فیصلے کی تاریخ

فیصلے کی تاریخ
فیصلے کی تاریخ

  

کپتان کا ریکارڈ اب یہ بنتا جا رہا ہے کہ وہ تاریخ دے دیتے ہیں، تاریخ آتی ہے تو نئی تاریخ دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔اب اُنہوں نے اسمبلیاں توڑنے کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لئے آج یعنی 17دسمبر کی تاریخ دے رکھی ہے۔لبرٹی چوک لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرنے کا پروگرام ہے جس میں وڈیو لنک خطاب کے ذریعے وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے کا شیڈول دیں گے۔کیا وہ واقعی شیڈول دیں گے یا کوئی نئی کہانی سنا کر آگے بڑھ جائیں گے؟اب تو اُن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود  زمان پارک میں بیٹھ جاتے ہیں۔عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے پر جتنی مشاورت کی، اُس سے تو یہی لگتا ہے یہ کوئی آسان کام نہیں۔اگر یہ بہت مشکل کام ہے تو پھر اسمبلیاں ٹوٹنے کی اُمید کم ہی رکھی جائے۔عمران خان بھی سلوموشن میں آگے بڑھتے ہیں حالانکہ وہ فاسٹ باؤلر رہے ہیں اور اُنہیں تیز کھیلتے ہوئے چوکے چھکے مارنے چاہئیں۔ وہ صرف جلد انتخابات کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں، باقی معاملات میں لمبی لمبی تاریخیں دیتے ہیں مثلاً اُنہوں نے اپنی حکومت کے خاتمے  پر قومی اسمبلی سے ارکان سمیت استعفیٰ دے دیا مگر استعفے منظور کرانے کے لئے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔اِس دوران پلوں کے نیچے سے کتنا ہی پانی گذر گیا۔اب ایک دن پہلے شاہ محمود قریشی نے سپیکر قومی اسمبلی کو استعفوں کی منظوری کے لئے خط لکھا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ارکان اسمبلی انفرادی طور پر بھی استعفوں کی تصدیق کے لئے آنے کو تیار ہیں، جب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف خط لکھ کر بلا رہے تھے تو عمران خان نے اپنے ارکان کو جانے کی اجازت نہیں دی۔ وہ سمجھتے تھے کہ استعفوں کی منظوری کے بغیر ہی حکومت پر دباؤ پڑے گا، اب جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے بھی کہہ دیا ہے کہ اسمبلی سے استعفوں کا معاملہ کسی کروٹ بیٹھنا چاہیے۔ اتنے زیادہ قومی حلقوں کوبغیر نمائندگی کے نہیں چھوڑ سکتے تو عمران خان بھی استعفوں کی تصدیق کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

اب صوبائی اسمبلیوں کے معاملے میں بھی عمران خان اعلان تو کر بیٹھے ہیں تاہم اُس پر عملدرآمد کے لئے ابھی تک فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ صرف اعلانات کے ذریعے دباؤ ڈال کر حکومت کو انتخابات کے لئے مجبور کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں لیکن حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی گھاگ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اِن حالات میں اِتنا بڑا رسک نہیں لیں گے کہ جس تخت پر بیٹھے ہیں اُسے اپنے ہی ہاتھوں سے کھسکا دیں۔اِس وقت دو بڑے صوبوں کی حکومتوں کے وہ بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔اُنہیں مکمل پروٹوکول اور تحفظ حاصل ہے، اپنی حکومتیں ختم کر کے وہ اِس اُمید پر نہیں بیٹھ سکتے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہو جائیں گے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا  کے انتخابات کو بھی مختلف قانونی نکات اُٹھا کر آگے لے جایا جا سکتا ہے۔ اِس صورت میں عمران خان کے پاس سوائے جلسے جلوسوں کے اور کیا راستہ رہ جائے گا جبکہ وزیر آباد حملے کے بعد وہ سکیورٹی کے حوالے سے خاصے محتاط ہو گئے ہیں اور اُن کی نقل و حرکت پہلے جیسی نہیں رہی۔اِس تناظر میں آج سب کی نظریں اُن کے خطاب پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کیا اعلان کرتے ہیں؟ وہ بات بنانے کے ماہر ہیں اور یوٹرن لینے کو بھی برائی نہیں سمجھتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن کے چاہنے والے اُن کے ہر یو ٹرن پر اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔حالات بتاتے ہیں کہ عمران خان کے پاس مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں،اُنہوں نے جلد بازی میں اپنے سارے پتے وقت سے پہلے کھیلے دیے ہیں۔اُن کا بیانیہ ایک بار تو زور پکڑ گیا تھا اور مقبولیت ساتویں آسمان پر تھی لیکن پھر اُس کی تکرار نے اِسے بے اثر کردیا۔اُس کے بعد حقیقی آزادی مارچ کا نعرہ دیاجو بہت مبہم تھا، وہ اِس میں اسٹیبلشمنٹ سے آزادی کو بھی شامل کر چکے تھے جو اُن کی ایک بڑی غلطی تھی، پاکستان میں حقیقی آزادی اُس استحصالی نظام میں مضمر ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اِس نظام کے پروردہ اور فائدہ اُٹھانے والے عمران خان کے دائیں بائیں بھی موجود ہیں اور پورے سیاسی نظام میں بھی۔اگر وہ حقیقی آزادی کو ابہام کا شکار نہ ہونے دیتے تو آج اِس نعرے کو چھوڑ کر اُنہیں اسمبلیوں کے توڑنے پر تکیہ نہ کرنا پڑتا۔

عمران خان کی اب ساری سیاست جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے گرد گھومنے لگی ہے۔وہ اپنے ہر خطاب میں اُن کا ذکر ضرور کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اُن کی ناکامی میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا بڑا کردار ہے۔ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کو ایک کندھا چاہیے جس پر وہ اپنے دور کی ناکامیوں کا سارا بوجھ ڈال سکیں۔جب تک عمران خان اقتدار میں رہے اُن کا سارا انحصار جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ پر تھا۔وہ اُنہیں ایک جمہوریت پسند اور منتخب حکومت کی حمایت کرنے والا جرنیل قرار دیتے تھے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جب آپ کی حمایت ہو تو سیاسی کردار بھی درست ہے اور مخالف ہو جائے تو سب غلط قرار پائے۔عمران خان نے جتنا کُھل کریہ مانا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر پاکستان میں سیاست نہیں ہو سکتی، وہ سیاست جو اقتدار تک لے جاتی ہے۔اب بھی وہ یہ کہتے ہوئے ذرا بھی نہیں چوکتے کہ اسٹیبلشمنٹ کو جلد انتخابات کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اُن کا یہ کہنا درست ہے کہ اِس وقت ملک کی معاشی حالت انتہائی خراب ہے مگر جب وہ اسے نئے انتخابات سے جوڑتے ہیں تو اُس کا اثر سیاسی ہو جاتا ہے۔آج بھی اگر عمران خان اپنے سارے مطالبے پس پشت ڈال کر مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیں تو حکومت پہلے سے زیادہ دباؤ میں آ جائے گی۔نئے انتخابات کا مطالبہ کر کے درحقیقت عمران خان نے موجودہ حکومت کو ایک بیل آؤٹ سیاسی پیکیج دیا ہے جس کی آڑ میں وہ عمران خان کے ہر مطالبے کو رد کر دیتی ہے۔عمران خان کہتے تو ہیں کہ موجودہ حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے لیکن اِس بنیاد پر وہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلا رہے۔وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اُن کی حکومت کے خلاف جتنے بھی لانگ مارچ ہوئے وہ سیاسی ایشو پر نہیں بلکہ مہنگائی کے خلاف تھے۔ آج تو پہلے سے کہیں زیادہ مہنگائی ہے پھر حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے وہ یہ راستہ کیوں اختیار نہیں کرتے کہ اِسی راستے سے نئے انتخابات کا راستہ بھی نکل سکتا ہے اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسمبلیاں توڑ کر حکومت کو نئے انتخابات پر مجبور کرنے کا راستہ اختیار کر کے عمران خان نے بہت بڑا رسک لینے کا فیصلہ کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل مشاورت کے نام پر وقت گزار رہے ہیں۔ بالفرض وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں توڑ دیتے ہیں تواُس کے نتیجے میں کیا ہو گا؟ آئینی راستہ اختیار کیا گیا تو تین ماہ میں انتخابات کرانے پڑیں گے۔آئینی موشگافیوں سے فائدہ اُٹھا کر وفاقی حکومت نے گورنر راج یا نگران حکومتوں کی مدت بڑھانے کا آپشن استعمال کیا تو عمران خان کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا، شاید اِسی لئے عمران خان نے قومی اسمبلی سے استعفوں پر بھی عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کسی عذر کے باعث التواء میں رکھے جاتے ہیں تو قومی اسمبلی کے سو سے زائد حلقوں میں انتخابات کرانے پر الیکشن کمیشن کو مجبور کیا جائے۔ مقصد ایک ہی ہے کہ موجودہ حکومت کے لئے سیاسی استحکام پیدا نہیں ہونے دینا۔اِس سارے معاملے میں عمران خان کے ہاتھ کیا آئے گا؟ اب شاید اِس کی اُنہیں فکر نہیں، فی الوقت وہ موجودہ حکومتی سیٹ اَپ کو گھر بھیجنا یا ناکام دیکھنا چاہتے ہیں، اِس کیلئے وہ کشتیاں جلانے، یعنی اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا اُسے مزید ٹالتے ہیں،اِس کا اندازہ آج ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -