لاہور واقعہ‘ گرفتاریاں‘ مختلف شہروں میں وکلاء کی ہڑتال‘ اہم معاملے پر مشاورت شروع

  لاہور واقعہ‘ گرفتاریاں‘ مختلف شہروں میں وکلاء کی ہڑتال‘ اہم معاملے پر ...

  

ملتان‘بہاولپور‘ اوچشریف‘ مظفر گڑھ‘ لیاقت پور (خبر نگار خصوصی‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر‘ نامہ نگار‘ نمائندہ پاکستان) لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان تنازعہ کا معاملہ پر پنجاب بار کونسل کی کال پر ملتان ڈسٹرکٹ بار میں بھی وکلاء نے مکمل ہڑتال کی اور کچہری کی حدود میں باوردی پولیس اہلکاروں کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا تھا۔جس کے باعث حوالاتیوں اور گرفتار ملزمان کو پولیس نے عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔جبکہ وکلاء بھی مقدمات کی سماعت کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور سینکڑوں مقدمات کی سماعت(بقیہ نمبر30صفحہ12پر)

ملتوی کردی گئی اور سائلین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صدر ڈسٹرکٹ بار محمد ناظم خان نے کہا ہے کہ پنجاب بار کونسل کی کال پر پولیس اہلکاروں کے باوردی داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران سے درخواست کی کہ امن و امان کی صورتحال کو قائم رکھنے کے لئے بار کا ساتھ دیں۔گرفتار وکلاء پر درج مقدمات فوری خارج کئے جائیں، لاہور واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے واقعہ کے ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ ہائیکورٹ و ڈسٹرکٹ بار کے صدور اور جنرل سیکرٹریز لاہور میں ہونے والے ڈاکٹر اور وکلاء کے مابین تنازع پر وکلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون الرشید شیخ سے ملاقات کے لیے لاہور روانہ ہوگئے ہیں جس میں مذکورہ معاملہ کے علاوہ دیگر اہم امور پر مشاورت کی جائے گی۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان نے لاہور کے ڈاکٹرز کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیز ویڈیو وائرل کرنے اور وکلاء کی گرفتاریوں کے خلاف آج مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔اس ضمن میں جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار ملتان میاں ارشد وقاص چھجڑا کے مطابق 11 دسمبر کو لاہور میں سرکاری اداروں کی عدم کارروائی و توجہی کی بنا پر ڈاکٹر عرفان کی جانب سے ڈاکٹرز کے جلسہ میں بنائی گئی اشتعال انگیز ویڈیو کے وائرل ہونے کے نتیجے میں وکلاء نے احتجاج کیا اور ان کے پر امن احتجاج کو سبوتاڑ کرنے کی کوششیں کی گئی ہے جبکہ وکلاء پر بہیمانہ تشدد آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ وکلا کی گرفتاریوں کی ہائیکورٹ بار شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار وکلا کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس ضمن میں ہائیکورٹ ملتان بنچ میں آج 17 دسمبر کو مکمل ہڑتال کی جائے گی اور وکلاء مقدمات کی پیروی کیلئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ لاہورمیں ہونیوالے وکلا پرتشدد اوران کی گرفتاریوں کیخلاف بہاولپوربارایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی جنرل ہاؤس کااجلاس منعقدہواجس کی صدارت صدربہاولپوربارایسوسی ایشن میاں محمداظہر ایڈووکیٹ نے کی جبکہ سیکرٹری کے فرائض شیراز احمدبری نے انجام دیئے صدربہاولپوربارایسوسی ایشن میاں محمداظہرنے اپنے خطاب میں کہاکہ پنجاب بارکی ہدایت پربہاولپورباراسوقت تک ہڑتال جاری رکھے گی جب تک لاہورکے وکلا پرجھوٹے مقدمات ختم نہیں کیے جاتے اورانہیں رہانہیں کیاجاتاانہوں نے ڈاکٹرگردی اورپولیس گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آئین اورقانون کی بات کرنے والے وکلاکوجاسوسوں کی طرح چہرے ڈھانپ کرعدالت میں پیش کیاگیا پنجاب بار کونسل کی کال پر احمد پور شرقیہ بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے بھی غیر معائنہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش ہونے کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور پولیس اہلکاروں کا وردی میں داخلے پر بھی پابندی کا اعلان کیا کوئی بھی پولیس اہلکار پولیس وردی میں داخل نہیں ہو گا,وکلا کی ہڑتال پر عدالتوں میں آئے سائلین رل گئے ہیں انہوں نے حکومت سے لاہور میں ڈاکٹروں اوروکلا کے درمیان ہونے والے تنازع کو ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے,سائلین نے پنجاب بار کونسل اوراحمد پور شرقیہ بار ایسوسی ایشن سے ہڑتال کی کال واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مظفرگڑھ نے لاہور میں ڈاکٹروں اور پولیس کی جانب سے وکلاء پر تشدد کرنے کے خلاف اور واقعہ لاہور میں وکلاء سے اظہار یک جہتی کے لئے پنجاب بار کونسل کی اپیل اور فیصلے کے مطابق پیر کو فل ڈے ہڑتال کی اور ایوان عدل اور بار روم کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا. وکلاء نے ڈاکٹرز اور پنجاب پولیس کے خلاف بار روم سے کچہری چوک تک احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی. وکلاء اور بار عہدے داران صدر بار مہر اعجاز احمد, جنرل سیکرٹری ظفر اقبال انصاری, ممبران پنجاب بار کونسل جام محمد یونس,سید منصور احمد شاہ, ملک جنید وجدانی, میاں محمد ارشد بھٹی, شہباز احمد خان, ملک صفدر حسین پہوڑ, راؤ یاسر علی خان, رانا امجد علی امجد, سردار اللہ نواز,زبیر سہرانی,حارث خان, مظہر حسین, ارشد ڈب, آزاد بخت خان, مہر عمر بن غفور,ارشد نعیم, ملک شفیق ملانہ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے وکلاء پر تشدد کیا.جو قابل مذمت ہے.حکومت وکلاء کے خلاف مبینہ سازش کر رہی ہے. وکلاء سے پولیس گردی اور ڈاکٹرز گردی عروج پر ہے. جو اب برداشت نہیں کی جائے گی. وکلاء نے صبح ایوان عدل کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا. جبکہ ضلعی انتظامیہ نے پولیس کی نفری کو ضلع کچہری اور جوڈیشل کمپلیکس مظفرگڑھ سے واپس بلا لیا اور ان کو ہٹا لیا گیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو. پیر کے روز کوئی پولیس اہلکار جوڈیشل کمپلیکس اور ضلع کچہری مظفرگڑھ میں ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی باوردی اہلکار سیکورٹی کی ڈیوٹی پر تھا. جبکہ پولیس نے جیل سے حوالاتیوں کو بھی عدالتوں میں پیش نہیں کیا. وکلاء کی ہڑتال کے باعث سول و فوجداری مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ پنجاب بار کونسل کے فیصلہ پر لیاقت پور بار میں بھی وکلاء نے غیر معینہ مدت کے لئے مکمل ہڑتال جاری رکھی اور کوئی وکیل کسی عدالت میں پیش نہیں ہوا جس کی وجہ سے سائلین پریشانی میں مبتلا رہے صدر بار قاری سعید احمد اور جنرل سیکرٹری محمد احمد خان چانڈیہ کی طرف سے کچہری کے مین گیٹ پر یہ پینا فلکس بھی اویزاں کیا گیا ہے کہ کوئی پولیس مین سرکاری وردی پہن کر عدالت میں داخل نہیں ہو گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -