پرائیویٹ کالج انتظامیہ سے سرکاری اراضی واپس، سامان ضبط

پرائیویٹ کالج انتظامیہ سے سرکاری اراضی واپس، سامان ضبط

  

بوریوالا(تحصیل رپورٹر)سپریم کورٹ نے شہر کے وسط میں ایک ارب سے زائد کی 12کنال کمرشل سرکاری اراضی پر ناجائز قابض پرائیویٹ کالج انتظامیہ کی پٹیشن خارج کردی،واگزار کروائی گئی قیمتی اراضی پر اسسٹنٹ کمشنر آفس تعمیر کرنے کی ہدایت کردی موقع پر کالج بلڈنگ کا سامان بھی ضبط کرنے کا حکم،بااثر کالج انتظامیہ عرصہ 10 سال سے ناجائز قابض تھی(بقیہ نمبر49صفحہ7پر)

،عدالت نے30 لاکھ روپے کرایہ بھی وصول کرلیا،تفصیلات کے مطابق بورے والا شہر کے وسط میں اراضی ریکارڈ سنٹر کے بالمقابل محکمہ ریونیو کی ایک ارب سے زائد مالیت کی 12کنال کمرشل سرکاری اراضی کو محکمہ کوآپریٹو نے ایک پرائیویٹ کالج کے مالک سے مبینہ طور پر معاہدہ کرکے 2010 میں کرایہ پر دیدی جسکا دوسالہ معاہدہ ختم ہونے پر سرکاری اراضی خالی کرنے کی بجائے عدالتی حکم امتناعی کے ذریعے اس پر بلڈنگ تعمیر کرکے باقاعدہ لا کالج بنا دیا تھا جس پر عدالتی حکم امتناعی خراج ہونے پر 2021 میں تحصیل انتظامیہ نے کالج انتظامیہ سے قبضہ واگزار کروا کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا لیکن کالج کے سربراہ عبدالصبور کی طرف سے اسکے خلاف سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے سابقہ کرایہ کی مد میں 30 لاکھ روپے عدالت میں جمع کرواکے عدالت عظمی سے یہ سرکاری اراضی دوبارہ کرایہ پر حاصل کرنے کی استدعا کی تھی جسکی سماعت گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج مسٹر جسٹس فائز عیسی نے کرتے ہوئے پٹیشن خارج کردی اور محکمہ ریونیو کی طرف سے اس جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر آفس بنانے کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے آفس بنانے کی ہدایت جاری کردی عدالت عظمی کے جج نے سرکاری اراضی پر سابقہ کالج انتظامیہ کی جانب سے تعمیر کی گئی ناجائز بلڈنگ کو گرانے اور اسکا سارا سامان ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا محکمہ ریونیو کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر بورے والا عادل عمر عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -