ملالہ فنڈکے شریک بانی ملالہ یوسفزئی اور ضیاء الدین کا دورہ لاہور 

  ملالہ فنڈکے شریک بانی ملالہ یوسفزئی اور ضیاء الدین کا دورہ لاہور 

  

لاہور(سٹی رپورٹر)ملالہ فنڈ کے شریک بانی ملالہ یوسفزئی اور ضیاء الدین یوسفزئی نے رواں ہفتہ لاہورکا دورہ کیا،جہاں انہوں نے ملالہ فنڈ ایجوکیشن چیمپئن نیٹ ورک کے حامیوں اور شراکت داروں کیساتھ ساتھ تعلیم اورحکومت کے نمایاں سٹیک ہولڈرز،ڈیویلپمنٹ کمیونٹی،میڈیا،ڈیجیٹل ثقافتی تخلیق کاروں،طلبہ اورنوجوانوں کے ساتھ بات چیت کی۔لاہور میں ملالہ فنڈ پاکستان اور اس کے ایجوکیشن چیمپیئنز نیٹ ورک نے "پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے ایجنڈے کو چلانے، موجودہ صورتحال اور آگے بڑھنے کے راستہ" کے موضوع پر ایک مکالمہ منعقد کیا۔ مکالمے کا مقصد لڑکیوں کی مشکلات سے متعلق جانکاری، ان کو درپیش کچھ چیلنجز پر بحث اور سٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر ایسی سفارشات پیش کرنا تھا جو اجتماعی اور مسلسل کوششوں کے ذریعے نظام میں تبدیلیوں کا باعث بن سکیں۔ملالہ فنڈ کے شریک بانی ضیاء الدین یوسفزئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”ملالہ فنڈ پاکستان میں سات سال سے کام کر رہا ہے،ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ، لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں پالیسی میں تبدیلی، رہنماؤں کو تعلیم سے متعلق ان کے وعدوں کی یا ددہانی اور لڑکیوں کی آواز کو بلند کرنے کیلئے کام کرتے ہیں، ہم نے جو کامیابیاں اور شراکتیں کی ہیں، ان کو دیکھ کر مجھے بہت فخر ہوتا ہے۔"اس مکالمہ میں ارکان پارلیمان،حکومتی نمائندوں،این جی اوز،ماہرین تعلیم اور سکول کی لڑکیوں سمیت 50سے زائد شرکاء نے شرکت کی،جس میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون و انصاف مہناز اکبر عزیز،پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر منظر جاوید علی، ورلڈ بینک کی سینئر ایجوکیشن سپیشلسٹ عزا فرخ،ایجوکیشن گورننس ایکسپرٹ عمر مختار خان،ادارہ تعلیم و آگاہی کی سی ای او بائیلا جمیل،شریک بانی و سی ای او تعلیم آباد ہارون یاسر اورسائنس فیوز کے سینئر پراجیکٹ افسر امام معین اویسی شامل تھے۔ ملالہ یوسفزئی اور ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنے دورہ کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی جنہوں نے ہائی سکولوں میں سائنس اورریاضی کے اساتذہ کی کمی کے معاملے کو اٹھانے والے شریک بانیوں کے سامنے، سٹیم میں 25,000 اساتذہ کو بھرتی کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر جسمانی سزا پر پابندی سے متعلق نئے قانون کی پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی۔وزیر اعلیٰ نے شریک بانیوں کی درخواست پرملالہ فنڈ سٹیم پارٹنرشپ کو مزید فعال کرنے کے لیے سٹیم پی سی۔ون  کے لیے پہلے سے منظور شدہ فنڈکے اجراء میں تیزی لانے کے لیے اپنے دفتر کے عملہ کو خصوصی ہدایت بھی کی۔سیکنڈری اسکول جانے والی لڑکیوں کی سائنس،ٹیکنالوجی،انجینئرنگ،آرٹس اور ریاضی (سٹیم)کی تعلیم تک رسائی کا فروغ،پاکستان میں ملالہ فنڈ کا ایک بڑا ستون ہے،جو اس وقت وفاقی وزارت تعلیم کے ساتھ ملکر پاکستان بھر میں 13000ہائی سکولوں کی اصلاح کیلئے دیگر شراکت داروں کے ساتھ (سٹیم) ایجوکیشن کے نفاذ کیلئے کام کررہے ہیں۔ملالہ فنڈ پاکستان کے ڈائریکٹر جاوید احمد ملک نے اس موقع پر کہا کہ، "ہم اس ہفتے سیکرٹری سکولز ایجوکیشن وقاص علی محمود سے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ساتھ مصروفیت جاری رکھی جاسکیں۔ حکومت،ملک میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، اور ملالہ فنڈ تکنیکی مدد، پالیسی مصروفیت اور مؤثر شراکت داری کے ذریعے اس کام کی حمایت کرے گا۔"ملالہ یوسفزئی نے پاکستان میں رہتے ہوئے لاہور سے ابھرتی ہوئی اور موثر آوازوں بشمول تخلیق کاروں، اثر و رسوخ، ڈیجیٹل میڈیا اور ثقافت کے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے لیے نشست رکھی، تاکہ تعلیم، فعالیت، فنون لطیفہ، ثقافت، موسیقی اور کھیل وغیرہ میں پاکستان کے حال اور مستقبل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔ شریک بانیوں کے ساتھ لاہور میں آکسفورڈ پاکستان پروگرام (او پی پی)کے ایک وفد نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں "21ویں صدی کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعمیر" کے موضوع پر ایک مباحثے میں شرکت کی۔ ملالہ یوسفزئی، لمز کے بانی سید بابر علی، لمز کے ڈین ڈاکٹر فیصل باری، پروفیسر اسٹیفن بلیتھ، لیڈی مارگریٹ ہال، آکسفورڈ کے پرنسپل اور ڈاکٹر نک براؤن، لینکر کالج، آکسفورڈ کے پرنسپل اس ڈسکشن پینل میں شامل ہوئے، جس کے بعد شریک بانی پرانے شہر کی سیر کے ساتھ لاہور کے ثقافتی ورثے سے لطف اندوز ہوئے۔شریک باینیوں نے آخری بار اکتوبر2022میں سندھ میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی نوجوان خواتین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات اور عالمی برادری سے پاکستان کیلئے اعلان کردہ امداد میں اضافہ کے مطالبہ کیلئے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔اس دورہ کے دوران ملالہ نے ملالہ فنڈ کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے پاکستانی اداروں کو7لاکھ امریکی ڈالرز(154ملین پاکستانی روپے)کی امداد کے عزم کا بھی اظہار کیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی

مزید :

صفحہ اول -