آزادی کی چھاؤں 

آزادی کی چھاؤں 

  

            بیس سال بعد بلال آج نہر والی سڑک کے قریب موجود تھا۔وہاں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ٹریفک زیادہ ہونے کے باعث سڑک چوڑی کر دی گئی تھی۔سڑک کی توسیع کی وجہ سے بہت سے درخت بھی کاٹ دیے گئے تھے۔اسے ایک درخت کی تلاش تھی۔

    ”بیس سال پہلے،بہت وقت بیت گیا ہے،شاید اب وہ درخت یہاں نہیں ہے۔“یہ سوچتے ہوئے بلال آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نہر کے قریب پہنچ گیا۔اسے یاد آیا کہ نہر کے کنارے ایک باغ میں اس نے اپنے دوستوں محمود،سخی،یاسر اور سعد کے ساتھ مل کر زمین میں ایک ننھا سا پودا لگایا تھا۔

    بلال پل بھر میں بیس سال پیچھے چلا گیا تھا۔محمود اْچھل اْچھل کر آم کے درخت کی شاخ کو پکڑ رہا تھا۔سخی بھی پیڑ سے آم توڑنے کے لئے بے تاب تھا۔یاسر اور سعد ڈرے ہوئے تھے۔پکڑے جانے کا خوف جو تھا۔بلال ایک ایک درخت کو دیکھ رہا تھا۔

    درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں سکون ہی سکون تھا۔پرندے اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے۔بلال نے اپنے دوستوں کو ایک گھنے درخت کے نیچے بلا کر کہا:”واہ کیا ٹھنڈی ہوا ہے،میں چاہتا ہوں کہ ہم سب مل کر یہاں ایک پودا لگائیں،اس کی حفاظت کریں،جب پودا درخت کی صورت اختیار کرے تو اس کی چھاؤں میں بیٹھ کر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوں،کیا تم میرا ساتھ دو گے؟“

    ”ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔“یہ آواز یاسر کی تھی۔

    ان کی باتیں مالی شوکت نے بھی سن لی تھیں۔

   ”تمہارا جذبہ قابل قدر ہے،پودا لگاؤ،تم بھی اس کی حفاظت کرنا اور میں بھی دوسرے پودوں کی طرح اس کی دیکھ بھال کروں گا۔“مالی شوکت نے انھیں شاباشی دیتے ہوئے کہا۔

    وہ 14 اگست کا دن تھا۔پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہر جگہ دکھائی دے رہا تھا۔پانچوں دوست اپنے ننھے سے پودے کے ساتھ نہر کنارے واقع باغ میں موجود تھے۔مالی شوکت نے پودا لگانے میں ان کی مدد کی۔سب دوست پودا زمین میں لگا کر بہت خوش تھے۔

    مالی شوکت کے مشورے پر انھوں نے پودے کے گرد لکڑیوں کی باڑ بھی لگا دی تھی کہ کوئی جانور پودے کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ان کے گھر باغ سے زیادہ فاصلے پر نہ تھے،اس لئے وہ دن میں کئی مرتبہ وہاں آ کر اپنے ننھے سے پودے کی دیکھ بھال کر لیتے تھے۔

   اس دن سبھی دوست بہت خوش تھے۔جب پودے کی ننھی ننھی شاخوں پر نئے پتے نمودار ہوئے تھے۔سرسبز اور نرم و ملائم پتے اس بات کو ظاہر کر رہے تھے کہ پودے نے جڑ پکڑ لی ہے۔

    وقت تیزی سے گزرتا رہا۔محمود ایک فرم میں ملازم ہو کر بحرین چلا گیا۔

    سخی کو اسلام آباد میں ملازمت مل گئی۔یاسر نے گلشن ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنا جنرل اسٹور بنا لیا۔سعد کے والد کی کپڑے کی دکان تھی،وہ وہاں جا بیٹھا تھا۔بلال کو میڈیکل میں داخلہ مل گیا تھا۔وہ پڑھائی میں مصروف ہو گیا تھا۔سب اپنی اپنی دنیا میں گم ہو گئے۔

    وہ ننھا سا پودا جو اب تناور درخت بن چکا تھا کسی کو یاد نہیں رہا تھا۔درخت پر ان کے ناموں والی تختی اب تک آویزاں تھی۔بلال جب بھی بہاول نگر سے لاہور آتا،درخت کو دیکھنے اور اس سے ملاقات کے لئے باغ میں ضرور جاتا تھا۔وہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد لندن جا بیٹھا۔

    وقت تو پَر لگا کر اْڑتا رہا۔چند سال پہلے بلال نے اپنے دوستوں کو فیس بک پر تلاش کیا تھا۔پھر انھوں نے آپس میں رابطے کے لئے ایک واٹس ایپ گروپ بنا لیا۔جب انھوں نے اپنی تصاویر شیئر کیں تو سب کی شکل و صورت بدل گئی تھی۔بلال کے سر کے بال اْڑ گئے تھے۔

    سخی نے داڑھی رکھ لی تھی۔بلال نے جب مشترکہ لگائے ہوئے درخت کے بارے میں سوال کیا تو کوئی اسے تسلی بخش جواب نہ دے پایا تھا۔اگرچہ بلال وطن سے بہت دُور تھا،مگر اس کی آنکھوں کے سامنے تناور درخت تھا۔ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں والا درخت،اس کے دونوں بیٹے لندن کے ایک تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم تھے۔

    اس کی بیگم بھی ڈاکٹر تھی۔زندگی کی ہر آسائش اسے میسر تھی۔اب وہ بیس سال بعد وطن لوٹا تھا۔محمود کے علاوہ سبھی دوست موجود تھے۔

    بلال باغ میں موجود تھا۔اسے اپنے ہاتھوں لگائے پودے کی تلاش تھی۔آخر وہ مل گیا،لیکن ترقیاتی منصوبے کی وجہ سے ایک دن پہلے ہی اسے کاٹا گیا تھا۔

    بلال اب کٹے ہوئے درخت کے تنے کے قریب بیٹھا تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس نے تنے کی تصویر اپنے دوستوں کو واٹس ایپ کی تو وہ بھی بے چین ہو گئے تھے۔

    اس وقت یاسر اور سعد،بلال کے پاس موجود تھے۔تینوں سر جھکائے درخت کے تنے کے قریب بیٹھے تھے۔

    ایک بزرگ اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے ان کے قریب آ کر کھڑے ہو گئے۔بزرگ نے تینوں کو غور سے دیکھا۔

     بزرگ کے پوچھنے پر جب بلال نے سب کی اْداسی کی وجہ بتائی تو وہ ان کے پاس گھاس پر بیٹھ گئے،بولے:”ایک ننھا سا پودا میں نے بھی برسوں پہلے اپنے بزرگوں کے ساتھ لگایا تھا،اس پودے کو پانی کے بجائے شہیدوں کے لہو سے سیراب کیا گیا تھا۔

    اس پودے کو پہلے دن ہی اْکھاڑنے،ختم کرنے اور کاٹنے کی کوششیں کی گئیں۔اللہ کے فضل سے وہ پودا آج بھی سرسبز و شاداب ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی وہ سرسبز ہی رہے گا۔“بزرگ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے۔تینوں جان گئے تھے کہ بزرگ کس پودے کی بات کر رہے ہیں۔

    وہ آزادی کا درخت تھا۔انھوں نے کبھی اس پودے کے بارے میں سوچا تک نہ تھا۔سب اسے بھول کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے تھے۔بزرگ نے گھاس سے اْٹھتے ہوئے کہا:”آزادی کے درخت کو مضبوط ہاتھوں کی ضرورت ہے ورنہ۔۔۔؟“

    ”آگے مزید کچھ مت کہیے گا،ہم سب مل کر آزادی کے درخت کی حفاظت کریں گے،ہم کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے آزادی کے درخت کی جڑیں کمزور ہوں۔“بلال نے بزرگ کی بات بھی پوری نہ ہونے دی تھی۔

    بلال اور اس کے دوست نہیں چاہتے تھے کہ ان کے ہاتھوں سے لگے پودے کا جو حال ہوا ہے،ویسا آزادی کے درخت کا حال ہو۔آزادی کے اسی گھنے درخت کے نیچے ہم ٹھنڈی چھاؤں میں سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -