”چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ۔۔“ پرویز مشرف کو سزائے موت کی سزا پر سینئر صحافی حامد میر بھی میدان میں آ گئے ، بڑی بات کہہ دی

”چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ۔۔“ پرویز مشرف کو سزائے ...
”چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ۔۔“ پرویز مشرف کو سزائے موت کی سزا پر سینئر صحافی حامد میر بھی میدان میں آ گئے ، بڑی بات کہہ دی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو آئین توڑنے کا مرتکب پاتے ہوئے سزائے موت کی سزا سنا دی ہے ۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینئرصحافی حامد میر نے کہاہے کہ پرویز مشرف کا حق ہے کہ وہ اپیل میں جا سکتے ہیں تاہم یہ عدالتی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ ہے ، چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ نے کچھ ہفتے پہلے کہا تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کے خلاف بھی فیصلہ آنے والا ہے اور یہ بات بہت اہم ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی آ گیاہے ،انہوں نے جو قوم سے وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے ۔

حامد میر کا کہناتھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس فیصلے کا تعلق ایک فرد کے ساتھ نہیں ہے کہ ایک شخص نے جس نے دو دفعہ آئین توڑا اسے سزائے مووت دیدی گئی ہے ،ہم کسی کو سزائے موت دینے کے حق میں نہیں ہیں کہ اسے سزائے موت دی جائے ، لیکن اس کیس کے اثرات کی بہت اہمیت ہے ، اب پاکستان میں فوجی مداخلت کا راستہ عدالت نے بند کر دیاہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فوجی جنرل آئین توڑے گا تو آخر کار اس کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو کہ پرویز مشرف کے ساتھ ہواہے ، یہ فیصلہ ایک شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی بلکہ اس فیصلے کے ذریعے پاکستان کی عدالت نے آئین کو توڑنے اور سیاست میں فوج کی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیاہے ۔

حامد میر کا کہناتھا کہ اب عدالت نظریہ ضرورت کے تحت کسی فوجی جنرل کی سیاست میں مداخلت کی نا تو کی تصدیق نہیں کر سکتی ،کیونکہ آرٹیکل چھ میں اٹھارویں ترمیم کے بعدیہ کلیئر ہو چکا ہے، ”آرٹیکل چھ کا سب لاز ٹو اے ہے اس میں یہ واضح طور پر لکھا جا چکا ہے کہ پاکستان کی کوئی ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ فوجی مداخلت کو ویلیڈیٹ نہیں کر سکتی ہے ۔

حامد میر کا کہناتھا کہ اس آئین کے تحت خصوصی عدالت کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا ، اب سپریم کورٹ میں جائیں گے تو وہاں پر بھی کوئی راستہ نہیں ہے ،کیونکہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کوئی بھی عدالت آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کرنے والے کے حق میں فیصلہ نہیں دے سکتی ہے ۔

مزید :

قومی -