یہ عشق نہیں آسان 

یہ عشق نہیں آسان 
یہ عشق نہیں آسان 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


عشق و محبت کی داستانیں ہر سو بکھری پڑی ہیں۔یہ عشق حقیقی کی بھی ہیں اور عشق مجازی کی بھی۔ عشق حقیقی تو نصیب والوں کو ہی ملتا ہے اور اِس کے حصول کی الگ ہی منازل ہیں جو اہل سلوک ہی طے کرتے ہیں۔ یہ ایک مشکل سفر اور کٹھن گھاٹی ہے جسے ہر کوئی عبور نہیں کر سکتا۔بڑے بڑے شہسوار عشق کی اِن پُر خطر راہوں اور وادیوں میں دم ہار گئے۔ بہت سوں کا پتہ پانی ہوا: ”یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے۔۔۔اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے“۔۔۔غالباً جگر مراد آبادی کے اِسی شعر کے جواب میں ہمارے اُستاد محترم پروفیسر اصغر سودائی نے عشق کی اِس کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے: ”عشق وہ آگ ہے اصغر جو ہے تاثیر میں سرد۔۔۔تو بھی جل بھن کے اِسی آگ میں ٹھنڈا ہو جا“۔۔۔یہ واقعی اک آگ کا دریا ہے اِس میں کئی منصور سولی چڑھے اور بے شمار گمنامی کے زندانوں میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ کہیں سیدنا اویس قرنی  ؓ اَن دیکھے غزوہئ اُحد میں  آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک شہید ہونے کی خبر سن کر عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ایک کر کے اپنے تمام دانت قربان کر دیتے ہیں اور کہیں صرف 72 جانثارانِ حسینؓ،اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں کربلا کے ریگزاروں میں قربان ہو جاتے ہیں۔یہ بات طے شدہ ہے کہ عشق حقیقی ہو یا مجازی یہ قربانی مانگتا ہے۔یہ عشق و محبت من کی دنیا ہے، یہاں من کو تن سے جدا کر کے،اپنی ذات کی نفی کر کے، اپنی ضد،ہٹ دھرمی اور انا کو قربان کرکے عشق ِ حقیقی کی طرف پیش قدمی کرنا پڑتی ہے۔اِنسانی زندگی میں شاید اپنی ذات کی نفی کرنا ہی سب سے مشکل کام ہے کہ  جب تک انسان اپنی ”مَیں“ نہیں مارتا وہ عشق تو کیا کسی عام منزل تک بھی نہیں پہنچ سکتا مگر یہ مَیں مارنا،یہ عاجزی، یہ اِنکسار اتنا آسان تو نہیں۔ ویسے بھی یہ عشق و محبت کم ظرف لوگوں کا کھیل نہیں۔یہ عالی ظرف اور بلند حوصلہ لوگوں کا کام ہے کہ محبت مرتی نہیں مار دیتی ہے اور جو مر جائے وہ محبت نہیں اور جسے محبت مل جائے وہ خوش قسمت ٹھہرا، محبت ایمان ہے، دھرم ہے، ایقان ہے، مان ہے، یقین ہے، اعتماد ہے، خلوص ہے، اظہار ہے اور یہ سب کچھ کم ظرف لوگوں کے نصیب میں نہیں آتا بلکہ محبت عالی ظرف لوگوں کا روگ ہے۔۔۔ ”محبت روگ ہے جاناں۔۔۔ عجب سنجوگ ہے جاناں“۔۔۔


بڑھے بوڑھے بتاتے تھے۔۔۔ کئی قصے سناتے تھے مگر ہم مانتے کب تھے۔۔۔ ”کہ محبت روگ ہے جاناں“۔۔۔اِس عشق و محبت نے بڑے بڑے خود سروں کو سر نگوں کر دیا کہ مولانا الطاف حسین حالی جیسے درویش منش شاعر کو بھی کہنا پڑا: ”اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا۔۔۔جس گھر سے سر اٹھایا اُس کو بٹھا کے چھوڑا۔۔۔ شاہوں کے تاج چھینے راجوں کے راج چھینے۔۔۔گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا؟۔۔۔ایک طرف عشق حقیقی کی لا متناہی داستانیں ہیں تو دوسری طرف عام عشق ومحبت کے قصے ہیں۔اِن قصے کہانیوں میں کتنے قیس، کتنے رانجھے اور  کتنے مہینوال عشق کی بھٹی کا ایندھن بنے۔ بڑی دلچسپ مگر اُداس کر دینے والی داستانیں ہیں۔پھر عشق و محبت کا ایک ماڈرن دور شروع ہوتا ہے جب یہ خیال یار سے دیدار یار تک کا سفر منٹوں میں طے کر کے ایک ہی جست میں من کی مراد پانے کا دور ہے۔ یہ ماڈرن ٹیکنالوجی از قسم سیل فون، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور سیلفی کا دور ہے۔ کہاں وہ زمانہ کہ ”دِل کے آئینے میں ہے تصویر یار۔جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی“۔۔۔ یا پھر کچھ اس طرح کی کیفیت ہوتی کہ“نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی۔بڑی آرزو تھی ملاقات کی“۔۔۔ اور کہاں دیدار یار کے لیے سیل فون کی سکرین۔ ہم نے اِس انمول جذبہء عشق و محبت کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا۔ محبوب کی دید جسے لوگ عید سے تعبیر کرتے تھے ہم نے اُسے کمرشل بنا دیا۔پیار و محبت میں کھینچی گئی تصویروں کو بھی بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا دیا۔ عشق و محبت کی یہ بے حرمتی، یہ تذلیل عُشاقِ محبت کے لیے برداشت کر نا کافی مشکل ہے۔اِس عشق ومحبت کے معاملات میں  ہجر و وصال کی اپنی چاشنی تھی۔آدھی سے زیادہ اردو شاعری اِسی ہجر و وصال کے گرد گھومتی ہے،حتیٰ کہ میاں محمد بخش صاحب کو بھی کہنا پڑا:”ہجر تیرا جے پانی منگے تے میں کھوہ نیناں دے گیڑاں۔۔۔ جی کردہ تینوں سامنے بٹھا کے آج درد پرانے چھیڑاں“۔۔۔بات کچھ یوں ختم کرتے ہیں کہ یہ عشق و محبت ایک مقدس جذبہ ہے جو  صاف اور شفاف دلوں پر اُترتا ہے۔ کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں: ”عشق توفیق  ہے گناہ نہیں“۔

مزید :

رائے -کالم -