کوٹ ادو‘بونس ہضم ہونے پر مزدوروں میں بے چینی

  کوٹ ادو‘بونس ہضم ہونے پر مزدوروں میں بے چینی

  

کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر) پنجاب حکومت ورکرپارٹی پرا فٹ سپیشن فنڈ کا بل منظور کرنے سے گریزاں ہے سیکرٹری لیبرکی ورکرز کے استحصال پر خاموشی سوالیہ نشان ہے اس بارے اوجی ڈی سی ایل، کیپکو،پارکو،شوگر ملز کے(بقیہ نمبر44صفحہ12پر)

ملازمین عابد حسین شاہ،محمد ناصر،محمد ربنواز،محمد اقبال،محمد سجاد،محمد عدنان نے کہا ہے کہ صوبائی خودمختاری مزدوروں کیلئے عذاب بن گئی، حکومت پنجاب کی عدم دلچسپی، مزدوروں کے حقوق کی قانون سازی میں تاخیرسے سینکڑوں مزدور بونس سے محروم ہو گئے ہیں جسکی وجہ سے مزدوروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ سیکرٹری لیبر سارہ اسلم کی خاموشی بھی سمجھ سے بالا تر ہے،انہوں نے کہا کہ ان اہم صنعتی اداروں میں عرصہ دراز سے ہزاروں مزدور ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں، ان مزدوروں کو ہر سال چار بنیادی تنخواہوں کے برابر ورکر پرافٹ فنڈ (WPPF) بونس دیا جا رہا تھا لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے صوبوں کو خود مختاری دینے کے بعد مزدوروں کا بونس بند ہو گیا ہے،صوبائی مختاری مزدوروں کے لئے عذاب بن گئی ہے،حکومت پنجاب عدم دلچسپی کی بناء پر مزدوروں کے حقوق کی قانون سازی تاخیر ہو رہی ہے، قانون سازی نہ ہونے کے سبب سینکڑوں مزدور بونس (WPPF) سے محروم ہیں جس کی بناء پر مزدوروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5سال تک پنجاب حکومت نے لیبر کے حقوق دباتے ہوئے ان کا استحصال کیا اب جبکہ موجودہ پنجاب حکومت بھی ورکرپارٹی پرا فٹ سپیشن فنڈ کا بل منظور نہیں کرا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ سالانہ بونس نہ ملنے کی بناء پر سینکڑوں مزدور معاشی مشکلات سے دو چار ہو رہے ہیں اور انہیں شدیدمالی مشکلات کا سامنا ہے۔

ہضم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -