پاکستان میں 91 فیصد کھلا دودھ انسانی صحت کیلئیغیر محفوظ قرار 

پاکستان میں 91 فیصد کھلا دودھ انسانی صحت کیلئیغیر محفوظ قرار 

  

لاہور (پ ر) یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز کے دودھ کے معیار اور سیفٹی کے حوالے سے منعقدہ ایک حالیہ ملک گیر سروے سے پتہ چلا ہے کہ 91 فیصد کھلے دودھ کے نمونے صحت عامہ کے معیار اور سیفٹی پیرا میٹرز سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس حوالے سے 15 دسمبر 2022کو ایمپوریم ہوٹل لاہور میں منعقدہ تقریب میں میڈیا کے نمائندوں کے سامنے اس جائزے کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ریگولیٹری حدود کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھلے دودھ کے معیار اور سیفٹی کے حوالے سے 5 پیرا میٹرز کی پڑتال کی گئی  جس میں ترکیب، بلوغیت، اینٹی بایوٹک، ایفلو ٹیکسن ایم ون اور بھاری دھاتوں کی موجودگی شامل ہیں۔کھلا دودھ زیاد ہ تر ان  تمام بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترا۔پاکستا ن میں اس سے قبل کھلے دودھ کے معیار اور سیفٹی کے حوالے سے قومی سطح پر کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔یو وی اے ایس کے اس قومی جائزے کامقصد یہی ڈیٹا فراہم کرنا ہے۔اس قومی سرو ے کے دوران ملک کے 11 شہروں سے نیلسن کے ذریعے اعدادوشمار اکٹھے کیے تھے۔جو کہ معروف بین الاقوامی ریسرچ ایجنسی ہے اور مصدقہ نتائج کو یقینی بنانے کے لیے نمونے اکھٹے کرنے کا مخصوص نظام رکھتی ہے۔اس سروے کی تفصیلی رپورٹ لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں پیش کی گئی جس میں ڈاکٹر عظمت اللہ خان، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ خوراک سائنس اور انسانی غذائیت، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز،یو وی اے ایس لاہورشامل ہیں اور اس پروجیکٹ کے بنیادی انویسٹی گیٹر ہیں۔اس موقع پر یو وی اے ایس کے وائس چانسلر ڈاکٹر نسیم احمد (ستارہ امتیاز) بھی موجود تھے۔

اس کے علاوہ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا (ستارہ امتیاز) نے بھی اس کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔یہ بات نہایت اہم ہے کہ پاکستان دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔جس میں سے 95 فیصد دودھ کی کھپت کھلے دودھ پر مشتمل ہے۔یہ کھلا دودھ روایتی طریقے سے دودو فروشوں اور کھلے دودھ کی دکانوں اور گاڑیوں کے ذریعے غیر محفوظ طریقے سے صارفین تک پہنچایا جاتا ہے۔

کھلے دودھ کی سپلائی کا یہ نظام غیر منظم اور ضوابط کے مطابق نہیں ہے۔اسی وجہ سے دودھ کے معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا اور اس میں صحت عامہ کے لیے سنگین مسائل، مضرات اور نقصانات موجود ہیں۔عام طور پر کھلے دودھ کی سپلائی چین میں موزوں ٹرانسپورٹیشن نہیں ہوتی جس میں مائیکرو بیالوجیکل نمو اور بقاء کا کوئی نظام نہیں اور ایسی گاڑیوں میں غذائی پیتھوجنز موجود ہوتے ہیں۔اس  حوالے سے  دودھ میں مائیکروبیل آلودگی، اینٹی بیکٹیریل ڈرگز، کرم کش عناصر، مائکوٹائیکزن، بھاری دھاتیں اور ایڈلٹرینٹس بھی پائے گئے ہیں جو صحت عامہ کے لیے نہایت خطرناک عناصر ہیں۔اس موقع پر ڈائریکڑ جنرل، پنجاب فوڈ اتھارٹی مدثر ریاض ملک نے بھی محفوظ دودھ کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔مہمان خصوصی سردار شہاب الدین خان ساہیر، وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ بھی تقریب میں موجود تھے۔اس قومی سروے کی روشنی میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ضابطہ کار ادارے فوری کارروائی کریں اور عوام میں کھلے دودھ کے انسانی صحت اور سیفٹی  پر مضر اثرات کے بارے میں آگہی کو فروغ دیا جائے۔یہ ایک قومی مسئلہ ہے اور سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

مزید :

کامرس -