عمران خان آج اسمبلیاں توڑنے کی ڈیڈ لائن دینگے، نیب کیسز کا فیصلہ جنرل (ر) باجوہ کرتے تھے: چیئر مین تحریک انصاف

عمران خان آج اسمبلیاں توڑنے کی ڈیڈ لائن دینگے، نیب کیسز کا فیصلہ جنرل (ر) ...

  

         لاہور(جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج لبرٹی چوک میں بڑے جلسے سے خطاب کریں گے اس دوران وہ پنجاب اسمبلی اور کے پی کے اسمبلی تحلیل کرنے والے سے بھی ڈیڈ لائن دیں گے اس حوالے سے عمران خان نے اپنی قیادت سے صلاح مشورے مکمل کر لیے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الہی نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ یہ اسمبلیوں کی تحلیل کا مناسب وقت نہیں ہے یہ کام اگر آئندہ مالی سال کے بجٹ پیش کرنے کے بعد کر لیا جائے تو مناسب ہوگا سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، نیب والے کہتے تھے ان کے کیسز میچور لیکن پیچھے سے اجازت نہیں، کیسز کا فیصلہ جنرل(ر) باجوہ کرتے تھے،شہبازشریف کا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا لیکن سماعت نہیں ہوتی تھی، ملک میں قانون نہیں طاقت کی حکمرانی ہے۔ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ملک کا سب سے زیادہ اہم سبجیکٹ رول آف لاۂے، ملک دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، ملک میں رول آف لاء  ہوگا تو ملک دلدل سے نکلے گا، جس ملک میں رول آف لاء  نہیں ہوگا وہاں خوشحالی نہیں آ سکتی، پاکستان میں پچھلے 8 ماہ میں رول آف لاء کی دھجیاں اڑائی گئیں جس کی مثال نہیں ملتی، آج کسان، تاجر سمیت تمام طبقے خوفزدہ ہیں، گزشتہ 7 ماہ میں جو کچھ ہوا لوگ مایوس ہو چکے ہیں، مایوسی کی وجہ سے لوگ بیرون ملک جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رول آف لاء  شہریوں کو لیول پلائنگ فیلڈ دیتا ہے، ملک میں گزشتہ 8 ماہ میں جنگل کا قانون رائج تھا، اپنی لیگل کمیونٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ انہیں اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی، پاکستان میں جنگل کا قانون بن گیا ہے، سارے چوراوپرآ کربیٹھ گئے، 26 سال سے رول آف لائکی جدوجہد کر رہا ہوں، جب کوئی ادارہ اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھے تو پھرملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا، حکومت میں ہوتے ہوئے کہتا تھا ان کو این آراو نہیں دوں گا، آج ان لوگوں کواین آراو مل گیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے دورمیں 6 فیصد گروتھ اورکسان خوشحال تھا، ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ گئے مطلب ملک میں مایوسی ہے، الیکشن کمیشن نے 8 دفعہ ہمارے خلاف فیصلے دیے، ملک کے مافیا کا مقصد ملک میں رول آف لاء  کو ختم کرنا ہے، اگرملک میں رول آف لاء ختم ہوا تو ان کے بچے ہم پرحاوی ہو جائیں گے، جب تک زندگی ہے رول آف لاء کے لئے لڑوں گا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا شہباز شریف کے بیٹے نے ملازمین کے نام پر پیسے منگوائے، پہلے منڈی لگا کر رجیم چینج کروائی گئی، حکومت نے آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اپنے کرپشن کیسز ختم کرائے، سب کے باری باری کرپشن کیسزختم ہو رہے ہیں، ایسا تو شاید بنانا ری پبلک میں بھی نہیں ہوتا۔ لیگل کمیونٹی کو ہر طرح کا پریشر ڈالنا چاہیے، کوئی بھی مقدس گائے نہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ مغربی جمہوریت میں کوئی تصور نہیں کر سکتا کہ چوری کرنے والوں کو مسلط کر دیا جائے، نیب والے کہتے تھے ان کے کیسز میچور ہیں لیکن پیچھے سے اجازت نہیں، کیسز کا فیصلہ جنرل باجوہ کرتا تھا۔ شہباز شریف کا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا لیکن سماعت نہیں ہوتی تھی، ملک میں قانون نہیں طاقت کی حکمرانی ہے، اس وقت ملک کے بڑے بڑے کریمنل باہر بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -