ کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -