امراض قلب کے ہسپتال پر حملہ ذمہ داران کو سزا مل پائے گی ؟

امراض قلب کے ہسپتال پر حملہ ذمہ داران کو سزا مل پائے گی ؟

  

یہ بات ہے 11دسمبر کی جب لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 4 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔ کئی مریض تشویش ناک حالت میں تھے اور وکلا کی جانب سے ایمرجنسی وارڈز میں گھسنے کے بعد انہیں طبی امداد بھی نہ مل سکی۔.وکلا نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملہ کیوں کیا؟ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب تقر یباً ایک ماہ قبل کچھ وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی میں ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کے لیے گئے، جہاں مبینہ طور پر قطار میں کھڑے ہونے پر وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔اسی دوران وکلا اور ہسپتال کے عملے دوران تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر وہاں موجود وکلا پر تشدد کیا گیا۔مذکورہ واقعے کے بعد دونوں فریقین یعنی وکلا اور ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، بعد ازاں ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔اس مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کریں، تاہم پہلے ان دفعات کو شامل کیا گیا بعد ازاں انہیں ختم کردیا گیا۔جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ واقعے پر معافی مانگ لی گئی اور معاملہ تھم گیا۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر قانون کے رکھوالے وکیلوں نے خود قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا، وکلا کے پی آئی سی پر حملے کے باعث خاتون سمیت 4 مریض انتقال کرگئے۔بعد ازاں ڈاکٹرز کی دوسری ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ڈاکٹروں نے وکلا کا مذاق اڑایا، یہ ویڈیو وائرل ہونے پر وکیلوں کو غصہ آگیا۔وکیلوں نے سائبر کرائم سیل میں شکایت کرنے کے بجائے ہسپتال پر ہی دھاوا بول دیا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وکلا نے دو بارہ وائرل ہونے والی ویڈیو کو حملے کا جواز بنایا ہے۔ان کے وحشیانہ حملے کی ایک وجہ اگلے ماہ ہونے والے لاہور بار کے الیکشن بھی ہیں۔توڑ پھوڑ،مارکٹائی،جلاؤ گھیراؤ کے علاوہ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہسپتال میں داخل چار مریض طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے دم تور گئے، جاں بحق ہونے والوں میں سے ایک غریب محنت کش محمد بوٹا بھی تھا۔بوٹا اپنے گھرکا واحد کفیل تھا، تاہم اب اس کے 9 بچے اور بیوہ شدت غم سے نڈھال ہیں اور ان کے آنسو ہیں کہ تھم نہیں پا رہے۔غریب بوٹا کے بچے کہتے ہیں کہ اگر وکلاء ہسپتال پر حملہ نہ کرتے تو آج وہ یتیم نہ ہوتے۔لاہور وکیلوں کے حملے میں جاں بحق محنت کش کے لواحقین غم سے نڈھال پی سی آئی میں وکلا کی ہنگامہ آرائی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے محمد بوٹا کی بیوہ کی آنسوں کی جھڑی رک نہیں پا رہی۔بوٹا کی بیوی منظوراں بی بی کا کہنا ہے کہ وکلا کی ہنگامہ آرائی نے مریضوں پر ظلم اور بے حسی کا جو پہاڑ توڑا اس نے انہیں تنہا کردیا۔منظوراں بی بی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹروں اور وکیلوں کا جھگڑا تھا تو مریضوں سے بدلہ کیوں لیا گیا۔اپنے باپ کی محبت میں بے قرار مریم زارو قطار روتے سراپا سوال ہے کہ انکا کیا قصور تھا اور انہیں کس چیز کی سزا دی گئی جبکہ محمد بوٹا کے بیٹے نے بتایا کہ پی آئی سی میں والد کا علاج جاری تھا وکلا نے اس میں روکاٹ ڈالی جو ہمارے باپ کی جان لے گیا۔محمد بوٹا کے اہل خانہ نے ارباب اختیار سے ہنگامہ آرائی کے مرتکب افراد کے لیے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی کا ہنستا بستا گھر اس طرح اجڑنے سے محفوظ رہے۔اسی طرح دل کی ایک اور مریضہ خاتون انتقال کرگئی۔بتایاگیا ہے کہ وکلاء کی جانب سے جب اچانک پی آئی سی پر دھاو ا بول دیاگیا جس کے باعث ہسپتال کا سارا عملہ غائب ہوگیا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث طبی امداد نہ ملنے پر علاج معالجے کیلئے پی آئی سی میں داخل ہونے والی غازی آبادی کی رہائشی خاتون گلشن بی بی انتقال کر گئی۔ گلشن بی بی کے بیٹے عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز میری والدہ ہسپتال میں داخل ہوئی تھیں اور وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے باعث میری والدہ کی طبیعت مزید خراب ہوگئی جس پر ان کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا لیکن ڈاکٹرز نہ ہونے کے باعث میری والدہ انتقال کرگئیں۔ہماری وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب سے پر زور اپیل ہے کہ ہماری والدہ کی موت کے زمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انھیں قرار واقعی سزا دی جا ئے۔

واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب وکلا نے الزام عائد کیا کہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ینگ ڈاکٹرز وکلا کا مذاق اڑا رہے تھے جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔تاہم ڈاکٹر کے مطابق وکلا کا ایک گروپ انسپکٹر جنرل پولیس کے پاس گیا تھا اور انہیں کہا تھا کہ 'دو ڈاکٹرز' کے خلاف اے ٹی اے کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ان کے بقول آئی جی نے اس معاملے پر انکار کردیا۔بعد ازاں وکلا کی بڑی تعداد 'ویڈیو' کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے پی آئی سی کے باہر جمع ہوئی، یہ احتجاج پرتشدد ہوگیا اور وکلا نے پہلے ہسپتال کے داخلی و خارجی راستے بند کردیے۔رپورٹس کے مطابق مظاہرین ہسپتال کے گیٹ توڑتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگئے، وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے اس کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں سے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔ہنگامہ آرائی کے باعث کچھ مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکے جبکہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وکلا کی جانب سے ہسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی جانب بھی پیش قدمی کی گئی جبکہ ہسپتال کے کچھ عملے کی جانب سے بھی وکلا پر تشدد کیا گیا۔ہسپتال پر دھاوے، توڑ پھوڑ کے باعث اپنی جان بچانے لیے عملہ فوری طور پر باہر نکل گیا۔یہی نہیں بلکہ مشتعل وکلا نے میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے رپورٹنگ اور فوٹیج کے لیے وہاں پر موجود پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا کے رپورٹرز اور کیمرہ مین زخمی ہو گئے میڈیا کے کئی ایک نمائندوں سے موبائل فون بھی چھین لیے گئے۔ بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری کافی تاخیر سے موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی۔ پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔پولیس نے کچھ وکلا کی کو گرفتار کرلیا، جس پر وکلا نے سول سیکریٹریٹ کے اطراف کی سڑک کو بند کردیا۔جائے وقوع پر صورتحال کے پیش نظر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان بھی ہسپتال پہنچے، تاہم ان پر بھی مشتعل افراد جو بظاہر وکلا نظر آرہے تھے انہوں نے تشدد کیا۔مذکورہ معاملے کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں فیاض الحسن چوہان پر تشدد اور انہیں بالوں سے پکڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ 'وکلا نے انہیں اغوا' کرنے کی کوشش کی۔ اس سانحہ کے فوری بعد آئی جی پولیس پنجاب نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں پنجاب بالخصوص لاہور کے وکلاء کے خلاف کر یک ڈاؤن کر نے کا حکم دیا۔اجلاس میں سی سی پی او لاہور،ڈی آئی جی آپریشن اور دیگر پولیس افسران بھی شامل تھے اجلاس کے بعد سی سی پی او لاہورکی ہدایت پر شہر بھر میں تمام ایس ایچ اوز کو فوری طور پر اپنے اپنے تھانے پہنچ کر ا اپنے علاقے میں رہائش پزیروکلاء کی ہر صورت گرفتاریوں کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا جس کے بعد ایس ایچ اوز نے سیڑھیاں منگوا کر کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔آخری اطلاع آنے تک کریک ڈاؤن جاری تھا۔کئی ایک وکلاء نے گرفتاریوں کی اطلاع ملنے کے بعد روپوشی اختیار کر لی ہے جبکہ کئی وکلا کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔38وکلاء کوانسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کے بعدجیل بھجوایا جا چکا ہے جبکہ 7وکلا ء کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔اس واقعہ کو سر زد ہو نے سے قبل پلاننگ کیوں نہ کی گئی پی آئی سی پر حملے سے قبل وکلاء کو روکا کیوں نہیں گیاانھیں روکنے کی زمہ داری ہماری پو لیس فورس کی تھی جب بھی کوئی شہر میں اس طرح کا بڑا واقعہ پیش آتا ہے ہماری پولیس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں ان میں فیصلے کی ہمت نہیں رہتی پو لیس کی جگہ فوج کے صرف چار جوان ہی پی آئی سی گیٹ پر موجود ہوتے تو کسی کو ہسپتال پر حملہ آور ہونے کی جرات نہ پڑتی۔پو لیس اب ایک ادارے کی حیثیت کھو چکی ہے۔چھوٹے چھوٹے ہنگاموں یا کو ئی بھی حساس معاملہ ہو ہمیں پاک فوج کے جوانوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔اس وقوعہ کے اصل زمہ داران لاہور پولیس کے سر براہان ہیں، انھیں ہٹا کر ان کی فائلوں میں لکھ دیا جا ئے کہ یہ کبھی بھی فیلڈ پو سٹنگ کے قابل نہیں ہیں کبھی بھی دوبارہ اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آئے گا ورنہ سانحہ ماڈل ٹاؤن،سانحہ ساہیوال،سانحہ رحیم یار خاں اور اب سانحہ پی آئی سی جیسے واقعات روکے نہیں جا سکیں گے۔ایسے واقعات کی زمہ داری حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے جن کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔پتہ چلا ہے کہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے پولیس افسران کی سرزنش کی ہے۔ پیارے راجہ صاحب سرزنش سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔یہ تو بڑی لا بنگ کے بعد آئے ہیں، یہ تو وہ آفیسر ہیں جنہیں ہر حکومت میں نوکری کرنے کا فن آتا ہے۔ اسی لیے تو لاہور پولیس کے افسران نے وزیر اعظم کے بھانجے حسان نیازی کے خلاف اجازت نہ ملنے تک مقد مہ درج نہیں کیا تھا۔اب وہ اسے پکڑنا بھی نہیں چاہتے چھاپے بھی صرف میڈیا کو دکھانے کے لیے مارے جا رہے ہیں۔وزرانے بھی ایک بیان جاری کرکے اپنی زمہ داری پوری کردی ہے کہ جنہوں نے ظلم کیا ہے انہیں معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں امراض قلب کے ہسپتال میں ایسا واقعہ ناقابل برداشت ہے۔

ہماری پولیس کا یہ عالم ہے کہ صوبائی حکومت نے لاہور میں کشیدہ حالات کے پیش نظر رینجرز کو غیر معینہ مدت کے لیے طلب کر رکھا ہے۔شہر میں رینجرز کی تعیناتی سے متعلق وزارت داخلہ سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ رینجرز کی 10 پلاٹون شہر کے مختلف مقامات گورنر ہاؤس، پنجاب اسمبلی، جی پی او چوک، پنجاب سول سیکریٹریٹ، ایوان عدل، سپریم کورٹ آف پاکستان، لاہور ہائی کورٹ، آئی جی آفس اور پی آئی سی میں تعینات رہیں گی جبکہ 2 کمپنیاں بیک اَپ میں ہوں گی۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کررکھی ہے۔سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ پی آئی سی حملے کو سات روز گزر گئے ہیں آوٹ ڈورمیں مریضوں کا تاحال علاج معالجہ شروع نہیں ہو سکا یہ غریب طبقے کا ہسپتال ہے یہاں صوبہ پنجاب سے ہی نہیں دیگر صوبوں سے بھی غریب اور امراض قلب کے لو گ علاج معالجے کے لیے پہنچتے ہیں جو ہسپتال میں وکلاء کے ہنگامے کے بعد سخت پر یشان ہیں ہسپتال کی انتظامیہ کو تین روز تک تو ایمر جنسی کو بھی بند رکھنا پڑا۔اس سانحہ کے پیش نظر پی آئی سی ہی نہیں پنجاب کے دیگر تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سے اظہار ہمدردی میں ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے غریب اور لا چار عوام سخت مایوسی اورپر یشانی کا شکار ہیں۔دوسری جانب وکلاء سے اظہار ہمدردی میں پنجاب بھر کی وکلاء تنظیموں نے ہڑ تال کی کال دے رکھی ہے جس سے جیلوں میں قید اور دیگر مقد مات میں ملوث شہر یوں کو ضمانتوں کے حوالے سے سخت پر یشانی لا حق ہے،ایک طرح سے عدالتوں کاکام بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اوروکلاء کے ساتھ کام کرنے والا منشی طبقہ بھی اس صورتحال سے خاصا پریشان ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -