گڈ گورننس کیوں نہیں ؟

گڈ گورننس کیوں نہیں ؟
گڈ گورننس کیوں نہیں ؟

  


چند بندے ملک کا انتظام نہیں چلا سکتے ۔تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں سکون کی نیند سوتی ہیں جہاں سسٹم متحرک رہے ۔ادارے فعال ہوں۔ وطن عزیز کس آزمائش سے گزر رہا ہے ؟اختیارات بھی ہیں، وسائل بھی ہیں، افرادی قوت بھی کم نہیں ،لیکن نظام حکومت ہے کہ رینگ رینگ کر چل رہا ہے۔ ارباب اختیار دیکھ رہے ہیں کہ لوگ خوش نہیں، وہ سن رہے ہیں کہ ہر طرف سے شکوے اور شکائتوں کی آوازیں آ رہی ہیں، پھر بھی سکوت ہے یا بے حسی۔ سسٹم اپاہج بنا ہوا ہے ۔حال یہ ہے کہ ملک کے کسی کونے میں کوئی کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور تو اور عصمتیں لٹ جائیں ،بے گناہ جانیں چلی جائیں ، کوئی حرکت میں نہیں آتا ۔جب تک وزیراعظم ،وزیراعلیٰ اور اعلیٰ عدالتیں اس کا نوٹس نہ لیں ۔حالانکہ انصاف کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ جس علاقے میں ظلم و زیادتی ہوئی ہے سب سے پہلے وہاں کے مقامی تھانے سے رد عمل آئے ،لیکن یہ تو ممکن ہی نہیں ،کیونکہ کسی بھی تھانے دار کی ذہنی اور قلبی سوچ میں ہی یہ شامل نہیں ہے کہ وہ انصاف کا پہرے دار ہے۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اپنے کسی وڈیرے کو خوش رکھنا ہے جس کی مہربانی خاص سے وہ تھانے میں رعب جمائے ہوئے ہے ۔کسی بھی واقعے کے بعد اگر صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے نوٹس کے بعد قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے حرکت میںآنا ہے تو اس سے بڑھ کر گڈ گورنس میں اور کیا کمزوری ہو سکتی ہے؟

کچھ ایسا ہی حال ہر شعبے کا ہے ۔جہاں بھی کسی کوتاہی کا مظاہرہ ہو وہ چیز جب میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے تو پھر اس پر اعلی حکام نوٹس لیتے ہیں۔ اس طرح داد رسی کا جو سلسلہ پہلے قدم سے شروع ہونا چاہیے وہ آخری قدم سے شروع ہوتا ہے ۔ یوں داد رسی کا عمل اتنا سست اور طویل ہوتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونا تقریبا نا ممکن ہو جاتے ہیں ۔ہر روز وزیراعلیٰ مختلف واقعات کا نوٹس لیتے ہیں ،بات میڈیا پر آتی ہے اور پھر ختم ہو جاتی ہے ۔یہ ساری صورت حال ڈنگ ٹپاؤ ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام شعبوں کے میرٹ پر سربراہ مقرر کئے جا ئیں ،انہیں مکمل اختیارات اور اعتماد دیاجائے اور انہیں تنبیہ کی جائے کہ ان کی غفلت کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا ۔تھانے دار سے آئی جی تک ایک متحرک سلسلہ شروع کیا جائے اور جو جس بات کا ذمہ دار ہو اس کی جوابدہی یقینی بنائی جائے ۔منتخب نمائندوں کو وزارتیں دی جائیں اور انہیں اپنے محکمے کا با اختیار وزیر بنایا جائے اور جہاں بھی کوتاہی ہو اس پر متعلقہ وزیر پر نہ صرف ذمہ داری عائد کی جائے، بلکہ اسے آئندہ پارٹی ٹکٹ کے لئے بھی نااہل قرار دیا جائے ۔دیکھا جائے۔۔۔ تو میاں برادراں نے بہت حکومت کر لی ہے ۔

آصف علی زرداری کی پارٹی بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے ۔خاں صاحب کو بھی حکومت کرنے کے بہت مواقع ملیں گے ۔ایک جملے کی بات ہے کہ حکومت بہت ہو گئی ۔۔۔اب قوم کو لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ سیاست کو ذاتی وفاداری سے علیحدہ کر دیا جائے ۔ اس ملک کو ایک ایسا سسٹم دیا جائے جس سے گڈگورنس کو بنیادیں مل سکیں ،کیونکہ اگر پارلیمنٹ خصوصی عدالتیں قائم کر سکتی ہے تو وہ اس بات کی بھی قانون سازی کر سکتی ہے کہ کسی بھی مقدمے کو تین ماہ کے اندر اندر نمٹایا جائے ۔اگر کوئی مقدمہ تین ماہ سے طویل ہو جائے تو متعلقہ وکیلوں سے فیس واپس لی جائے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے جج صاحب سے بھی معذرت کر لی جائے ،کیونکہ مسائل کا حل صرف نوٹس لینے اور مذمتیں کرنے سے نہیں۔۔ خدارا ۔۔۔ اس قوم کو ایک سسٹم دیجئے جو متحرک ہو، جو ہر ایکشن پر خود بخود ریکشن کرے ۔جو داد رسی کے لئے اوپر سے کسی حکم کا انتظار نہ کرے ۔مظلوم کی صدا سے پہلے اس تک انصاف پہنچے ۔۔!! حقدار کو حق ملے ،ظلم کے ہاتھ نوٹس سے نہیں سسٹم سے روکے جائیں ۔جب تک ہر بندہ ، ہر ادارہ خود مختار نہیں ہوگا، یہ تماشہ چلتا رہے گا ۔ سسٹم کمزور ہو گا تو رک جائے گا ، کیونکہ لوگ ااپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ انہیں حکمرانوں کی نہیں ،لیڈروں کی ضرورت ہے ۔ گڈ گورنس قائم کیوں نہیں ہو رہی ۔اس کاجواب حکمران بن کر نہیں ۔۔۔لیڈر بن کر سوچئے ۔ *

مزید : کالم