معروف صحافی کامران خان نے پرویز مشرف کی سزائے موت پر ایسا طنز کر دیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت غصے سے لال پیلی ہو جائے گی

معروف صحافی کامران خان نے پرویز مشرف کی سزائے موت پر ایسا طنز کر دیا کہ پیپلز ...
معروف صحافی کامران خان نے پرویز مشرف کی سزائے موت پر ایسا طنز کر دیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت غصے سے لال پیلی ہو جائے گی

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے؟مزا توجب آتا جب آپ اپنے اُن بھائی بندوں کو بھی  پھانسی  پرچڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے،بہن فریال،بھائی خورشیدشاہ،بھائی آغاسراج کوصرف اَربوں کھربوں کی کرپشن کےمعمولی اِلزامات پر  پکڑلیا تھا، یہ کوئی جرائم ہیں؟جرم تو مشرف نے کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر اینکر پرسن کامران خان نےسابق صدر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے آئین توڑنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنانے پر مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹس میں طنز کرتے ہوئے کہاہے کہ انصاف کا بول بالا ہے،پرویز مشرف بستر مرگ سے پاکستان واپس آئیں اور پھانسی چڑھیں، بہن فریال،بھائی خورشیدشاہ،بھائی آغاسراج بہت ہسپتالوں میں رہ لئے،اَب گھرچلےجائیں،ویسےبھی بیچاروں کوصرف اَربوں کھربوں کی کرپشن کےمعمولی الزامات پر  پکڑ لیا تھا، یہ کوئی جرائم ہیں؟جرم تو مشرف نے کیے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے؟جب وہ طاقتور اور زورآور تھا تو اُسکے بوٹ چاٹے ،اُسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا، کس کو نہیں پتا کہ آج اُسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ؟مزا توجب آتا جب آپ اپنے اُن بھائی بندوں کو بھی  پھانسی  پرچڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے، وقتِ امتحان پتلی گلی سے نکل گئے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -