چوہے کی ملی نادانی کی سزا

چوہے کی ملی نادانی کی سزا

  

           گرمی میں ایک شیر شکار کو نکلا۔چلچلاتی دھوپ میں،تپتی ہوئی زمین پر چلنے سے وہ جلد ہی تھک گیا اور ایک بڑے سے سایہ دار گھنے درخت کے نیچے آرام کرنے لیٹ گیا۔ابھی وہ سویا ہی تھا کہ کچھ چوہے اپنے بلوں سے باہر نکلے اور نادانی سے اس کی پیٹھ پر اْچھلنے کودنے لگے۔

    اس سے شیر کی آنکھ کھل گئی۔وہ غرایا اور غصے میں آکر ایک چوہے کو اپنے پنجے میں دبوچ لیا۔ابھی وہ اسے مارنے ہی والا تھا کہ چوہے نے نہایت عاجزی سے کہا،”اے جنگل کے بادشاہ!مجھ غریب پر رحم کیجیے۔مجھ جیسے چھوٹے اور کمزور کو مارنے سے آپ کی خاندانی شرافت پر آنچ آئے گی اور سارے جنگل میں بدنامی ہو گی کہ جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک چوہے کو مار دیا ہے۔“

    یہ بات سن کر شیر نے اس پر ترس کھایا اور ڈرتے کانپتے چوہے کو آزاد کر دیا۔

    کچھ دن بعد وہی شیر شکار کے لئے جنگل میں نکلا۔ابھی شکار کی تلاش میں وہ اِدھر اْدھر پھر ہی رہا تھا کہ اچانک شکاریوں کے جال میں پھنس گیا۔اس نے نکلنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے،لیکن جال سے نہ نکل سکا۔

     آخر پریشان اور لاچار ہو کر وہ پورے زور سے دھاڑا۔جیسے ہی چوہے نے شیر کی دھاڑنے کی آواز سنی،وہ تیزی سے وہاں پہنچا۔دیکھا کہ وہی شیر ہے جس نے اس کی جان بخشی تھی۔وہ شیر کے پاس گیا اور کہا،”اے بادشاہ سلامت!میں آپ کا دوست ہوں۔آپ نے میری جان بخشی تھی۔آپ بالکل فکر مت کریں۔“

    یہ کہہ کر وہ جلدی جلدی اپنے ننھے تیز دانتوں سے جال کاٹنے لگا اور ذرا سی دیر میں جال کاٹ کر شیر کو آزاد کرا دیا۔

    جب شیر آزاد ہوا تو اس نے سوچا کہ وہ بھی اس احسان کے بدلے کوئی احسان کرے۔یہ سوچ کر اس نے چوہے سے کہا،”اے دوست! تو نے مجھ پر احسان کیا ہے۔جو تو مجھ سے مانگے گا،میں دوں گا،بول کیا مانگتا ہے؟“چوہا یہ سن کر خوشی کے مارے پھولا نہ سمایا اور بھول گیا کہ وہ اپنے لائق کیا مانگے اور کون سی ایسی چیز مانگے کہ شیر اسے دے بھی سکے۔

    اپنی حیثیت بھول کر اس نے جلدی سے کہا،”اے بادشاہ سلامت!اپنی شیر زادی کی شادی مجھ سے کر دیجیے۔“شیر زبان دے چکا تھا۔اس نے چوہے کی بات مان لی اور رشتہ قبول کر لیا۔شادی کے دن نوجوان شیر زادی بن ٹھن کر نکلی اور جھومتی جھامتی اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی بے فکری سے چلنے لگی۔دولہا چوہا اس کے استقبال کے لئے سامنے کھڑا تھا کہ بے خیالی میں اتفاق سے شیر زادی دلہن کا پاؤں دولہا چوہے پر پڑ گیا اور وہ بے چارا وہیں پِس کر ڈھیر ہو گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -