ملکی ترقی کیلئے صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے، شوکت علی یوسفزئی

ملکی ترقی کیلئے صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے، شوکت علی یوسفزئی

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے صنعتوں کو ترقی دینا ہو گی 20 سالوں تک دہشتگردی کا شکار ہونے کی وجہ سے صنعتوں کو نقصان پہنچا۔ صنعتوں کو ویلنگ سسٹم کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرینگے۔ افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تورخم بارڈر 24/7 کھولا سکل ورکرز میں اضافے کے لیے فنی تعلیم عام کرنا ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی سی ہوٹل منعقدہ تقریب پراونشل سٹیک ہولڈرز کنسلٹیشن آن انڈسٹریل پالیسی فار سسٹین ایبل اکنامک ڈویلپمنٹ سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صنعت عبدالکریم، سابق صوبائی وزیر حاجی محمد جاوید، زکی احمد خان، سید نظر علی، سید لیاقت باچا، عبدالقادر اور دوسرے ممتاز صنعت کاروں نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے صوبے کے صنعتوں کو بہت نقصان پہنچا تھا صوبے سے انویسٹر چلے گئے تھے۔ امن وامان کے قیام کے بعد صنعتکاروں کو انویسٹ کرنے کا اعتماد دوبارہ دلایا جو آسان کام نہیں ہے صنعتوں کی ترقی کے لیے ویلنگ سسٹم پر سستی بجلی فراہم کرینگے آئی پی پیز کی مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتکاروں کو نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن آنے والا ہے حکومتی اقدامات کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں بہتری آرہی ہے سینٹرل ایشیا کے مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تورخم بارڈر 24/7 کھولا جس کے ثمرات انا شروع ہو گئے ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کے لیے صنعتی انقلاب لانا ایک چیلنج ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو سابق حکومتوں سے بجلی 1250 ارب روپے، گیس 154 ارب روپے اور پی آئی اے 375 ارب روپے خسارے میں ملے۔ اداروں کے خسارے ختم کیے بغیر ترقی ناممکن ہے وزیراعظم عمران خان کے صحیح فیصلوں کی وجہ سے ملک صحیح راستے پر چل پڑا ہے سابق حکومت سے حساب مانگے تو کہتے ہیں کہ 24 ہزار ارب روپے سے موٹر وے بنایا عوام کو کرپٹ لوگوں سے احتساب لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سکل ورکرز بڑھانے کے لیے فنی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ ملکی ترقی کے لیے ان کا کردار اہم ہے، ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پلاسٹک بیگز پر پابندی لگائی جس سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا آلودگی اور بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا جس کے لیے قربانی دینا ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -