متاثرین سانحہ آرمی پبلک سکول کے دکھ میں برابر شریک ہیں: مشتاق احمد غنی

متاثرین سانحہ آرمی پبلک سکول کے دکھ میں برابر شریک ہیں: مشتاق احمد غنی

  

       پشاور،ایبٹ آباد (نیوز رپورٹر+بیورو رپورٹ)اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول میں خون کی ہولی کھیلی گئی،دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو بے دردی سے شہید کیا۔اس ہولناک دن کو بھلانا ناممکن ہے۔والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔قوم کے بلند حوصلوں سے اس مشکل کا مقابلہ کیا۔ خیبر پختون حکومت نے تعلیم کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں رکھا ہے۔نونہالان قوم ہمارے اپنے بچے ہیں۔ اساتذہ اپنی زمہ داری کو احسن طور پر انجام دیں ان کو معیاری تعلیم دیں تاکہ ان کا مستقبل روشن اور درخشاں ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ایبٹ آباد ہائی سکول جھنگی میں سکولز ٹورنامنٹ کی سالانہ تقسیم انعامات تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں تحصیل میئر ایبٹ آباد سردار شجاع نبی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایبٹ آباد ملک تنویر،چیئرمین تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد شفیق الرحمن، اشفاق خان جدون ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مانسہرہ،ضلعی چیئرمین ذکوۃ کمیٹی طارق محمود،سرکاری سکولزکے پرنسپلز،اساتذہ کرام اور ٹورنامنٹ میں کامیاب سکولز کی ٹیموں کے طلباء بھی شریک تھے۔اس موقع پر تحصیل میئر سردار شجاع نبی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک تنویر اعوان،سیکرٹری ٹورنامنٹ ارشد خان اور دیگر نے خطاب کیا۔سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا 2014 میں 16 دسمبر کو بڑا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا دہشتگردوں نے  آرمی پبلک  سکول پشاور موت اور خون کی ہولی کھیلی گئی جس کی مثال نہیں ملتی۔بچوں کے خون سے ہال میں خالی جگہ نہیں تھی۔ننھے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ان کے والدین کے صبر جمیل کی دعا کرتا ہوں۔انہوں اس موقع پرشہداء سے یکجہتی کے لئے  دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔اور ان کے ایصال کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا سکولز ٹورنامنٹ کی رونقیں پاکستان کے دم قدم سے ہے۔ایبٹ آباد میں محکمہ تعلیم کے افسران بڑی محنت سے اپنے کام کو سرانجام دے رہے ہیں۔ہائی سکول نمبر تین اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے صوبہ بھر میں شہرت رکھتا ہے یہاں داخلے کے لئے سفارشیں آتی ہیں۔باقی سکولز بھی اسی طرح اپنا مقام بنائیں۔انہوں نے جھنگی ہائی سکولز کی گراؤنڈ کی اپ گریڈیشن کا بھی اعلان کیا۔ایبٹ آباد میں بانڈہ سنجلیاں میں بڑا کرکٹ گراؤنڈ بنارہے ہیں۔ڈھوڈیال میں بھی گروانڈ تعمیر کریں گے اور دوتار دہمتوڑ میں سپورٹس کمپلیکس بنائیں گے۔ہاکی گراؤنڈ کی آسٹروٹرف 12 کروڑ سے کام مکمل ہوچکا ہے۔قبل ازیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک تنویر اعوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم میں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ہمارا رٹہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سیکرٹری ٹورنامنٹ محمد ارشد نے سپاس عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سالانہ ٹورنامنٹ میں کرکٹ کی 70،والی بال 60،ہاکی 12،فٹبال 16،باسکٹ بال 12، رسہ کشی 40،بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس 20،20 ٹیموں نے حصہ لیا جب کہ اتھلیٹکس اور ادبی مقابلوں میں ضلع بھر طلباء نے بھرپور شرکت کی۔انہوں نے کھیلوں کے دوران گراؤنڈز کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے سکولز میں گراؤنڈ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔اس موقع پر ٹورنامنٹ میں کامیاب رنر اور ونر ٹیموں میں ٹرافیاں اور مہمان گرامی میں خصوصی شیلڈ بھی پیش کی گئیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -