بھارت بیس لاکھ لوگوں سے شہریت کاثبوت مانگ رہا،وہ نہ دے پائے تو کہاں جائیں گے؟دنیانوٹس لے،عمران خان

بھارت بیس لاکھ لوگوں سے شہریت کاثبوت مانگ رہا،وہ نہ دے پائے تو کہاں جائیں ...
بھارت بیس لاکھ لوگوں سے شہریت کاثبوت مانگ رہا،وہ نہ دے پائے تو کہاں جائیں گے؟دنیانوٹس لے،عمران خان

  

جنیوا(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت بیس لاکھ لوگوں سے شہریت کاثبوت مانگ رہا،وہ نہ دے پائے توکہاں جائیں گے؟دنیانوٹس لے۔جنیوامیں انٹرنیشنل ریفیو جی فورم سے خطاب میں انہوں نے کہانے پناہ گزینوں کے عالمی مہاجرین فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان تیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہاہے جو چالیس سال سے وہاں مقیم ہیں۔پاکستان کو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے مہاجرمسائل کا سامنا کرناپڑا۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے وسائل کی کمی کا سامنا ہے،جہاں بے روزگاری ہے۔ان مسائل کی وجہ سے مہاجرین پر تنقید ہونا ایک فطری بات ہے لیکن پاکستانیوں نے ان مہاجرین کو خوش آمدید کہا اوربہترین اندازمیں ان کی میزبانی کی۔علاج مرض سے بہتر ہے۔انہوں نے کہا پاکستان افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ مہاجرین اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیرمیں بھارت نے اسی لاکھ کشمیریوں کو نظربند کررکھا ہے،لیڈرز جیلوں یا گھروں میں نظربند ہیں۔نولاکھ سے زیادہ فوجیوں کو وہاں تعینات کردیا گیاہے،کشمیر کی مسلم اکثریت کواقلیت میں بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے کہا عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔مسئلہ کشمیر سے دوایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کا خدشہ ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کو فروری میں پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انتونیوگوتیرس فروری میں پاکستان میں ہونے والی ریفیو جیز کانفرنس میں شریک ہوں۔

آسام میں مسلمانوں سمیت بیس لاکھ لوگوں سے اپنی شہریت ثابت کرنے کا مطالبہ کیاجارہاہے۔جس کی وجہ سے وہاں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے۔دنیااس معاملے کا نوٹس لے کیونکہ اگر وہ بیس لاکھ افراد حکومتی شرائط پوری نہ کرسکے تو وہ کہاں جائیں گے؟ عمرا ن خان نے کہا ایک بار مسائل شروع ہوگئے تو پھر ان کا اثرسب پر پڑے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -