عدالتی نظام میں ڈیجٹیلائزیشن وقت کا تقاضا ہے: جسٹس روح الامین 

عدالتی نظام میں ڈیجٹیلائزیشن وقت کا تقاضا ہے: جسٹس روح الامین 

  

       چارسدہ(بیورورپورٹ) پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس روح الامین نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے سائلین کو انصاف کی فراہمی میں مزید آسانی آنے کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام مزید تیز ہوگا۔جوڈیشنل کمپلکس میں خواتین کے الگ سہولت ڈسک کے قیام سے خواتین سائلین کو عدالتی کاروائی کی پیروی میں اب کسی قسم کی مشکل نہیں رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے چارسدہ جوڈیشل کمپلکس میں ڈیجیٹل کاپی برانچ، انسٹیوٹ برانچ اور خواتین سہولت ڈسک کا افتتاح  کے موقع پر کیا، اس موقع ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سائرہ بانو سمیت دیگرججز، ڈسٹرکٹ بار کے صدر مجیب خان ایڈوکیٹ اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالرحمان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انسٹیٹوٹ برانچ میں سابق جنرل سیکرٹری بار ایسوسی ایشن سیف اللہ خان چینہ نے دعو یٰ جمع کیا جسے جسٹس روح الامین نے خود وصول کرکے برانچ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس روح الامین کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام میں ڈیجٹیلائزیشن وقت کا تقاضا ہے، عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے نہ صرف عدالتی نظام میں تیز ی آئے گی بلکہ اس سے سائلین کو بھی فوری او ر سستا انصاف ملے گا۔ تقریب سے خطاب کے دوران جسٹس روح الامین کا کہنا تھا صوبے میں  اضلاع کی سطح پر چارسدہ جوڈیشنل کمپلکس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے ججز اور بار کے تعاون سے  صوبے میں پہلے مرتبہ اضلاع کی سطح پر جوڈیشل نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کا نظام متعارف کرایا ہے۔ جوڈیشنل سسٹم میں کاپی برانچ کے افتتاح سے سائلین کو اپنے کیسز کے حوالے سے نقول کے حصول میں آسانی ہوگی جبکہ انسٹیٹوٹ برانچ کے فعالیت سے ہر قسم کے دعویٰ داخل کرنے میں وکلاء برادری کو بھی آسانی ہوگی  اسی طرح کورٹس میں آنے والے خواتین کے لئے سہولت ڈسک کے قیام سے خواتین کو اپنے کیسز کی پیروی اور ہر قسم کی معلومات حاصل کر نے میں آسانی ہوگی۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے جوڈیشری نے کم وسائل کے باوجود 2016میں عدالتی نظام میں جدت لانے کے لئے پہلا قدم اٹھایا جہاں ریکاڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل کورٹس اور سپیڈی ٹرائل شروع کئے جس سے نہ صرف برسوں سے عدالتوں میں پڑے کیسز حل ہو گئے بلکہ اس سے سائلین کو بھی عدالتی سے سستا اور فوری انصاف مل رہا ہے۔ جسٹس روح الامین کے مطابق علداتی نظام میں مزید جدت لانے اور سائلین کو سہولت فراہم کرنے کے لئے مزید اصلاحات کئے جا رہے ہیں جس کے ثمرا ت بہت جلد سائلین کو موصول ہونگے۔ اس موقع پر تقریب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سائرہ بانو نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -