حق خودارادیت اہلِ کشمیر کو جلد دیا جائے

حق خودارادیت اہلِ کشمیر کو جلد دیا جائے
حق خودارادیت اہلِ کشمیر کو جلد دیا جائے

  


تنازع مقبوضہ جموں و کشمیر، گزشتہ 67 سال سے بھارت کی جارحیت، ہٹ دھرمی اور بددیانتی کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے ایک ارب 50کروڑ سے زائد عوام کو غربت، جہالت، پسماندگی اور بیماری میں مبتلا کرنے اور رکھنے میں بہت نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔ اس خطہ ارض کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے قارئین کرام جانتے ہیں کہ بھارت کے پہلے وزیراعظم اور برصغیر پاک و ہند کے نامور سیاست کار، جن کو بھارت کا عرصہ 17 سال کے لئے وزیراعظم اور کافی بااثر مقتدر شخصیت ہونے کا فخر حاصل رہا، پنڈت جواہر لعل نہرو، اپنے دور اقتدار میں اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ادارے میں برائے غوروخوض، منجانب بھارتی حکومت لے کر گئے تھے، تاکہ اہل کشمیر، بھارت کے مسلسل مظالم اور جابرانہ طرز عمل کے زیر تسلط رہنے کی بجائے، عالمی طاقتوں کی قانونی اور منصفانہ کارکردگی سے استفادہ کر سکیں، جس پر سلامتی کونسل کی منظور کی گئی متعدد قراردادوں میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اپنی آزاد مرضی اور خواہشات کے مطابق حق خودارادیت کے استعمال کا جلد موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے، جب وہاں سے قبل ازیں بھارت کی سات لاکھ، مسلح افواج کو نکال کر واپس دیگر بھارتی علاقوں میں بھیج دیا جائے، لیکن اقتدار کے بھوکے بھارتی حکمرانوں کو یہ تجویز پسند نہ آئی اور انہوں نے اپنے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے ترجیحی عمل سے اب تک روگردانی اور بغاوت کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کارکردگی سے واضح ہے کہ بھارتی حکمران،اقوام متحدہ کے عالمی اہم ادارے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کو کیا اہمیت اور قدر و منزلت سے ہمکنار کررہے ہیں۔ یہ کارروائی، مہذب دنیا اور اداروں کے لئے افسوسناک ہے۔

موجودہ دور میں دنیا کے مختلف خطوں اور حصوں میں غیر ملکی حکمرانی کے تسلط سے اکثر و بیشتر لوگوں کو آزادی کا بنیادی حق حاصل ہو گیا، گزشتہ چند برسوں کے دوران، نمیبیا، مشرقی تیمور، کسووو اور جنوبی سوڈان کے عوام کو بھی یہ عظیم نعمت میسر آ گئی تھی، جس کو عملی جامہ پہنانے میں بڑی طاقتوں نے اپنے اثرورسوخ کو بروئے کار لا کر مذکورہ بالا خطہ ء ہائے ارض کے محکوم لوگوں کو انسانی آزادی کے اہم حق کے حصول میں قائدانہ کردار اپنایا تھا۔ قارئین کرام اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ چند ماہ قبل، سکاٹ لینڈ کے لاکھوں عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے انگلینڈ کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہونے کے بارے میں اپنا فیصلہ ظاہر کیا تھا ،جس میں تقریباً 45فیصد لوگوں نے انگلینڈ سے الگ ہونے کے لئے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، یوں ان لوگوں کو الگ ملک کے قیام کا حق حاصل نہ ہوا، اگر ان کی 50فیصد سے زائد تعداد ایسا فیصلہ کر دیتی تو وہ بھی دنیا کے نقشے پر ایک علیحدہ ملک کی حیثیت کا مقام و مرتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔اہل کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے ، بھارتی حکمرانوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے آج تک بڑے مشکل، کٹھن اور کربناک حالات سے دوچار چلے آ رہے ہیں۔ وہ بھارتی حکومت کے آئین، قانون، ظالمانہ حربوں اور ہتھکنڈوں کے خلاف ہڑتالوں، احتجاجی مظاہروں، جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے اپنی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ وہ بھارت کے انتخابی عمل میں بھی ریاستی اسمبلی کے ووٹ ڈالنے کے عمل میں حصہ نہیں لیتے، بلکہ ان کو مجبور کرنے کے لئے بھارتی حکمران سخت جسمانی اور ذہنی سزاؤں کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔

ابھی گزشتہ ماہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت نے بھی اہل کشمیر کو ریاستی اسمبلی کے مختلف مراحل کے دنوں میں ووٹ ڈالنے کے عمل میں ضروری حصہ لینے کے لئے اذیت ناک حربے اپنائے، لیکن دلیر اور جرات مند اہل کشمیر کی غالب اکثریت نے ظلم و جبر کی توہین آمیز دھمکیوں کے باوجود حق رائے دہی کے عمل میں شامل ہونے سے گریز و انکار کی پالیسی اپنانے کو ترجیح دی۔ یوں انہوں نے ایک بار پھر بھارتی حکومت کے بلند بانگ دعوے مسترد کر دیئے۔عالمی طاقتوں اور بھارت کے حکمرانوں کو اب تک اس حقیقت کا کھلے انداز و الفاظ میں اعتراف کر لینا چاہیے کہ اگر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک کروڑ40لاکھ لوگ بھارت کے ساتھ الحاق کرنے پر رضا مند ہوتے تو وہ آئے روز احتجاجی مظاہروں، جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے بھارتی حکومت کے خلاف اپنی مخالفانہ خواہشات کا اظہار کیوں کرتے؟۔۔۔جبکہ ایسا کرنے کے دوران تاحال لاکھوں کشمیری افراد بشمول خواتین، بوڑھے اور بچے اپنی قیمتی جانوں اور املاک سے محروم ہو چکے ہیں۔ بڑی طاقتیں بالخصوص امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی اس معاملے میں اگر کچھ دلچسپی لے کر اپنی قانونی ذمہ داریاں، خلوص نیت سے نبھانے کا پختہ ارادہ کرلیں تو اہلِ کشمیر کو بھارتی حکومت پر ضروری دباؤ ڈال کر آزادی کے بنیادی حق کا حصول بلا مزید تاخیر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔۔۔ پانچ فروری کے اظہار یوم یکجہتی کشمیر کے عمل میں ملک بھر کے لوگوں کی غالب اکثریت نے بھرپور جوش و جذبے سے حصہ لے کر ایک بارپھر ثابت کر دیا ہے کہ اہلِ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت کے لئے تن من اور دھن سے ان کے ساتھ ہیں۔ *

مزید : کالم