’ پاک فوج کے سامنے ساری چیزیں ہورہی تھیں لیکن انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا‘ اٹارنی جنرل نے خصوصی عدالت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا

’ پاک فوج کے سامنے ساری چیزیں ہورہی تھیں لیکن انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا‘ ...
’ پاک فوج کے سامنے ساری چیزیں ہورہی تھیں لیکن انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا‘ اٹارنی جنرل نے خصوصی عدالت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اٹارنی جنرل آف پاکستان نے پرویز مشرف کے حوالے سے خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے سامنے ساری چیزیں ہورہی تھیں لیکن انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا، یہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلے سے بھی زیادہ متنازعہ ہے۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے حوالے سے خصوصی عدالت کا فیصلہ غیر قانونی ہے، جس طرح یہ کیس چلایا جانا چاہیے تھا اس طرح نہیں چلایا گیا، پرویز مشرف نے کوئی غداری کا قدم نہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ جب قانونی تقاضے پورے نہ ہوں تو عوامی رد عمل آتا ہے، کیس میں صرف ایک شخص کو ٹارگٹ کیا گیا ، دراصل ایک شخص کی آڑ میں اس کیس کے ذریعے فوج کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، پاک فوج کے سامنے ساری چیزیں ہورہی تھیں لیکن انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا، یہ فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلے سے بھی زیادہ متنازعہ ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے کیس میں اپیل دائر کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اس کیس میں اپیل دائر نہیں کرسکتی بلکہ پرویز مشرف کے وکلا ہی اپیل کرسکتے ہیں ۔

خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی ہے جس پر پاک فوج نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر پاک فوج میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے، پرویز مشرف کسی صورت غدار نہیں ہوسکتے، انہوں نے 40 سال پاکستان کی خدمت کی ہے اور جنگیں لڑی ہیں ، کیس میں آئینی و قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

مزید :

قومی -