لاہورہائیکورٹ کی پرویز مشرف کاٹرائل روکنے سے متعلق درخواست پر فل بنچ بنانے کی سفارش

لاہورہائیکورٹ کی پرویز مشرف کاٹرائل روکنے سے متعلق درخواست پر فل بنچ بنانے ...
لاہورہائیکورٹ کی پرویز مشرف کاٹرائل روکنے سے متعلق درخواست پر فل بنچ بنانے کی سفارش

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ نے پرویز مشرف کا ٹرائل کرنیوالی خصوصی عدالت کیخلاف کیس میں فل بینچ بنانے کی سفارش کر دی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوادی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ہے کہ درخواست کی سماعت کیلئے فل بینچ تشکیل دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں پرویزمشرف کاٹرائل کرنیوالی خصوصی عدالت کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس مظاہرعلی نے پرویزمشرف کی درخواست پرسماعت کی،پرویز مشرف کی جانب سے ان کے وکلا خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان پیش ہوئے،پرویز مشرف نے اپنے خلاف سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کا دائرہ اختیار چیلنج کیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا درخواست گزار کہاں کا رہنے والا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پرویزمشرف علاج کیلئے دبئی میں ہیں،عدالت نے کہاکہ عدالت کیس مفروضوں پرکیسے سن سکتی ہے؟اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف اسلام آباد کے رہائشی ہیں، جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے کہا کہ جب تمام فریقین اسلام آباد کے رہائشی ہیں تو لاہور ہائیکورٹ کیس کیسے سن سکتی ہے؟کوئی ایک کیس بتا دیں جس میں کسی دوسری ہائیکورٹ نے سماعت کر کے فیصلہ دیا ہو،اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایل پی جی کیس موجود ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپکی بات سنتے رہے ہیں مگرعلاقائی دائرہ اختیارکافیصلہ تو ہمیں ہرصورت کرناہے،سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر ہوئی ہے،اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں توفیق احمد کی طرف سے دائر ہوئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا کہ خصوصی عدالت نے پراسیکیوشن کو کہا تھا آج تحریری دلائل جمع کرائے جائیں،پرویز مشرف کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ342کے تحت بیان ہی موجودنہیں،جسٹس مظاہر علی نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کسی آدمی کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کا بیان ہی نہ ہو تو فیصلہ سنا دیا جائے۔

خواجہ طارق رحیم ایڈووکیٹ نے کہاکہ آپ فل بنچ بنا دیں اور خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکا جائے، جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے کہا کہ وہ تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی روک رکھا ہے،اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ فیصلہ سنانے سے نہیں روکا گیا، خصوصی عدالت نے فیصلہ سنانے کا عبوری حکم جاری کر رکھا ہے، خواجہ طارق رحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف اس وقت پاکستان میں نہیں، وہ دبئی میں ہیں ، ہم نے موقف اختیار تھا وزیراعظم کو خصوصی عدالت تشکیل دینے کا اختیار نہیں تھا،پرویز مشرف نہ کراچی رہتے ہیں نہ لاہور ، انکا فارم ہاو¿س اسلام آبادمیں ہے، پرویز مشرف واپس آنا چاہتے ہیں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ خواجہ صاحب اس پر کوئی فیصلہ لے آئیں، تیاری کر کے آجائیں، میں اس فائل کو فل بنچ کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دوں گا،خواجہ طارق رحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ درست ہے سر لیکن خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکا جائے، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نے درخواست پرفل بینچ بنانےکی سفارش کر دی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوادی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ہے کہ درخواست کی سماعت کیلئے فل بینچ تشکیل دیا جائے۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -