خواتین کے حقوق کیلئے قانون سازی کی جائے،ڈاکٹر خالد مقبول

خواتین کے حقوق کیلئے قانون سازی کی جائے،ڈاکٹر خالد مقبول

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام 18دسمبر کو نشتر پارک میں منعقد ہونے والے خواتین کنونشن کے سلسلے میں ڈیفنس میں ایک انٹلیکچول سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، این جی اوز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ڈیفنس کلفٹن کی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیشن میں کنوینر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت ڈپٹی کنوینر و سابق سینیٹر نسرین جلیل اراکین رابطہ کمیٹی محفوظ یار خان، طحہ احمد خان سابق رکن قومی اسمبلی خوشبخت شجاعت و دیگر معززین شریک تھے۔ کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عورت کسی بھی معاشرے میں بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے اور خواتین کا ایم کیو ایم میں بھی ہمیشہ اہم کردار رہا ہے ہماری کوشش یہ ہے کہ خواتین کے تمام حقوق کیلئے قانون سازی کی جائے پاکستان میں قانون سازی کیلئے اسمبلیاں موجود ہیں اور اس میں ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے 98 فیصد غریب و متوسط طبقے کے افراد بھی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اورعددی اکثریت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آبا اجداد کو تاریخ کا معلوم تھا ہمارے اجداد نے بہت بڑی تعداد میں سندھ کے مختلف شہروں میں ہجرت کرکے انہیں آباد کیا اور جب وہ ہجرت کرکے آئے تو اپنے ساتھ 2 شناخت لے کر آئے پہلی پاکستان اور دوسری مہاجر اور شناخت وہی ہوتی ہے جسے دوسرا تسلیم کرتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمیں آج تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایم کیو ایم کے وزیر تعلیم ایم اے جلیل نے جتنے کام کئے اتنے کسی بھی وزیر تعلیم نے نہیں کئے وہ سب کے سامنے ہے اندرونِ سندھ میں ایم کیو ایم بننے سے پہلے نوجوان کو یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا تھا داخلے کیلئے آئے طلبا کو مارا پیٹا جاتا تھا لیکن حالات نے سب کو خود بتایا جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہم دنیا کے سب سے بڑے فیوڈل معاشرے میں رہتے ہیں ہمارے خلاف ہونے والی تمام سازشیں ناکام ہوتی جارہی ہیں ہمیں جتنا دبائیں گے ہم اتنا ہی ابھر کر سامنے آئیں گے اور آنے والے وقت میں ہم سے بہتر لوگ اس تحریک کی کمان سنبھالیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد مقبول نے کہا کہ بہت مجبوری کے حالات اور عوام کے بہتر مفاد میں پی ٹی آئی سے معاہدہ کیا تھا لیکن افسوس کہ ایک بھی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا عمران نیازی اور نواز شریف کی جماعتوں سمیت کسی بھی جماعت کے کارکنان لاپتہ یا شہید نہیں جس طرح ایم کیو ایم کے ہیں اور عمران نیازی کی جماعت نے پاکستانی افواج، اعلی عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی اور غلط زبان استعمال کرنے پر ایم کیو ایم انکی حکومت سے علیحدہ ہوی۔ انہوں نے کوٹہ سسٹم پر کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرٹ کا فیصلہ کرنے کیلئے فیصلہ کرنے والوں کو پہلے میرٹ پر لایا جائے تب ہی میرٹ پر فیصلہ ممکن ہے۔ سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے خوشبخت شجاعت کا کہنا تھا کہ ہماری زبان کو ایک اہم مقام حاصل ہے زبان ہی ہماری شناخت کا پتہ دیتی ہے کہ ہمارا تعلق کس معاشرے سے ہے ہماری زبان اور معاشرے کے بڑے لوگوں نے دنیا میں اس ملک کا نام روشن کیا ہے۔ سیشن کے اختتام پر عالیہ امام نے اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے سامعین کی فرمائش پر کچھ اشعار پیش کیے اور سامعین سے داد وصول کی۔

مزید :

صفحہ اول -