نظام عدل پر سفلی خواہشات کی نحوست

    نظام عدل پر سفلی خواہشات کی نحوست
    نظام عدل پر سفلی خواہشات کی نحوست

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جسٹس اعجاز الاحسن نے چیف جسٹس کو کچھ اعتراضات پر مبنی خط لکھا تو چیف نے جواب دیا: "آپ کا خط ملنے پر میں نے انٹر کام پر آپ سے رابطہ کیا تو جواب نہ ملا۔ میرے اسٹاف نے آپ کے سٹاف سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ جمعہ کی دوپہر کو لاہور چلے گئے ۔ ہمیں 6 دن کام کی تنخواہ ملتی ہے نہ کہ ساڑھے 4 دن کی". چیف جسٹس کے مسکت جواب کے بعد اب تک ڈیڑھ دن تک بدون اذن ان کی غیر حاضری کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ بدون اذن یوں کہ چیف جسٹس کو بتائے بغیر جج شہر نہیں چھوڑ سکتا۔ چھوٹا سرکاری ملازم یہ حرکت کرے تو اس کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے ۔جسٹس اعجاز الاحسن کی اس غیر حاضری کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔ پر اچھا ہوا، مقدس ادارے پر قابض کرداروں کے چہرے چند سالوں سے کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ یہیں سے بہتری کی کچھ امید کی جا سکتی ہے ۔

راولپنڈی کے وکلا سے پتا کر لیجئے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ دو تین ہفتوں بعد راولپنڈی بینچ کا دورہ کرتے ہیں۔ ان کے عدالتی حدود میں داخل ہوتے ہی ہا ہا کار مچ جاتی ہے ۔ تمام جج سماعت چھوڑ کر استقبال کو باہر آ جاتے ہیں۔ پھر کون سی سماعت اور کیسی سماعت ؟ سائل بے پناہ وسائل خرچ کر کے بمشکل تاریخ نکلواتے ہیں، وکیلوں کے ناز نخرے سہتے ہیں لیکن اس عدالتی دھماچوکڑی اور لڈو کی بساط پر سائلوں کے 99 پر جاتے ہی وہ بیچارے خونخوار استقبالی سانپ کے کھلے منہ سے ہوکر پھر صفر پر پہنچ جاتے ہیں۔ پنڈی کا یہ حال ہے تو ملتان، بہاولپور کا حال بھی یہی ہوگا کہ ان کے چیف جسٹس بھی یہی ہیں۔ یاد آیا ملتان بینچ نے کرکٹ بورڈ کو خط لکھا تھا کہ معزز جج صاحبان اہل خانہ کے ہمراہ میچ سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ خط میں 30 مفت وی وی پی آئی ٹکٹ مانگے گئے تھے ۔ پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ۔

دو ماہ قبل کے اخبار ملاحظہ کیجئے ۔ لاہور ہائی کورٹ ہی کے معزز جج جسٹس باقر علی نجفی کے لیے وزارت خارجہ کو خط لکھا گیا کہ ان کے بیٹے کو ابو ظہبی پھر امریکہ کے لیے وی آئی پی پروٹوکول دیا جائے ۔ وزارت خارجہ نے پروٹوکول تو کیا دینا تھا، جج صاحب کا بھرپور تعارف خوب ہو گیا لیکن ان دو مثالوں سے اپنی بری بھلی جمہوریت میں عدلیہ کی بیچارگی نہ سمجھ لیجئے ۔ واماندگی شوق کو پناہیں تراشنے میں نامرادی ہاتھ آئے تو آزاد عدلیہ تو صاحب بہرحال آزاد ہوتی ہے ۔ جسٹس باقر نجفی نے بیوروکریسی سے انتخابی عملہ لینے کا فیصلہ معطل کر کے تمام انتخابی عمل پر بے یقینی کی چادر ڈال دی تھی۔ کاش ہماری بھولی وزارت خارجہ ابوظہبی ایئرپورٹ پر خصوصی پروٹوکول کا بندوبست کر دیتی۔ لیکن لاہور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار پنجاب تک محدود ہے تو جج صاحب نے پورے ملک کا انتخابی عمل کس اختیار کے تحت معطل کیا۔ یہ سوال سپریم جوڈیشل کونسل کے سوچنے کا ہے ۔ لیکن جسٹس باقر نجفی کو کس نے پوچھنا ہے ، نزلہ بر عضو ضعیف کہ مصداق بے چارہ درخواست گزار لپیٹ میں آ گیا جو محض انصاف لینے کی پاداش میں اب پیشیاں بھگتا کرے گا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سرمائی تعطیلات گزارنے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ اگلا کاش یہ کہ کاش چیف جسٹس یہ چھٹیاں نہ کرتے ۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ سپریم کورٹ کے دیگر 14 جج بھی محترم ہیں۔ لیکن چیف جسٹس ایک ہی ہے جو قاضی فائز عیسیٰ ہے ۔ ان سے میری یہی استدعارہتی ہے کہ بدلنا ہے تو مے بدلو، طریق مے کشی بدلو۔۔۔۔۔۔ یہ جو انہوں نے 6 دن اور ساڑھے 4 دن کی تنخواہ کا ذکر کیا ہے ، جناب ! سائل تو اسے عرصے سے بھگت رہے ہیں۔ راولپنڈی بینچ کا کوئی بھی وکیل یا سائل بتا سکتا ہے کہ جمعہ کو 12 بجتے ہی معزز جج صاحبان اپنے اپنے شہروں کو چلے جاتے ہیں۔ ساڑھے 4 دن کے عوض 6 دن کی تنخواہ لینے پر کوچہ عدل میں مکمل اور خاموش افہام و تفہیم پائی جاتی ہے جس کا ذکر بھی شجر ممنوعہ ہے ۔ سینہ "عدل" میں محفوظ اس راز کو گھر کے چراغ ہی نے فاش کر ڈالا۔ اللہ خیر کرے۔

قاضی فائز عیسیٰ کے پاس 10 ماہ باقی ہیں۔ پھر چھٹیاں ہی چھٹیاں ہیں۔ موجودہ حالات میں وہ پانچوں ہائی کورٹوں، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججوں کی مشاورت سے تمام عدلیہ کے لیے دیرپا قواعد وضع کر کے ریٹائر ہوں تو آئیندہ کوئی ثاقب نثار یا بندیال ان قواعد سے نہیں ہٹ سکے گا۔ ورنہ ہر جج کے صوابدیدی اختیارات سائلوں کے لیے عدالتی پھندا بنے رہیں گے ۔ چیف ان 10 ماہ کے ایک ایک لمحے کو کشید کر کے نئے نئے قواعد وضع کریں تاکہ آزاد عدلیہ سے مراد آئین و قانون و قواعد کی بندشوں میں کسی ہوئی عدلیہ ہو، نہ کہ کلرکہار میں بیک جنبش لب صدیوں پرانے تاریخی ورثے کو آن واحد میں برباد کرنے والی عدلیہ ہو۔ کلر کہار میں جج صاحب کو جگہ کیا پسند آئی کہ فوری قبضے کے بعد وہاں سے قیمتی پھلدار اور پیپل کے پرانے درخت ان کی پسند کے بھینٹ چڑھ کر کاٹ دیے گئے ۔ عدلیہ کو آئین شکن جرنیلوں کا سہولت کار کہا جاتا ہے ۔ پانچ آئین شکن جرنیلوں کے کرتوتوں کے نتیجے میں پچھلے ہفتے ہم اپنے 23 بیٹوں کی شہادت کا داغ دل پر لگا چکے ہیں۔ یہ سلسلہ ختم ہونے میں آ ہی نہیں رہا۔ یہ بڑھتا رہا تو عوامی رد عمل سہولت کاروں کے تعاقب میں بھی نکل سکتا ہے ۔ مشتری ہوشیار باش !

عام روایتی جج کا ذکر ہو تو قاضی فائز عیسیٰ فی الحال صف اول کے عادل ججوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں یہ کافی نہیں ہے ۔ جس ٹوٹی پھوٹی لڑکھڑاتی عدلیہ کے عہد میں وہ چیف جسٹس بنے ہیں، وہ عہد نہ تو انہیں چھٹیوں کی اجازت دیتا ہے اور نہ محض مقدمات کا بوجھ کم کرنے کا تقاضا کرتا ہے ۔ مقدمات کا بوجھ کم کرنا یقینا اہم ہے ۔ بھلے وہ یہ بھی کرتے رہیں۔ لیکن یہ عہد ان سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ وہ عوام کے دلوں میں عدلیہ کا احترام پیدا کرائیں۔ یہ کام عدلیہ کی داخلی درستی ہی کے ذریعے ممکن ہے ۔ ملک بھر کی عدلیہ کی مشاورت سے چیف جسٹس اعلیٰ عدلیہ سے چھچھورا پن ہی نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو بڑی بات ہوگی۔ نچلی عدلیہ خود ٹھیک ہو جائے گی۔ سائلوں کو تو وث آئے دن ڈانٹتے رہتے ہیں کہ افسران کے ساتھ صاحب کیوں لگایا یا حافظ کیوں لکھا۔ وہ کب اس طرف دھیان دیں گے کہ ہائی کورٹ کا چیف کسی بینچ کے دورے پر جائے تو معلوم ہوتا ہے ، وائسرائے کی سواری آرہی ہے ۔ پھر کون سا مقدمہ اور کیسی سماعت؟ آخری کاش یہ کہ کاش چیف جسٹس گھر کی داخلی حالت کو قواعد وضع کر کے ٹھوس بنیادوں پر سنوارنے کی طرف توجہ دیں۔ اے کاش۔

مزید :

رائے -کالم -