پانی کہاں گیا؟

پانی کہاں گیا؟

  

 دریا کے کنارے آباد شاداب نگر ایک ہرا بھرا قصبہ تھا۔وہاں کے لوگوں میں ایک خرابی تھی کہ وہ پانی جیسی نعمت کی قدر نہیں کرتے تھے۔

    دنیا میں پانی کے ذخیرے تیزی کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    شاداب نگر میں بلاضرورت پانی بہانا ایک معمولی بات بن گئی تھی۔یوں دریا کا صاف شفاف پانی کم ہوتا جا رہا تھا۔دریا میں رہنے والی مچھلیاں بھی پریشان تھیں کہ پانی نہ رہا تو وہ مر جائیں گی۔

    ایک دن تمام مچھلیاں دریا کی ملکہ مچھلی کے پاس جمع ہوئیں اور مسئلے کا حل نکالنے کی درخواست کی۔

    ملکہ مچھلی نے یہ بات سن کر فیصلہ کیا کہ وہ ہمالیہ پہاڑوں میں رہنے والے بونے جادوگر سے مدد لے گی۔ہمالیہ پہاڑوں تک پہنچنے کے لئے اسے دریا کے بہاؤ کے مخالف سمت میں تیرنا تھا۔پھر دریا میں جگہ جگہ خودرو جھاڑیاں بھی تھیں۔

جن میں پھنسنے کے بعد نکلنا مشکل تھا اور بڑے بڑے خوفناک کیکڑے بھی تھے،مگر ملکہ نے کسی بھی خطرے کی پرواہ نہ کی اور اللہ کا نام لے کر تیرنا شروع کر دیا۔

    چھ دن تک لگاتار تیرنے کے بعد وہ وہاں پہنچ گئی،جہاں پہاڑوں سے برف پگھل رہی تھی اور پانی آبشاروں کی صورت میں گر رہا تھا۔

    جادوگر وہاں بڑے مزے سے پانی میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھا تھا۔

    سردار مچھلی تیزی سے تیرتی ہوئی اس کے پیروں کے پاس جا پہنچی۔بونے جادوگر نے جھک کر دیکھا تو کہا:”ارے بی مچھلی!کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو؟“

    ملکہ مچھلی نے جلدی جلدی ساری بات کہہ سنائی۔

    جادوگر نے چینی کے دانوں کے برابر چھوٹی چھوٹی گولیاں جیب سے نکالیں اور ملکہ مچھلی کو دکھاتے ہوئے کہا:”یہ جادوئی گولیاں لے جاؤ اور انھیں دریا میں پھیلانا شروع کر دو،جہاں کہیں بھی بلاضرورت پانی بہہ رہا ہو گا،یہ گولیاں غبارے کی طرح پھول کر اس لائن کو بند کر دیں گی بعد میں ان کا اثر ختم ہو جائے گا۔یہ گولیاں انسانوں کو نظر نہیں آئیں گی۔ملکہ مچھلی نے جادوگر کا شکریہ ادا کیا اور روانہ ہو گئی۔

    ملکہ واپس دریا میں پہنچی تو جادوئی گولیاں دیکھ کر تمام مچھلیاں خوش ہو گئیں۔مچھلیوں نے پورے دریا میں گولیاں پھیلا دیں۔

    ”امی،امی میری آنکھوں میں مرچیں لگ رہی ہیں،جلدی سے پانی لا دیں،پلیز۔“وسیم نے غسل خانے سے آواز لگائی۔وسیم کی آنکھوں میں صابن چلے جانے کی وجہ سے بے تحاشا جلن ہونے لگی تھی۔اس نے نہانے کے دوران نل کھلا چھوڑ دیا۔پانی حسب معمول بہتا رہا۔جادوئی گولی نے کام کر دکھایا تھا اور پانی کی لائن کو بند کر دیا تھا۔

    امی نے جلدی سے ایک بوتل لا کر دی جس سے وہ دیر تک آنکھیں دھوتا رہا۔پڑوس میں شہلا باجی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔وہ باورچی خانے میں آٹا گوندھ رہی تھیں اور نل کھلا چھوڑ دیا تھا۔

    پانی بہتا رہا اور وہ اسی پانی سے آٹا گوندھ رہی تھیں،مگر عین اس وقت جب ان کے دونوں ہاتھ آٹے میں لتھڑے ہوئے تھے،اچانک نلکے سے پانی آنا بند ہو گیا۔

    گلی میں فیروز صاحب اپنی گاڑی دھو رہے تھے۔قریب ہی پانی کا پائپ پڑا تھا۔اس میں سے پانی کی ایک موٹی دھار بہہ رہی تھی۔گاڑی پر صابن لگا ہوا تھا۔انھوں نے پائپ اْٹھایا تو دیکھا کہ اس میں پانی ہی نہیں آ رہا تھا۔فیروز صاحب ایک ہاتھ میں پائپ پکڑے دوسرے ہاتھ سے سر کھجانے لگے۔

    شاداب نگر کے تمام اہم لوگ قصبے کے مرکزی ہال میں جمع تھے۔وہ پچھلے ایک ہفتے سے ہونے والے ان گمبھیر واقعات پر غور کر رہے تھے کہ نلوں میں پانی آتے آتے کیوں اور کیسے رک جاتا ہے؟

    سب کا مشاہدہ یہ تھا کہ پانی صرف اسی وقت بندہوتا ہے،جب نل بلاضرورت کھلا ہوا ہو۔مسجد کے امام صاحب بڑے دھیان سے سب کی باتیں سن رہے تھے۔انھوں نے کہا:”آپ سب کے ساتھ میں بھی اسی قصبے میں رہتا ہوں،مگر میرے گھر میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔اس کی وجہ یہ ہے میرے گھر میں پانی بلاوجہ نہیں بہایا جاتا،بلکہ صرف ضرورت کے وقت ہی نل کھولا جاتا ہے۔“یہ بات سب کی سمجھ میں آ گئی۔

    حافظ صاحب نے کہا:”بالکل یہی بات ہے۔میرے گھر میں بھی پانی احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ اچانک پانی غائب ہو جائے۔میں امام صاحب کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔آپ لوگ بھی اس کو آزما کر دیکھ لیں۔آپ کے مسئلے کا حل بہت ہی آسان ہے۔“

    خالد صاحب جو کہ قصبے کے کالج کے پرنسپل تھے،انھوں نے سب کو سمجھاتے ہوئے کہا:”خدا کا شکر ہے کہ دریا کا پانی ختم ہونے سے پہلے ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا“۔

اْدھر دریا میں مچھلیاں بھی ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہی تھیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -