بھارت: پانچوں سواروں میں نام لکھوانے کی کوشش

بھارت: پانچوں سواروں میں نام لکھوانے کی کوشش
بھارت: پانچوں سواروں میں نام لکھوانے کی کوشش

  

جب سے امریکہ نے بھارت کو اپنے ابھرتے ہوئے نئے رقیب، چین کے خلاف اپنی پہلی دفاعی لائن میں شامل کرکے اپنا سٹرٹیجک پارٹنر ڈکلیئرکیا ہے، بھارتیوں نے اس جھوٹ کو سچ سمجھ لیا ہے۔ امریکہ کا تو یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے گدھے کو بھی اپنا باپ بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، پاکستان امریکہ کا نان نیٹو اتحادی تھا۔ یعنی نیٹو میں شامل نہ ہو کر بھی نیٹو ممالک کے سٹیٹس کا حامل تھا۔ اس سے بھی پہلے پاکستان، امریکی خارجہ پالیسی کا کارنر سٹون تھا۔ یعنی ایک ایسا پتھر کہ ذرا سا اپنی جگہ سے سرکتا تو پوری امریکی عمارت دھڑام سے نیچے آ گرتی۔ لیکن اس کارنر سٹون کا حشر یہ ہوا کہ خود دھڑام سے زمین بوس ہوتے ہوتے رہ گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ آج اپنے قیام کے 72برس بعد، تین پاک بھارت جنگیں لڑنے کے بعد اور آدھا پاکستان ہاتھ سے گنوانے کے بعد پاکستان کو کچھ ہوش آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چین، ہمارا ہاتھ نہ پکڑتا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہماری بقا بھی قائم رہتی یا معدوم ہو جاتی۔

پاکستان سے ترکِ تعلق کے بعد جب امریکہ نے کھلم کھلا بھارت پر نظرِ کرم کا آغاز کیا تو وہ ہندو پھولے نہ سمایا جو ایک ہزار برس تک مسلمانوں اور انگریزوں کا غلام رہا تھا۔ امریکی نگاہِ التفات کے طفیل انڈیا کے غبارے میں کچھ زیادہ ہی ہوا بھر گئی اور امریکہ نے اسے انڈو۔ پاک بریکٹ سے نکال کر انڈو۔ چائنا بریکٹ کا لالی پاپ دے دیا۔ میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ جس قوم نے کبھی اپنے وطنِ مالوف سے نکل کر باہر کا رخ نہ کیا ہو اس میں کسی عظیم حکمرانی کے اوصاف پیدا نہیں ہو سکتے۔ ہندو نے ہمیشہ اپنے ہندوستان کی چار دیواری کے اندر رہ کر بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔ وہ ایک دفاعی سورما ضرور تھا لیکن دفاع کرنے والے کا نقطہ ء نظر ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ اپنے محدود خطہ ء ارض سے باہر نکل کر کسی دوست دشمن پر حملہ آور ہونے کا شرف، ہندو کو کبھی حاصل نہ ہو سکا۔ اس لئے عالمی تاریخِ جنگ میں اسے کوئی ایسا بلند مقام نہیں دیا جاتا جو دوسری اقوام کو حاصل ہے۔ مسلمان، عیسائی، بدھ بلکہ سیکولر مذہب رکھنے والے روس کا بین الاقوامی سٹیٹس بھی ہندوستان کے ہندو کو نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش میں مصروف ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر کہا انڈو۔ چائنا بریکٹ کے مغربی جھانسے میں گرفتار ہے۔ وہ پاکستان کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا اور چین کا ہمسر بننا چاہتا ہے…… اور یہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔

مثلاً یہی دیکھ لیجئے کہ چین اگر امریکہ اور روس کی طرح خلا کی تسخیر میں ان کا ہم پایہ ہو رہا ہے تو بھارت بھی یہی سٹیٹس حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا بس چلے تو آج ہی کسی مرلی دھر اور کشن لال کو چاند پر اتار کر اپنا نام پانچوں سواروں میں لکھوا لے۔ اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اگر ایسا کرے گا تو پاکستان کا بھی کوئی رشید احمد اور غلام محمد چاند پر اتر چکا ہو گا۔ خلائی سائنس ایک الگ اور مشکل سائنس ہے اور اس کے لئے جس وژن اور جس اندازِ نظر کی ضرورت ہے وہ انڈیا کے کسی ہندو حکمران کو نہ ماضی میں میسر تھی اور نہ آج ہے۔

خلا کی تسخیر و تحقیق ایک ایسا موضوع ہے جس تک فی الحال امریکہ، روس اور چین کی رسائی ہے۔ ان تینوں ممالک نے چاند پر اپنی اپنی چاند گاڑیاں اتار رکھی ہیں اور امریکہ نے تو 1969ء میں اپنا ایک خلا باز (نیل آرمسٹرانگ) بھی چاند پر اتارا تھا۔ اور اس سے 12برس قبل روس نے 1957ء میں پہلا مصنوعی سیارہ (سپتنک) مدارِ ارضی میں بھیجا تھا۔ خلائی سفروں کی یہ داستان طویل ہے۔ لیکن حال ہی میں چین نے جب اپنی چاند گاڑی چاند کے اس ریوس رخ (حصے) پر اتاری جس پر آج تک نہ کسی امریکی اور نہ ہی روسی خلانورد / خلا باز نے ایسا کیا تھا تو بھارت کو بھی خارش ہونے لگی کہ کیوں نہ وہ بھی اس خصوصی کلب میں شامل ہو جائے۔ چنانچہ اس نے چاند پر اپنا مرلی دھر بھیجنے کا پروگرام بنایا اور اس مشن کا نام چندریان رکھا۔ پہلے سفر کو چندریان۔ ون کہا گیا اور مطلوبہ ساز و سامان کو اکتوبر 2008ء میں سری ہاری کوٹا سے ایک راکٹ پر رکھ کر خلا میں بھیجا گیا۔ سری ہاری کوٹا بھارت کی ایک مشرقی ریاست آندھرا پردیش کے ساحل پر ایک جزیرے کا نام ہے۔ سارے بھارتی میزائل اور یہ چندریان مشن وغیرہ وہیں سے لانچ کئے گئے۔ اس مشن کا مقصد چاند کے گرد چکر لگا کر اس کی سطح وغیرہ کا معائنہ کرنا تھا تاکہ اس پر بعد میں اپنی تیار کردہ چاند گاڑی اتاری جا سکے۔ یہ پہلا سپیس کرافٹ 8ماہ تک مدارِ قمر میں چکر لگاتا اور تصاویر وغیرہ اتار کر گراؤنڈ سٹیشن کو بھیجتا رہا اور پھر اسے زمین سے ایک ’آرڈر‘ کے ذریعے چاند کے قطبِ جنوبی پر ٹکرا کر ختم کر دیا گیا۔چاند کی سطح وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کے اس پروگرام کو ”انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن“ (ISRO) کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔ پھر 2009ء کے بعد دس برس تک انتظار کیا گیا اور ایک ایسی گاڑی تیار کی گئی جو سطحِ قمر پر اتر کر وہ سائنسی معلومات حاصل کر سکتی تھی جس کی بناء پر کسی پہلے ہندو کو چاند پر اتارا جا سکے۔

چونکہ زیرِ نظر موضوع پر یہ کالم ایک طرح کی اولین کوشش ہے اس لئے اگر بعض قارئین کو خشک یا بے کیف لگے تو اسے گوارا کیجئے۔ مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ بھارت، خلائی دوڑ میں کہاں کہاں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، کہاں اسے کامیابی ہو رہی ہے اور کہاں وہ ناکام ہو رہا ہے۔ اس چندریان مشن کا دوسرا مرحلہ دراصل چاند پر اپنی گاڑی اتار کر امریکہ، روس اور چین کی برابری کرنے کا دعویٰ تھا۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتا تو ویسی ہی ڈینگیں مارتا جو اس نے مئی 1998ء میں جوہری دھماکے کرکے ماری تھیں۔اگرآپ بھول نہ گئے ہوں تو یاد ہو گا کہ 11مئی 1998ء سے لے کر 27مئی 1998ء کے 18دن اس نے اپنے میڈیا پر پاکستان کے خلاف وہ ادھم مچایا تھا کہ خدا کی پناہ!…… اگر پاکستان 28مئی 1998ء کو پانچ دھماکے نہ کرتا تو بھارتی تکبر کا غبارہ نجانے کتنی بلندی پر جا پہنچتا۔ اور اسی طرح اگر چند ریان۔2کامیاب ہو جاتا تو بھارتی میڈیا پاکستان کو ایک ذرۂ حقیر سمجھنے لگتا اور پھر پاکستان کو بھی اپنا خلائی مشن مئی 1998ء کے دھماکوں کے تتبع میں خلا میں بھیجنا پڑتا۔ اب بھارت چندریان۔3پر کام کر رہا ہے۔ دیکھتے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لیکن اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیجئے کہ اگر امریکہ نے بھی اپنا کوئی خلا بازآج سے 50برس پہلے چاند پر اتارا تھا تو کیا تیر مار لیا تھا؟ آج شمالی کوریا اور افغانستان تو اس سے سنبھالے نہیں جا رہے، خلاؤں کی تسخیر کرکے وہ کون ساطرم خان بن گیا۔ کسی فارسی شاعر نے جب پہلا امریکی طیارہ 17دسمبر1903ء کو اڑتا دیکھا تھا تو سوال کیا تھا: ”کیا تو نے اپنے زمینی فرائض پورے کر لئے ہیں کہ آسمان کی جانب لپکنے لگا ہے؟“

تو کارِ زمیں را نکو ساختی

کہ با آسماں نیز پرداختی؟

بہرکیف بھارت کا چندریان۔ 2مشن 22جولائی 2019ء کو آندھرا پردیش کے جزیرے سری ہاری کوٹا سے لانچ کیا گیا۔ یہ خلائی جہاز ایک ماہ بعد 20اگست 2019ء کو چاند کے مدار میں پہنچ گیا اور چکر لگانے لگا۔ اس جہاز میں جو چاند گاڑی رکھی ہوئی تھی اسے ”وکرم لینڈر“ کا نام دیا گیا۔ وکرم وہ ہندو تاجر اور خلائی سائنس کا شوقین شہری تھا جس نے انڈیا کو پہلی بار خلائی تحقیق کی طرف متوجہ کیا۔ اسی لئے اس کے نام پر اس گاڑی کا نام ”وکرم لینڈر“ رکھا گیا۔ اس گاڑی نے 6ستمبر کو مدارِ قمر میں چکر لگانے والے جہاز سے الگ ہوکر چاند پر اتر جانا تھا۔ لیکن اس نے جب اترنا شروع کیا تو سطحِ قمر سے 2کلومیٹر پر پہنچ کر چاند کی کششِ ثقل کے زور سے اپنی رفتار پر قابو نہ رکھ سکی، سطح قمر سے جا ٹکرائی اور پاش پاش ہو گئی۔ سری ہاری کوٹا کے گراؤنڈ اسٹیشن پر اس ”لینڈنگ“ کی زبردست پذیرائی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ خود نریندر مودی اپنے خلائی سائنس دانوں کو شاباش دینے اور تین بڑوں (امریکہ، روس، چین) کی صف میں شامل ہونے کا اعلان کرنے کے لئے وہاں موجود تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا اور پنجابی محاورے کے مطابق ”نہاتی دھوتی رہ گئی تے اُتّے مکھی بہہ گئی“…… والی بات ہو گئی۔

لیکن اس کے بعد بھی بھارتی سائنس دانوں نے دعویٰ کر دیا کہ ”وکرم لینڈر“ پاش پاش نہیں ہوئی بلکہ ”ذرا زیادہ“ زور سے سطح قمر سے جا ٹکرائی ہے، اس لئے اس کا سگنل نظام ”عارضی طور پر“ناکارہ ہو گیا۔ راقم الحروف چونکہ مسلسل اس پروگرام کی میڈیا مانیٹرنگ کر رہا تھا اس لئے 7ستمبر 2019ء کو اس بھارتی ناکامی پر خوش ہو کر ”ایک محبِ وطن پاکستانی“ ہونے کا ثبوت دیا۔ لیکن جب بھارتی سائنس دانوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ چاند گاڑی (Vikram Lander) صحیح سلامت ہے اور سطح قمر پر دیکھی گئی ہے تو کچھ ”اداس سا“ ہو گیا لیکن 10دسمبر 2019ء کو جب انٹرنیٹ پر یہ خبر دیکھی کہ یہ چاند گاڑی چاند پر صحیح سالم اترنے کی بجائے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ہے تو یقین جانیئے، دل باغ باغ ہو گیا!

10دسمبر ہی کے ”دی نیویارک ٹائمز“ اخبار کے صفحہ 3پر کینتھ چانگ (Kennth Chang) اور اخبار کے دہلی کے نمائندے ہری کمار کی تفصیلی خبر پڑھنے کو ملی جس میں لکھا تھا: ”امریکہ کا ایک خلائی جہاز جو NASA کی طرف سے دس برس پہلے خلا میں بھیجا گیا تھا اور وہ چاند کے اردگرد چکر لگا کر سطح قمر کی تفصیلی سروے لینس کر رہا تھا، اس کے ہیڈکیمرہ آپریٹر، ڈاکٹر رابنسن نے بھارتی وکرم لینڈر کو صحیح سالم نہیں بلکہ کرچی کرچی ہو کر گرتے دیکھا ہے۔ اور اس کے یہ سارے ٹکڑے چاند کی سطح پر پڑے ہیں اور درجِ ذیل تصویر میں دیکھے جا سکتے ہیں“۔

اس کے ساتھ ہی اس خبر میں 4"x4" سائز کی ایک تصویر بھی شائع کی گئی ہے جس کا کیپشن ہے: ”یہ سطحِ قمر میں وہ جگہ ہے جہاں ”وکرم لینڈر“ کریشن ہوئی اور جس کے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھرے دیکھے جا سکتے ہیں“……

یہ کالم اس لئے بھی لکھ رہا ہوں کہ قارئین کو بتاؤں کہ ملکوں کی ”ہمسائگی کے اثرات“ کتنے دوررس ہوتے ہیں۔ یورپ ایک طویل عرصے تک افریقہ کی طرح ایک تاریک براعظم شمار ہوتا رہا۔ گزشتہ دو تین کالموں میں، یورپ کی تیس سالہ جنگ کی کچھ تفصیل لکھ چکا ہوں۔ سترہویں صدی کے وسط میں جب یورپی ممالک اس فضول سی جنگ میں ملوث ہو کر 80لاکھ جانوں کی قربانی دے چکے تھے تو ہندوستان میں دودمانِ مغلیہ کی شان و شوکت اور سطوت و عظمت اپنا عروج دکھا کر روبہ زوال ہونے لگی تھی۔ اورنگ زیب کی وفات 1707ء میں ہوئی اور جب یورپ میں (1648ء میں) 30سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا تو وہاں کے بعض ممالک اس فضول سی طویل جنگ کے اندھیروں سے گھبرا کر اپنے براعظم سے باہر نکل گئے تھے۔

چنانچہ برطانیہ، فرانس، پرتگال اور ہالینڈ وغیرہ نے 30سالہ جنگ میں حصہ لینے کے باوجود اپنے سواحل سے باہر نکل کر نئی دنیائیں دریافت کیں (امریکہ،آسٹریلیا وغیرہ) اور سونے کی چڑیا (ہندوستان) کو پانے کے نئے راستے دریافت کئے (واسکوڈے گاما وغیرہ) ان کی دیکھا دیکھی یورپ کے دوسرے ممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔اس کے برعکس براعظم ایشیاء میں ہمسائگی کے یہی اثرات تھے جنہوں نے ہندوستان کی مسلمان حکومتوں (سلاطینِ دہلی اور مغلوں) کو سواحلِ ہند سے باہر نکلنے نہ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ مغرب کی نشاۃ ثانیہ میں، سمندری اقوام (Sea-faring Nations) کا بڑا ہاتھ تھا لیکن ہندوستان کے سواحل بھی تو موجود تھے۔ یہاں کی بندرگاہیں (کراچی، بمبئی،مدراس، کلکتہ وغیرہ) بھی تو موجود تھیں۔ تو پھر ہندوستان کے مسلم حکمرانوں نے ایک ہزار برس تک (712ء تا 1707ء یعنی محمد بن قاسم کی آمد سے اورنگ زیب کی وفات تک) یورپ کی طرح سمندری قوم کا لقب کیوں نہ پایا؟ میرے خیال میں وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کا کوئی راجہ، نواب، سلطان، بادشاہ یا شہنشاہ ہندوستانی بندرگاہوں سے باہر نکل کر بحرہند کے پانیوں سے ورے بحرالکاہل اور بحرِ اوقیانوس تک نہ گیا۔ اگر کوئی ایک حکمران بھی ایسا کر دیتا تو ”ہمسائگی کے اثرات“جو متعدی ہوتے ہیں، دور دور تک پھیل جاتے۔

آج بھی دیکھ لیجئے۔ یورپ کی ٹیکنالوجیکل ترقی میں ہمسائگی کے یہی اثرات اندھوں کو نظر آ رہے ہیں۔ لیکن الحمدللہ اب جنوبی ایشیاء میں بھی کچھ کچھ اجالا ہو رہا ہے۔ پہلے انڈیا نے جوہری بم بنایا اور اس کے ہمسائے پاکستان نے بھی یہی کچھ کیا اور اس کے ہمسائے ایران نے بھی یہی کچھ کرنے کی کوشش کی۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آج نہیں تو کل ایرانی جوہری بم بھی بن جائے گا۔ پاکستان اور انڈیا کی طرح ایران نے بھی میزائل اور ڈرون سازی میں قدم رکھ دیا ہے۔ اور اگر انڈیاکا چندریان مشن آج فیل ہو گیا ہے تو کل ’پاس‘ بھی ہو جائے گا اور ”حقِ ہمسائگی“ کے طفیل کل پاکستان کی کوئی چاند گاڑی بھی سطحِ قمر پر اتر جائے گی۔ اس کی کوششیں ہو رہی ہیں اور واقفانِ حال جانتے ہیں کہ پاکستان کا ”قمری مشن“ بھی چاند سے زیادہ دور نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -