دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، سال کے پہلے 6 ماہ میں پی آئی اے کو ریکارڈ 32 ارب روپے کا خسارہ

دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، سال کے پہلے 6 ماہ میں پی آئی اے کو ریکارڈ 32 ارب روپے ...
دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، سال کے پہلے 6 ماہ میں پی آئی اے کو ریکارڈ 32 ارب روپے کا خسارہ

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) حالیہ دنوں میں حکومتی اراکین کی طرف سے مژدہ سنایا جا رہا تھا کہ پی آئی اے خسارے سے نکل آئی ہے اور منافع کمانے لگی ہے لیکن اب رپورٹ آئی ہے تو سارے کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور ڈھاک کے وہی تین پات کے مصداق انکشاف ہوا ہے کہ 2019ءکے پہلے 6ماہ میں پی آئی اے کو 32ارب 74کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔یہ ان 6ماہ کا خسارہ ہے جن کا ابھی آڈٹ بھی نہیں ہوا اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹیکسیشن کے بعد یہ خسارہ 38سے 39ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

پاکستان ٹوڈے کے مطابق اگرچہ ان چھ ماہ کے دوران پی آئی اے کی آمدنی میں 44فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آمدنی میں اس اضافے کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ چونکہ پی آئی اے کی 50سے 60فیصد آمدنی ڈالروں میں ہوتی ہے جو کہ اس کے مختلف ممالک میں موجود ٹریول ایجنٹس اور بین الاقوامی آﺅٹ لیٹس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ دوسری طرف پاکستانی روپے کی قدر میں 39سے 40فیصد گراوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے جب یہ آمدنی پاکستان آ کر روپے میں تبدیل ہوئی تو زیادہ ہو گئی۔ روپے کی قدر میں اتنی گراوٹ کے برعکس ایندھن کی قیمت میں صرف 19فیصد اضافہ ہوا۔

آمدنی میں اضافے کی یہ وجہ اس لیے بھی قابل بھروسہ ہے کیونکہ 2018ءکی نسبت 2019ءمیں پی آئی اے کے روٹس کی طوالت میں کمی آئی ہے، چنانچہ لامحالہ اس کی آمدنی میں بھی کمی ہونی چاہیے تھی لیکن اس میں اضافہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق 2018ءمیں پی آئی اے کو 59ارب ساڑھے 68کروڑ روپے خسارہ ہوا تھا۔ اس کا اگر 2019ءکے پہلے 6ماہ کے خسارے سے موازنہ کیا جائے تو رواں سال پی آئی اے کا خسارہ 2018ءکی نسبت بہت زیادہ ہو گا۔رپورٹ کے مطابق اس خسارے کی کئی وجوہات ہیں جن میں بدانتظامی، عدم شفافیت اور آڈٹ کا کمزور کنٹرول وغیرہ شامل ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -