عبدالقادر ملا شہید کو پھانسی کی سزا

عبدالقادر ملا شہید کو پھانسی کی سزا
عبدالقادر ملا شہید کو پھانسی کی سزا

  



عبدالقادر ملا شہید کو 16 دسمبر 2013 ءکو بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کے حکم پر پھانسی کی سزا دی گئی۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 1971 ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران میں پاکستانی فوجوں کا ساتھ دیا تھا اور بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور دوسرے جنگی جرائم کا ارتکاب بھی کیا تھا ۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران میں بنگلہ دیشی عورتوں کی عزتیں بھی لوٹی تھیں۔ اگرچہ ان کے خلاف کچھ دوسرے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں لیکن ان پر بنیادی فرد جرم یہی ہے، جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ہم یہاں ان کے خلاف عائد فرد جرم میں شامل ان بڑے بڑے الزامات کا خالص علمی انداز میں جائزہ لیتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ پوری فرد جرم محض فرضی الزامات پر مشتمل ہے اور اس میں حقیقت نام کی کوئی بات نہیں ہے۔ صرف مغالطے ہی مغالطے ہیں جن سے عبدالقادر ملاؒ کو دی جانے والی اس پھانسی کی سزا کے بارے میں بنگلہ دیشی عوام اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے عبدالقادر ملا شہید کو دی گئی پھانسی کی سزا کے پس منظر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمان پہلے دن سے پاکستان کی آزادی کی تحریک کے ہراول دستے میں شامل رہے ، اس لیے کہ بنگال میں خاصی بڑی تعداد ہندو¶ں کی بھی تھی اور بنگالی مسلمان برسوں ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ان کا رویہ اور سلوک ان کے ساتھ کیا ہے؟ وہ ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے بری طرح ڈسے ہوئے تھے اور پھر جب 1937 ءمیں بنگال اور دوسری ریاستوں میں کانگرسی حکومتیں قائم ہوئیں تو ہندو¶ں کا خون آشام چہرہ پوری طرح کھل کر سامنے آگیا اور ہندو¶ں نے اس موقع پر ہندو مذہب کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کے لیے تمام حربے اختیار کیے۔چنانچہ مسلمان اچھی طرح سمجھتے تھے کہ پاکستان کے قیام کے بعد ان کے ساتھ شودروں اور اچھوتوں سے بھی برا سلوک کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پاکستان کے سلسلے میں قرار داد پیش کرنے والے شیر بنگال مولانا فضل حق کا تعلق مشرقی پاکستان ہی سے تھا اور امر واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے تحریک پاکستان کو مشرقی پاکستان میں منظم کرنے کے لیے دن رات کام کیا۔ ان کے بعد مشرقی پاکستان میں تحریک کا پرچم حسین شہید سہروردی نے تھام لیا۔ ان کے بعد یہ سعادت جناب فضل قادر کے حصے میں آئی جس کی پاداش میں انہیں بھی بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کی حکومت کی طرف سے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ اگرچہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

اس پس منظر کو نگاہ میں رکھتے ہوئے جب ہم بنگلہ دیش میں بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے انالزامات کا علمی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ہے کہ وہ صرف بنگلہ دیشی عوام اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے گھڑے گئے ہیں۔ ذیل میںان نام نہاد الزامات اور مغالطوں کا خالص علمی انداز میں جائزہ پیش کیا جا رہاہے جو اس حقیقت کو پوری طرح نمایاں کردے گا۔

بنگلہ دیش میں آزادی کی کوئی جنگ سرے سے لڑی ہی نہیں گئی۔

بنگلہ دیش 1971 ءمیں سلامتی کونسل کے چارٹر کی پوری خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ جس کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔

مشرقی پاکستان مغربی پاکستان کے دوسرے حصوں اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کی طرح پاکستان کا جزو لاینفک تھا اور (کسی بھی)ملک کے کسی بھی حصے کے خلاف جارحیت کا ارتکاب سلامتی کونسل کے چارٹر کے مطابق غیر آئینی و غیر قانونی تھا، جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا چارٹر کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔

سلامتی کونسل کے چارٹر کے آرٹیکلز 2اور 51 اس سلسلے میں پیش خدمت ہیں:

Article 2 sub section 4 of UN Charter says: " All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state, or in any other manner inconsistent with the Purposes of the United Nations."

Article 51 says: "Nothing in the present Charter shall impair the inherent right of individual or collective self-defence if an armed attack occurs against a Member of the United Nations, until the Security Council has taken measures necessary to maintain international peace and security. Measures taken by Members in the exercise of this right of self-defence shall be immediately reported to the Security Council and shall not in any way affect the authority and responsibility of the Security Council under the present Charter to take at any time such action as it deems necessary in order to maintain or restore international peace and security."

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، بھارت نے بنگلہ دیش کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے اور پاکستان سے الگ کر کے ایک نیا ملک بنانے کے لیے جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے جو غیر آئینی اقدامات اور ہتھکنڈے اختیار کیے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:۔

مشرقی پاکستان کو پاکستان کے خلاف جارحیت کا بیس کیمپ بنانے کے لیے اس میں متحدہ بنگالی ہندو مسلم قومیت کا زہر گھولنا:

بھارت نے مشرقی پاکستان میں متحدہ بنگالی ہندو مسلم قومیت کا زہر گھولنے کے لیے اور سیکولرزم کا بیس کیمپ بنانے کے لیے بڑی کامیابی سے منصوبہ بندی کی ۔ اس سلسلے میں بھارت نے مشرقی پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے اور تحریک پاکستان کو سبوتاژ کرنے کے لیے وہی تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جو کشمیر کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے لیے اختیار کیے تھے اور جس طرح تحریک آزادی کشمیر کی نظریاتی بنیادوں کو اس کے نصب العین سے بیگانہ کرنے کے لیے اس کی پیٹھ میں متحدہ ہندو مسلم قومیت کا خنجر گھونپا گیا تھا، اسی طرح مشرقی پاکستان میں تحریک پاکستان کو سبو تاژ کرنے کے لیے وہاں بھی متحدہ بنگالی ہندو مسلم قومیت اور سیکولرزم کے نام پر تحریک پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا اورجس طرح کشمیر میں بھارتی حکومت کو اپنی جارحیت پر عمل درآمد کے لیے شیخ عبداللہ کی صورت میں ایک آلہ کار مل گیا،اسی طرح مشرقی پاکستان میں اسے شیخ مجیب کی صورت میں اپنی جارحیت پر عمل درآمدکے لئے ایک آلہ کار مل گیا۔ یہاں اب ہم مشرقی پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کے لیے بھارت کے چند اقدامات کا خالص علمی انداز میں جائزہ لیتے ہیں:

بھارت کے غیر آئینی ہتھکنڈے

پاکستان کے خلاف جارحیت کا بیس کیمپ قائم کرنے کے بعد مشرقی پاکستان میں قائم بھارت کی کٹھ پتلی حکومت نے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھلے بندوں سازش اور جارحانہ ہتھکنڈوں کا آغاز کردیا۔ جن کا مقصد مشرقی پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا تھا۔ ان میں بعض ہتھکنڈے حسب ِ ذیل ہیں:

مکتی باہنی کا قیام

جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکتی باہنی دراصل بھارتی فوج کے جوانوں پر مشتمل ایک فوج تھی ، جس میں مشرقی پاکستان کے چند جوانوں کو بھی شامل کیا گیا تھا تاکہ مشرقی پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو یہ دھوکہ دیا جائے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مکتی باہنی کے جوانوں کو تمام تر سازو سامان، اسلحہ اور تربیت بھارتی حکومت نے فراہم کیا۔ اور مشرقی پاکستان کے خلاف جارحیت کے لیے منصوبہ بندی بھی کی۔

مشرقی پاکستان پر حملہ

 مشرقی پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے اور سلامتی کو نسل کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 1971ءمیں مشرقی پاکستان پر باقاعدہ حملہ کر دیا۔ اور مشرقی پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو یہ گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ جنگ بنگلہ دیشی لبریشن آرمی نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے شروع کی ہے حالانکہ اس میں چند بنگلہ دیشی نوجوانوں کو چھوڑ کر کوئی بنگلہ دیشی موجود نہیں تھا اور یہ بات مشرقی پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے کی جارہی تھی کہ یہ بھارت کی فوج نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑنےوالی فوج ہے۔

ایک ضروری وضاحت - مشرقی پاکستان پر بھارتی جارحانہ حملے کا شدید ردعمل

مشرقی پاکستان کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے لیے اور اسے دو لخت کر کے مغربی پاکستان سے جدا کرنے کے لیے بھارتی فوج کا جارحانہ حملہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث ہوا ۔ اوروہ اس پر تڑپ تڑپ گئے۔ مشرقی پاکستان کے اسلام پسند نوجوان خصوصاً جماعت اسلامی کے کارکنان پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کا دفاع کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے لیے البدر کے نام سے ایک باقاعدہ تنظیم تشکیل دی گئی، لیکن اس سلسلے میں انہیں دو مشکلات درپیش تھیں ۔ ایک تو بھارتی فوج کی تعداد پاکستانی فوجیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی اور وہ ہر طرح کے سازوسامان اور کیل کانٹے سے لیس تھی۔ مزید برآں پاکستانی فوج کے لیے مشرقی پاکستان کے ان محب وطن رضا کاروں کو سازو سامان اور اسلحہ فراہم کرنا ممکن نہیں تھا اور نہ وہ تربیت یافتہ تھے۔ لہذا وہ انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے پاکستان فوجیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو گئے،لیکن یہ مقابلہ سرے سے کوئی مقابلہ نہیں تھا، چنانچہ 16دسمبر 1971ءکو مشرقی پاکستان بھارتی جارحیت کے نتیجے میں دو لخت ہو گیا۔

یہاں یہ ملحوظ رہے کہ چونکہ البدر کے نام سے بنگالی نوجوانوں کی جو تنظیم تشکیل دی گئی تھی پاک فوج کے پاس اسے مسلح کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔ چنانچہ انہیں معمولی سازو سامان فراہم کیا گیا (ڈنڈے وغیرہ) اور ان سے عہد لیا گیا کہ وہ اسے صرف بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاع وطن کے لیے استعمال کریں گے اور کسی بے گناہ شخص کے خلاف، چاہے وہ بنگالی ہندو ہو یا مسلمان، استعمال نہیں کریں گے۔ اور بنگالی مسلمان رضاکاروں نے اس عہد کی پوری پوری پاسداری کی۔

میجر ریاض کی شہادت

اس سلسلے میں سب سے مستند شہادت میجر ریاض کی ہے ۔ جو اس وقت مشرقی پاکستان کے محب وطن نوجوانوں کی تنظیم البدر کے نگران تھے۔لہذا اس سلسلے میں البدر کے ہاتھوں مشرقی پاکستان کے بےگناہ عوام کے قتل عام کے بارے میں یا البدر کے کسی رضا کار کے کسی فوجی جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں سارے قصے کہانیاں جھوٹ اور افتراءکا پلندہ ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(جاری ہے )

اس وقت کی بھارتی

وزیراعظم اندرا گاندھی کا تبصرہ

اس سلسلے میں صحیح صورت حال کو سمجھنے کے لیے مناسب رہے گا کہ اس وقت کی بھارتی وزیراعظم محترمہ اندرا گاندھی کے اس تبصرے کو بھی ملحوظ رکھا جائے جو انہوں نے بھارتی فوج کے ہاتھوں پاکستانی فوج کی شکست کے بارے میں فرمایا تھا، انہوں نے واضح اور دو ٹوک انداز میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پاکستانی فوج کی شکست پر فرمایا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ اور مسلمانوں سے اپنی 800 سو سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستانی فوج کی شکست میں نام نہاد بنگلہ دیشی لبریشن آرمی کا بھی کردار ہے تو اندرا گاندھی نے اس کا ذکر کیوں نہیں کیا اور سقوط مشرقی پاکستان کی اس کارگزاری کو بھارتی فوج تک کیوں محدود رکھا ۔

پلٹن میدان ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی

فوج کے بجائے بھارتی فوج کے

سامنے پاکستانی فوج کا سرنڈر کرنا

اس جنگ کے دوران میں بنگلہ دیشی نام نہاد لبریشن آرمی کے نہ ہونے کاایک بہت بڑا اور ناقابل انکار ثبوت یہ بھی ہے کہ پلٹن میدان ڈھاکہ میں پاکستانی فوج نے کسی نام نہاد بنگلہ دیشی لبریشن آرمی کے سامنے سرنڈر نہیں کیاتھا بلکہ بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر کیا تھا۔ جنرل اروڑا بنگلہ دیشی لبریشن آرمی کے سپہ سالار نہیں تھے بلکہ بھارتی فوجوں کے سپہ سالار تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس وقت نام نہاد بنگلہ دیشی آرمی کا کوئی وجود تھا تو جنرل نیازی نے بھارتی فوج کے جنرل کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے لبریشن آرمی کے سربراہ کے سامنے ہتھیار کیوں نہیں ڈالے؟ کیا یہ کسی نام نہاد بنگلہ دیشی لبریشن آرمی کے نہ ہونے کا قطعی اور ناقابل تردید ثبوت نہیں ہے۔

پاکستانی جنگی قیدیوں کو بنگلہ دیشی جیلوں کی بجائے بھارتی جیلوں میں رکھنے کا مسئلہ

اسی طرح اس موقع پر کسی نام نہاد بنگلہ دیشی لبریشن آرمی کے موجود نہ ہونے کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس موقع پر جن پاکستانی فوجیوں نے سرنڈر کیا تھا انہیں بنگلہ دیشی جیلوں میں رکھنے کی بجائے بھارتی جیلوں اور جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں کیوں رکھا گیا؟

یہ سارے سوالات ایسے ہیں جو اس بات کا قطعی اور ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ اس وقت کوئی بنگلہ دیشی آرمی نہیں تھی اور نہ بنگلہ دیش کسی جنگ آزادی کے نتیجے میں ایک الگ ملک بنا بلکہ یہ سراسر مشرقی پاکستان کے خلاف بھارت کی ننگی جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آیا جو سلامتی کونسل کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اور اس دعوے میں بھی کوئی حقیقت نہیں کہ عبدالقادر ملا شہیدؒ کو بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں حصہ نہ لینے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی۔ جب بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے کوئی جنگ لڑی ہی نہیں گئی تو اس میں حصہ نہ لینا جرم کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیشی حکومت کے دوسرے الزامات بھی، جنہیں پھانسی کی سزا کی بنیاد بنایا گیا ہے، قطعا بے بنیاد ہیں:

1971ءمیں پاکستانی فوج کے خلاف تین بڑے الزامات لگائے گئے۔ یہ کہ تیس لاکھ بنگالیوں کو فوج نے بے دردی سے قتل کیا۔ تین سے چار لاکھ عورتوں کی آبروریزی کی اور یہ کہ گا¶ں اور پوری پوری آبادیاں جلا دی گئیں۔ یہی کچھ بھارتی میڈیا نے بین الاقوامی کو فیڈ کیا اور بین الاقوامی میڈیا نے بغیر الزامات کی تفتیش کیے پاکستان کے تشخص کو اس برے طریقے سے مسخ کیا کہ ہم پوری دنیا میں نہ صرف تنہا رہ گئے بلکہ نفرت کا نشانہ بھی بنے اور اب تک بن رہے ہیں۔

پاکستانی فوجیوں اور البدر کے رضاکاروں پر بنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی خواتین کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام

بنگلہ دیشی کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے عبدالقادر ملا شہیدؒ پر جو الزامات لگائے گئے ان میں بڑا الزام ان کے جنگی جرائم اور بنگالی عورتوں کی آبروریزی میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے۔ لیکن اس الزام میں بے پناہ مبالغہ اور تضاد پایا جاتا ہے۔

مثلا ً 8 جنوری 1972ءکو

 شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان

سے رہائی پا کر لندن پہنچتے ہی دعوی ٰکیا

 "بنگلہ دیش میں 10 لاکھ انسان مارے گئے" لیکن لندن سے براستہ دہلی، ڈھاکا جاتے ہوئے شیخ مجیب کے ، فہم، اور ،معلومات، میں حیرت انگیز اضافہ ہوا اور 10 جنوری کو ڈھاکا کی سرزمین چھونے کے بعدموصوف نے کہا: " پینتیس (35) لاکھ بنگالی مارے گئے ہیں" مگر کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے پینتیس(35) لاکھ کے عدد میں ذرا کمی کرکے: "تیس (30) لاکھ مارے گئے اور تین (3) لاکھ عورتوں سے بالجبر زیادتی (Rape) کی گئی" کے عدد پر جم جانا مناسب سمجھا اور پھر یہی موقف نجی، عوامی اور بین الاقوامی سطح پر دہرانا وظیفہ زندگی بنالیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے ان کا مقصد حقائق سے آگاہ کرنا نہیں تھا بلکہ بنگلہ دیشی رائے عامہ اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا تھا۔ اس سلسلے میں صحیح صورت حال کیا تھی اس کا اندازہ ذیل کے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے:

1-دوسری جنگ عظیم 6سال جاری رہی اور کم و بیش 29 ممالک نے حصہ لیا۔ بہت سے ممالک تباہ ہوئے بلکہ روندے گئے۔ آرٹلری، ٹینک، ائر فورس حتیٰ کہ ایٹم بم تک استعمال ہوئے ، فوجیں تباہ ہوئیں ۔ پھر بھی اس جنگ کی کل ہلاکتیں تقریباً تین کروڑ پینتیس لاکھ تھیں۔ بالفاظ دیگر دو لاکھ اموات فی ملک سالانہ ۔ اس میں سے آدھے سویلین تھے اور آدھے فوجی۔

2-7 لاکھ بھارتی فوج پچھلے 25 سالوں سے کشمیر میں برسر پیکار ہے ۔ ہر قسم کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہے ۔ علاقے کی زبان اور راستوں سے بھی بخوبی واقف ہے۔ حالانکہ مقبوضہ کشمیر بنگلہ دیش سے رقبے اور آبادی دونوں میں کم ہے ۔ اتنی بڑی فوج وہاں طویل عرصے سے انسر جنسی(Insurgency) جنگ لڑ رہی ہے۔ وہاں اب تک اموات کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ بتائی جاتی ہے ۔ تقریباً 4000 آدمی سالانہ ۔

 3-اگر اتنے لوگ مارے گئے تھے تو یہ کہاں دفن ہوئے ؟یقیناً اجتماعی قبریں بنی ہوں گی۔ جنگ کے بعد بنگلہ دیشی حکومت اور انٹرنیشنل ایجنسیاں ان قبروں کا کھوج کیوں نہ لگا سکیں۔ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جنگ کے دوران فوج کو اتنا وقت کیسے ملا کہ وہ لڑنے یا اپنا دفاع کرنے کے بجائے اجتماعی قبریں کھودتی رہی ؟ فوج تو اپنے شہداء کی قبریں تک نہ کھود سکی چہ جائیکہ تیس لاکھ بنگالیوں کی قبریں!! اجتماعی قبریں تو ڈھاکہ یونیورسٹی میں بھی نہیں ملیں جہاں بہت زیادہ قتل و غارت کا الزام لگایا گیا۔

4-فوجی جو جیبوں میں قرآن حکیم لے کر پھر رہے تھے انہیں ہتھیار ڈالنے تک یقین تھا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ تو انہیں تین سے چار لاکھ عورتیں کہاں مل گئیں جبکہ شہر اور گا¶ں تو خالی تھے۔ قرآن کریم جیب میں رکھ کر فوجی جوان جنگی ڈیوٹی سے ہٹ کر ریپ میں کیسے مشغول ہو گئے؟ اگر یہ سچ مان بھی لیا جائے تو بچے جننے کے لیے ہسپتال تو ناکافی ہوں گے۔ کیا کسی نے ایسا کوئی ریکارڈ پیش کیا کہ جنگ کے 9 ماہ بعد کتنے بچے پیدا ہوئے؟ ان تین لاکھ عورتوں کی آبادکاری کب اور کیسے کی گئی؟

5-بنگلہ دیش اسمبلی کے ممبر کرنل اکبر حسین کے مطابق صرف تین لاکھ لوگوں نے جنگی نقصانات کے لیے کلیم داخل کیے۔لیکن وزیر خزانہ عبدالمہیمن کے مطابق صرف 72 ہزار کلیم وصول ہوئے تھے جن میں سے 22ہزار بوگس تھے صرف 50ہزار جائز تھے، جن کے نقصان کا ازالہ کیا گیا۔ کہاں تیس لاکھ اور کہاں 50ہزار۔

6-ڈاکٹر عبدالمہیمن چوہدری کی کتابBehind the Myth of 3 Million کے مطابق حکومت بنگلہ دیش نے ریپ کی گئی خواتین کے لیے ویلفیئر سینٹر کھولے تھے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ تین سے چار لاکھ متاثرہ خواتین کے لیے کتنے سینٹر کھلے اور پھر ان کا کیا ہوا؟ ریکارڈ کے مطابق صرف 100 خواتین کی شادی کی گئی تھی۔باقی کا کیا بنا۔

7-عوامی لیگ کے ایک معتبر صحافی کی رپورٹ کے مطابق کئی لاکھ بنگالی بھارتی مہاجر کیمپوں میں مختلف وجوہات کی وجہ سے مر گئے۔ ایک بڑی تعداد سمندری طوفان میں ماری گئی۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ سب بھی پاکستانی فوج کے کھاتے میں ڈالے گئے۔

8-بھارتی قید کے دوران ہمارے کچھ افسران کو پتا چلا کہ بھارت میں بھارتی فوج نے بنگالی مہاجرین کے تقریباً تمام کیمپوں کو عیاشی کے اڈوں میں تبدیل کر دیا۔ نوجوان لڑکیاں سینئر افسران کو بھی سپلائی کی جاتی تھیں۔ شہر کے اہل ثروت لوگ بھی معقول معاوضہ دے کر رات کے لیے لڑکیاں لے جاتے۔ کچھ لوگوں نے گھریلو خادما¶ں کے نام پر نوجوان لڑکیوں کو داشتائیں بنا رکھا تھا ۔ ایسے متاثرہ خاندانوں کو فالتو راشن اور کچھ رقم دے کر خاموش رکھا جاتا۔ کیا ان کا کہیں کوئی حساب رکھا گیا تھا؟ یا یہ سب بھی پاکستان آرمی کے کھاتے میں ڈالی گئیں۔

9-جیسور کے مقتدر مذہبی راہنما مولانا خوندکر عبدالخیر کے بیان کے مطابق ان کا علاقہ پر امن رہا ۔ دیہات سے چند لوگ بھاگ کر بھارت گئے۔ بہت سے گا¶ں ایسے تھے جن میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں ایک بھی موت واقع نہیں ہوئی ۔ اگر پاکستانی فوج قتل و غارت گری میں مشغول تھی تو یہ علاقہ پر امن کیسے رہا؟؟

10-بنگلہ دیش ہی کے ایک مشہور صحافی مسٹر جوہری نے لکھا کہ"مجھے سمجھ نہیں آتی کہ 8ماہ کی معمولی نوعیت کی گوریلا کارروائیوں میں تیس لاکھ لوگ کیسے مارے گئے اور تین سے چار لاکھ عورتوں کی کس طرح عصمت دری کی گئی؟"

11-حمود الرحمٰن کمیشن کے مطابق اس جنگ میں صرف 35 ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ جنرل کمال متین الدین اپنی کتاب "Tragedy of Errors " میں یہ تعداد ایک لاکھ لکھتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد لوگ مغربی پاکستانی اور بہاری تھے۔

12-مجیب حکومت نے جنوری 1972ءمیں جنگ میں مرنے والے خاندانوں کی مالی امداد کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مسٹر عبدالرحیم کے ماتحت ایک 12ممبرز کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تاکہ مرنے والوں کی صحیح تفصیلات کا اندازہ لگایا جا سکے ۔ اس کمیٹی کے علاوہ مجیب نے اپنے سیاسی ورکرز کو بھی حکم دیا کہ وہ اپنے طور پر بھی تحقیقات کر کے متاثرہ خاندانوں کے کوائف اکٹھے کریں ۔ اس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سیاسی ورکروں کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی کل اموات 50 ہزار سے زائد نہ تھیں۔

(بحوالہ:Dead reckoning Memories of 1971 war of Bangladesh behind the myth of 3 million)

13-The Daily Telegraph میں پیٹر گل کے تجزئیے کے مطابق "پاکستانی فوج 1971ءمیں ایک بغاوت فرو کرنے میں مشغول تھی نہ کہ غیر ملک سمجھ کر اس پر قبضہ کے لیے کوشاں۔ اس لیے شیخ مجیب الرحمٰن کے تخیلاتی اعداد و شمار اگر حقائق سے 50سے60 گنا زیادہ نہیں ہیں تو کم از کم 20 گنا تو ضرور مبالغہ آمیز ہیں اور پھر اس تمام قتل و غارت کا حساب کہاں ہے جو بنگالیوں(مکتی باہنی) نے کیے؟" مزید بد قسمتی یہ کہ قتل و غارت بنگلہ دیش بننے کے بعد زیادہ ہوئی۔ 16 دسمبر کو جب پاکستان آرمی نے ہتھیار ڈالے تو ہر بنگالی "وار لارڈ" بن گیا۔ مکتی باہنی اور مجیب باہنی نے لوٹ مار اور قتل و غارت اس انداز سے شروع کی جیسے کوئی دشمن ملک فتح کر لیا ہو۔ اب انہیں کوئی روکنے والا نہ تھا۔ وہ خود ہی فوج تھے ، خود ہی پولیس اور خود ہی منصف۔ جس کو چاہا پھانسی دی جسے چاہا جان سے مارا اور جسے چاہا گولیوں سے اڑا دیا۔ان لوگوں نے پاکستان پسند بنگالیوں اور بہاریوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنا شروع کر دیا۔ ۔ جنگ آزادی کی کتب میں یہ تمام قتل و غارت بھی پاکستانی فوج کے ذمہ لکھی گئی۔ بھلا ہو بیرونی پریس کا جس نے یہ بھانڈا پھوڑا۔

آخر میں ہم اس سلسلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی سینئر ریسرچ سکالر محترمہ شرمیلہ بوس کے تحقیقی نتائج کا تذکرہ کرتے ہیں جو ایک سینئراور غیر جانبدار دانشور ہیں۔

مشہور بھارتی صحافی شرمیلا بوس کے مطابق:

"10مارچ1972ءکو کھلنا نیوٹا¶ن کالونی پر حملہ کیا گیا جہاں تقریباً25ہزار لوگ مار دیے گئے۔ بنگلہ دیشیوں نے جو دانشوروں کے قتل کا الزام لگایا ، شرمیلا بوس کی ریسرچ کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگ بنگلہ دیش بننے کے بعد مارے گئے۔ ان سب دانشوروں کا تعلق ان لوگوں سے تھا جو متحدہ پاکستان کے حامی تھے ۔ دراصل زیادہ تر لوٹ مار ، تباہی اور قتل و غارت ہوئی ہی 16 دسمبر کے بعد تھی جب مکتی باہنی کے غنڈوں کو روکنے والا کوئی نہ تھا۔ شرمیلا بوس کے مطابق"بنگالیوں پر ڈھائے گئے مظالم کے ذمہ دار بھی بنگالی ہی تھے۔"

" بھارت نے مختلف اوقات میں لگ بھگ 80 ہزار گوریلے خفیہ طور پر مشرقی پاکستان میں داخل کیے۔ یہ لوگ پورے علاقے میں مختلف راستوں سے مکمل طور پر واقف تھے۔ ان لوگوں نے مغربی پاکستانیوں ، پاکستان پسند بنگالیوں اور خاص کر بہاریوں پر قیامت ڈھا دی۔ ان کی دکانیں جلادیں ، مردوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے مار دیا۔ عورتوں کی برے طریقے سے آبروریزی کرنے کے بعد رائفل کی سنگینوں سے پیٹ چاک کیے گئے۔ شہید ہونے والے تمام لوگ مغربی پاکستانی، بہاری اور پاکستان پسند بنگالی تھے۔ اس قتل و غارت کا اندازہ اس ایک رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو 30 مارچ 1971ءکو ، "دی ٹائمز" ، میں مائیکل لارینٹس کے حوالے سے شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ 7 ہزار پاکستانی اور پاکستان پسند بنگالی دو دنوں میں صرف ڈھاکہ میں مار دیے گئے۔ صد افسوس یہ سب قتل پاکستان آرمی کے ذمے لگا کر بین الاقوامی میڈیا میں خوب تشہیر کی گئی۔"

مزید : کالم