18دسمبر: تارکین وطن کا عالمی دن۔۔۔۔۔۔

18دسمبر: تارکین وطن کا عالمی دن۔۔۔۔۔۔

  

ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

اپنے ملک یا گھر سے دور رہنا کسی بھی شخص کے لئے آسان کام نہیں ہے کیونکہ جو سہولیات ہمیں اپنے ملک میں رہ کر میسر آتی ہیں وہ دیار غیر میں میسر نہیں آسکتیں۔ایسے لوگ جو بوجہ مجبوری یا بسلسلہ روزگار اپنا ملک چھوڑ کر کسی اور ملک میں جا بسے ہیں انہیں ہم تارکین وطن یا مہاجرین کہتے ہیں۔اقوام متحدہ نے 4دسمبر 2000ء میں مہاجرین کی بڑھتی تعداد کی پیش نظر ہر سال 18دسمبر کو بین الاقوامی مہاجرین کا دن منانے کا اعلان کیا،جس کے بعد سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں بین الاقوامی مہاجرین کا عالمی دن 18دسمبر کو منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق دنیا میں 2کروڑ 10لاکھ پناہ گزینوں کا تعلق تین ممالک شام، افغانستان اور صومالیہ سے ہے۔جس کے سبب لاکھو ں کی تعداد میں مسلمان،اسلام کے نام پر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے،حلب کی جاری خانہ جنگی میں حالیہ دنوں 90فیصد آبادی ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی۔افغانستان میں 40سال سے مہاجرین کا مسئلہ اقوام متحدہ حل نہیں کراسکی اور روس کی مداخلت کو روکنے کے لئے پاکستان کو امریکہ نے ساتھ ملا کر افغانستان میں طویل جنگ لڑی،جس کے نتیجے میں دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین پاکستان میں آئے اور ان کی دو نسلیں اب تک یہاں جوان ہو چکی ہیں۔روس کی شکست کی بعد افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا۔لیکن یہاں مجاہدین کے متحارب گروپوں کی آپس کی خانہ جنگی میں افغان عوام اپنے ملک نہیں جا سکے اور ان کی بڑی تعدادایران میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ایران نے پاکستان کے مقابلے میں افغان مہاجرین کو شہروں سے دور کیمپوں کی حد تک محدود رکھا اور گیارہ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو ایران میں پاکستان کی طرح آزادی نہیں دی گئی۔پاکستان میں 40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین نے پاکستان کوافغانستان میں تبدیل کر دیااور پاکستان کے بڑے شہروں میں اس طرح آباد ہو گئے۔کرۂ ارض پر پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے انسا نی تاریخ میں پہلی مرتبہ مہاجرین کی ایک کثیر تعداد کو ایک طویل عرصہ تک اپنے دامن میں جگہ دی اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں ایک عزیز مہمان کی طرح پروٹوکول دیا کمیونزم کے خونی پنجوں سے تحفظ کیلئے،بہترین پناہ گاہیں فراہم کیں تعلیم وصحت کی سہولتیں دیں اور ان کے ہر قسم کی ضروریات کی تکمیل کی پاسداری کی افغانستان پر روسی یلغار کے دوران اور بعداز جنگ سر زمین پاکستان اور بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا نے جس طرح افغان مہاجرین کی خدمت کی وہ ایک یکتاتاریخی مثال بن گئی ہے۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے اور سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو کھپانے کا جو ریکارڈ پاکستان رکھتا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔اگرچہ ان مہاجرین کی وجہ سے قومی معیشت شدید دباؤ میں ہے لیکن پاکستان نے انہیں کبھی زبردستی افغانستان دھکیلنے کی کوشش نہیں کی۔ دنیا کاکوئی ملک بھی تارکین وطن،مہاجرین یا پناہ گزینوں کو اتنی سہولتیں نہیں دیتا اور نہ ہی انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے۔پاکستان نے انصار مدینہ کا کردار ادا کرتے ہوئے مہاجرین کو گلے سے لگایااور ان کو اپنے کاروبار، رہائش اور خوراک میں برابر کا حصہ دار بنایا۔پاکستان نے تقریباً پچاس سے ساٹھ لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر کے نیک نامی تو کمائی مگر دوسری جانب اسی بناء پاکستان پر طالبان کے محفوظ پناہ گاہ بننے کے الزامات بھی لگے جو ہمارے بارے میں منفی تاثرات کا باعث بھی بنے یہ صورت حال اب تک جاری ہے اس صورت حال پر غور کرنے اور صورتحال میں تبدیلی لانے کے اقدامات پر غور کی ضرورت ہے۔پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 1660کلو میٹر ہے جس میں آمد و رفت روکنے کے حوالے سے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ قتل، ڈکیتی اغواء برائے تاوان اور کار چوری جیسی واردات میں افغان مہاجرین کے جرائم پیشہ عناصر کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کے باوجود وفاقی حکومت لاکھوں افغان مہاجرین کی بلا جواز مہمانداری کو جاری رکھے ہوئے ہے۔جبکہ پڑوسی ملک ایران میں افغان مہاجرین کو شہروں سے باہرکیمپوں تک محدود رکھا گیا اور کیمپ سے باہر جانے کیلئے ان کو اجازت ناموں کا پابند بنایا گیاہے۔بڑے مہاجرین کے ممالک میں اب سوڈان بھی شامل ہو گیا ہے۔جہاں سے اب تک 10لاکھ سے زائد افراد ہجرت کر چکے ہیں اقتدار کے لئے لڑی جانے والی خانہ جنگی کے سبب یوگنڈا،ایتھوپیا اوردوسرے افریقی ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔اقتدار کے لئے اس جنگ نے خانہ جنگی کی صورتحال اختیار کر لی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ صرف گزشتہ سال کے دوران عالمی سطح پر10.3ملین لوگ بے گھر ہوئے،جن میں سے34لاکھ انسانوں نے بین الاقوامی سرحدیں عبور کرکے دوسرے ممالک میں مہاجرت اختیار کی۔ان کی اعداد وشمار کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہر تین سیکنڈ بعد ایک انسان مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔72برس قبل فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے لے کر اب تک 5.3ملین فلسطینی بھی دوسرے ممالک میں بطور مہاجر رہنے پر مجبور ہیں جبکہ امریکی تھنک ٹینک پیور ریسرچ سینٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ سے بھی زیادہ تارکین وطن بھارت میں موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں 11لاکھ کے قریب پاکستانی،32لاکھ بنگلہ دیشی 5لاکھ 40ہزار نیپالی جبکہ ایک لاکھ 60ہزار سری لنکن بھی موجود ہیں۔ان کے مطابق بھارتی تارکین وطن کی میزبانی کرنے والا ملک متحدہ عرب امارات ہے جہاں ساڑھے 35لاکھ بھارتی مقیم ہیں،بھارتی تارکین وطن کا دوسرا سب سے بڑا میزبان ملک پاکستان ہے جہاں تقریباً 20لاکھ بھارتی تارکین وطن موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بھی20لاکھ کے لگ بھگ بھارتی تارکین وطن موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جتنے بھی تارکین وطن ہیں ان میں ہر20واں شخص بھارتی ہے۔دیکھاجائے تو دنیا بھر میں 6.5کروڑ سے زائد انسان ہجرت پر مجبور ہیں۔آج دنیا میں ہر دوسرے تارک وطن کی عمر 18برس سے بھی کم ہے۔85فیصد سے زائد تارکین وطن یورپ سے باہر دیگر ممالک میں رہ رہے ہیں۔ہزارہا شامی،عراقی،افغان اور پاکستانی مہاجرین مختلف یورپی خطوں میں پیدل چلتے،سرحدی باڑیں پھلانگتے،کھلے آسمان تلے شب بسری کرتے نظر آتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں تارکین وطن کے9سومہاجر کیمپ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ممالک میں جنگ،نسلی تعصبات،مذہبی کشیدگی،سیاسی تناؤ اور امتیازی سلوک کا شکار ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔تارکین وطن اور آئی ڈی پیز کے لئے خوراک فراہمی کانظام نتائج سے پاک بنایا جائے۔مہاجرین کے کیمپوں میں صحت کی سہولتیں ناگزیر ہیں۔ماں اور بچے کی صحت،مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسی نیشن کا معقول انتظام مسائل اور مشکلات برداشت کرنے کا ماحول پیدا کریگا۔ترک وطن ہجرت کے اسباب ختم کرنا ضروری ہے۔دنیا میں امن،تعلیم،معاشی حقوق کا تحفظ وقت کا اہم ترین ایجنڈا ہے۔انسانوں کے حقوق آزادی،انسانی حقوق، معاشی اور سماجی انصاف کی بنیادیں تسلیم کی جائیں۔تارکین وطن کی کفالت اور حالات کی بہتری پر اپنے وطن واپسی کا بہتر نظام بنایا جائے۔مجبوری کی حالت میں ترک وطن کرنے والوں کو کسی دوسرے اور تیسرے ملک میں آبادکاری کا نظام بنایا جائے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ہی اس حوالے سے کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -