قطر سے رشوت لینے کا معاملہ، یورپی یونین کے مزید قانون سازوں کے نام سامنے آگئے

قطر سے رشوت لینے کا معاملہ، یورپی یونین کے مزید قانون سازوں کے نام سامنے آگئے
قطر سے رشوت لینے کا معاملہ، یورپی یونین کے مزید قانون سازوں کے نام سامنے آگئے

  

برسلز (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی یونین کے قانون سازوں کے مزید نام اس تحقیقات کے سلسلے میں سامنے آ رہے ہیں کہ قطر اور مراکش پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے یورپی یونین کے قانون سازوں کو رشوت دینا چاہتے تھے اور بدعنوانی کے معاملات کو چھپانے کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کے نیٹ ورکس کا استعمال کرتے تھے۔

یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور سوشلسٹ پیئر انتونیو پنزیری ان چار افراد میں شامل ہیں جن پر بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور مجرمانہ گروہ کا حصہ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ برسلز پولیس نے پنزیری کی رہائش گاہ سے  چھ لاکھ یورو کی نقد رقم برآمد کی۔ وہ 2004 سے 2019 تک یورپی پارلیمنٹ کے رکن رہے۔

اس سے قبل یونانی رکن یورپی پارلیمنٹ ایوا کیلی کو اس کیس سے منسلک ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے والد کے پاس ایک علیحدہ سوٹ کیس ملا جس میں چھ لاکھ یورو نقدی  تھی۔یونانی قانون ساز نے دعویٰ کیا ہے کہ سوٹ کیس پنزیری کا تھا۔ اس کے گھر سے کئی لاکھ مزید یورو ملے، جس سے ضبط شدہ نقدی کی کل رقم تقریباً 1.5 ملین یورو ہو گئی۔ اٹلی میں استغاثہ نے لومبارڈی میں پنزیری کی رہائش گاہ سے 17 ہزار یورو نقدی اور لگژری گھڑیاں بھی ضبط کیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق پیئر انتونیو پنزیری، ایوا کیلی، فرانسسکو جیورگی، ماریا کولیونی، سلویا پنزیری، لوکا ویسینٹینی، مارک ترابیلا، نکولو فیگا-تلامانکا اور ایک نامعلوم شخص کا نام تحقیقات میں سامنے آیا ہے اور ان پر  الزامات ہیں کہ ایک 'خلیجی ملک ' نے ان افراد کو رشوت دی تھی۔  ان تمام چھ افراد کو جاری تفتیش کے حصے کے طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور دو کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

کئی ممالک اس تفتیش کا حصہ ہیں جو بیلجیئم VSSE ریاستی سیکیورٹی سروس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ ماریا کولیونی اور سلویا پنزیری، پیئر انتونیو پنزیری کی اہلیہ اور بیٹی کو بالترتیب ایک اطالوی جج نے رہا کر دیا۔ان پر بدعنوانی کی مدد اور حوصلہ افزائی کے الزامات ہیں۔ وزیر انصاف ونسنٹ وان کوئیکن بورن نے میڈیا کو بتایا کہ یورپی پارلیمنٹیرینز کی رشوت ستانی میں ایک سے زیادہ قومیں ملوث ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -