بھارت کی فوج کشی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنی، پروفیسر رفیق احمد

  بھارت کی فوج کشی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنی، پروفیسر رفیق احمد

  

لاہور(لیڈی رپورٹر) 16دسمبر 1971ء ہماری قومی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے کیونکہ اس دن کلمہ طیبہ کی بنیادپرمعرضِ وجود میں آنے والی یہ مملکتِ خداداد دو لخت ہوگئی۔ اس سانحہ کے محرکات پر نگاہ ڈالیں تو ہمارے ازلی دشمن بھارت کا کردار سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں آج کے دن یہ عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سالمیت پر کبھی آنچ نہ آنے دیں گے ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پس منظر میں منعقدہ فکری نشست بعنوان ”سقوط ڈھاکہ۔محرکات واسباب“کے دوران کیا۔ اس نشست کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیاتھا۔ نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔انہو ں نے کہا بھارت نے مشرقی پاکستان میں فوج کشی کی جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بڑا سبب بنی۔پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا اور تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔ کرنل(ر) زیڈ آئی فرخ نے کہا کہ میں سقوط ڈھاکہ کا عینی شاہد ہوں اس سانحہ پر کسی کو مطعون ٹھہرانے کے بجائے ہر ایک کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہئے۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ زندہ قومیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرتی ہیں اور جو ایسا نہیں کرتیں‘ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ پروفیسر سیف اللہ خالد نے کہا کہ بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں بنگلہ دیش کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنا سقوط ڈھاکہ سے قبل تھی۔بریگیڈیئر(ر) لیاقت علی طور نے کہا یہ درست ہے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی تاہم یاد رکھیں کہ بعض مسائل جنگ کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔قیوم نظامی نے کہا کہ جنگ ستمبر1971ء اور سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے دشمن کی جانب سے بہت پراپیگنڈا کیا گیا تاہم بھارتی مصنفہ سرمیلا بوس نے اپنے ہی ملک کے پراپیگنڈہ کواپنی ایک کتاب کے ذریعے بے نقاب کیا۔ ایثار رانا نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ ہمارے اپنے رویے تھے، نا اہل قیادت کی وجہ سے بنگلہ دیش بن گیا۔ پروفیسر عثمان صدیقی نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ اچانک رونما نہیں ہو گیا بلکہ یہ مسلسل سلگتی ہوئی چنگاریوں کانتیجہ تھا۔ اندرونی و بیرونی سازشوں نے پاکستان دولخت کر دیا۔شاہد رشید نے کہا کہ مشرقی پاکستان کو ہم سے علیحدہ کرنے میں بھارت اپنے کردار کو تسلیم کرتا ہے،بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ مکتی باہنی ہم نے بنائی تھی۔اس موقع پر بریگیڈیئر (ر) لیاقت علی طور، قیوم نظامی، احمر تاثیر انور اور نواب برکات محمود سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات بڑی تعداد میں موجود تھے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -