خصوصی عدالت کے فیصلے پر فوج میں سخت غم و غصہ، 40 سال ملک کی خدمت کرنے والے مشرف کسی صورت غدار نہیں ہوسکتے: ڈی جی آئی ایس پی آر

خصوصی عدالت کے فیصلے پر فوج میں سخت غم و غصہ، 40 سال ملک کی خدمت کرنے والے مشرف ...
خصوصی عدالت کے فیصلے پر فوج میں سخت غم و غصہ، 40 سال ملک کی خدمت کرنے والے مشرف کسی صورت غدار نہیں ہوسکتے: ڈی جی آئی ایس پی آر

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دیئے جانے والے فیصلے پر پاک فوج کا انتہائی شدید ردِ عمل بھی سامنے آگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہسابق صدرنےملک کےدفاع کے لیےجنگیں لڑی ہیں،وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتاہے ،پرویز مشرف ملک کے صدر ،آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہ چکے ہیں،اُنہوں نے چالیس سال ملک کی خدمت کی ہے،پاکستان کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں،وہ کسی صورت بھی غدارنہیں ہوسکتے۔میجر جنرل آصف غفورکاکہناتھاکہ پرویز مشرف کےکیس سےمتعلق خصوصی کورٹ نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے ،کیس کو عجلت میں نمٹا یا گیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ  جنرل(ر)پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا حق نہیں دیا گیا ،عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی ۔اُنہوں  نے کہا کہ فوج توقع کرتی ہے کہ جنرل(ر)پرویز مشرف کو آئین کے تحت انصاف دیا جائے گا ۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے کہا تھا کہ سابق صدر  پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اوراُن پر آئین کے آرٹیکل 6کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کی جب کہ  بنچ میں شامل سندھ ہائیکورٹ کے جج نذر محمد اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا ۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -