نادرا کے نئے چیئرمین : عثمان یوسف مبین

نادرا کے نئے چیئرمین : عثمان یوسف مبین
نادرا کے نئے چیئرمین : عثمان یوسف مبین

  


نادرا جیسے انتہائی اہم قومی ادارے کے سربراہ کا پہلی بار نادرا آرڈیننس کے مطابق میرٹ پر انتخاب ہوا ہے۔ ایک انتہائی ذہین ، دیانتدار اور مضبوط انسان کو اس کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ چیئرمین کی میرٹ پر تقرری کے طویل پراسیس کے مختلف مراحل سے گذرنے کے بعد سلیکشن بورڈ نے ڈیڑھ سو افراد میں سے جن تین ا فراد کو منتخب کرکے ان کے نام وزیر اعظم کو بھجوائے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بالآخر ا ن میں سے نادرا کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے عثمان یوسف مبین کونادرا کا چیئرمین بنائے جانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا ہے، جس طرح کہ تمام قومی اداروں کے سربراہ میرٹ پر منتخب کئے جانے کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان حکومت پر ایک عرصے سے زور دیتی چلی آئی ہے۔ اس لحاظ سے حکومت کا یہ کام لائق صد ستائش اور قوم کے لئے وجہ اطمینان ہے۔ نادرا اور اس کے سربراہ کو انتخابی نتائج کی سکروٹنی کے سلسلے میں بہت اہمیت حاصل ہوئی تھی۔ اس کے ایک چیئرمین بھی سکروٹنی کے گھمبیر معاملات کی بھینٹ چڑھ گئے ،جس کے بعد بے حد حساس قومی معاملات میں اس ادارے کی اہمیت قوم کے سامنے آئی۔ قوم نے یہ جانا کہ اس ادارے کے ذریعے ایسا انتخابی نظام بنانا بے حد آسان ہے جس میں کسی طرح کی ہیرا پھیری کا امکان نہ ہو اور عوام کے حقیقی نمائندے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچیں۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر پاکستانی شہری کی شہریت کی رجسٹریشن ملک سے دہشت گردی سمیت دوسرے تمام جرائم کے خاتمے کے لئے کس قدراہمیت رکھتی ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہو اور سیاسی سطح پر یہ خواہش موجود ہو تو اس ادارے کے عظیم الشان ڈیٹا بینک (جو دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا بینک ہے) کی بناء پر ان تمام افراد کی باآسانی نشاندہی ہوسکتی ہے ،جن پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے ،لیکن وہ ٹیکس نہیں دے رہے۔ نادراکے ریکارڈ کی مدد سے ایسا انتخابی نظام بآسانی بنایا جاسکتاہے جس میں نہ کوئی شخص جعلی ووٹ دے سکے اور نہ کوئی کسی بھی جعلی طریقے سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچے ۔ اس کے ڈیٹا بینک کی بدولت حکومت کو ہر طرح کے اعداوو شمار کے حصول کے بعد درست سمت میں منصوبہ بندی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نادرا کی اس اہمیت کے متعلق عام آدمی کے علم اور شعور میں اضافہ ہونے کے ساتھ اس کے سربراہ کے طور پر ایک دیانتدار ، اہل اور مضبوط شخصیت کی تقرری کی خواہش بھی عوام میں اجاگر ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر سے بھی زیادہ اس عہدے پر لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں، تاہم پہلی بار نادرا آرڈیننس کے مطابق میرٹ پر ایک ادارے کے سربراہ کی تقرری سے حکومت کی نیک نامی میں یقیناًاضافہ ہوگا۔ ۔ نادرامیجر جزل (ر) زاہد احسان کا ’’برین چائلڈ ‘‘ہے، جنہوں نے اس ادارے کا تصور دیا ، اس پر کام کیا ،اسے قائم کیا اور اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔ ان کے بعد پرویز مشرف کے زمانے میں سلیم احمد مبین کو اس کا چیئرمین بنایا گیا جن کے بعد طارق ملک چیئرمین تھے ،جنہیں حکومت سے اختلافات کی بناء پر اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اب ایک سال سے امتیاز تاجو ر چیئرمین کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ اس دوران چیئرمین نادرا کی باقاعدہ سلیکشن کا کام جاری رہا۔ اس کی خالی اسامی کا اشتہار’’ نیویارک ٹائمز‘‘ کے علاوہ پاکستان کے تمام اہم اخبارات میں شائع کرایا گیا۔ اس کے لئے کل ڈیڑھ سو افراد نے دراخواستیں دیں،جن سے تیس بہترین امیدواروں کو گذشتہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں انٹرویو کے لئے بلایا گیا۔ اس انٹرویو کے لئے پانچ افراد کا ایک پینل مقرر کیا گیا جس میں وزارت داخلہ کے دو ایڈیشنل سیکرٹری بھی شامل تھے۔ انٹرویو کے دوسرے راؤنڈ کے لئے آٹھ افراد شارٹ لسٹ کئے گئے ۔ فائنل انٹرویو 29 دسمبر کو ہوئے۔ انٹرویو لینے والے نو افراد کے پینل کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ نے کی۔ اس بورڈ کے دوسرے اراکین میں نادرا بورڈ کے دورکن، سیکرٹری امور داخلہ ، چیئرمین پی ٹی اے، اور انسپیکشن کمیشن، لاء ،فنانس،اور محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری شامل تھے۔ اس بورڈ نے تین امیدواروں کے نام منتخب کئے جن سے نادرا میں شاندار کارکردگی کی بنا ء پر وزیر اعظم نے عثمان یوسف مبین کو منتخب کیا۔

عثمان یوسف مبین پاکستان کے ان گنے چنے چند افراد میں سے ایک ہیں ،جنہیں حقیقی طور پر قوم و ملک کا گراں قدر سرمایہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ آج نادرا جو کچھ ہے ،اسے یہ مقام دلانے میں عثمان مبین کا کردار بے حداہم ہے۔اپنے کام کی بناء پر ہی آج وہ پاکستان کے اہم ترین اداروں میں سے ایک کے ( 35 سا لہ ) سب سے کم عمر سربراہ ہیں۔یہ صرف تیرہ سال ادھر کی بات ہے، جب 2002ء میں عثمان مبین نے جی پی اے پانچ کے ساتھ ایچی سن کالج لاہور سے گریجوایشن کی اور ایچی سن کالج کی تاریخ میں شاندار نیا ریکارڈ قائم کرنے کے علاوہ اے لیول کرنے والے دنیا بھر کے طالبعلموں میں اول پوزیشن حاصل کی۔ دنیا بھر میں اپنے معیار کے لحاظ سے نمبر ایک ادارے ایم آئی ٹی نے انہیں امتحانی نتائج کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی اپنے ہاں داخلہ دے دیا۔ یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کا یہی وہ سپوت ہے جس نے اپنی طالبعلمی کے زمانے ہی میں ایم آئی ٹی میں ایک پراجیکٹ پر کام کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے دوسرے ارکان کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر انٹرنیٹ پر ای میل کے ایڈریس بنانے کی صلاحیت میں چھ گنا اضافہ کردیا تھا۔ اگر پہلے تین ارب ایڈریس بن سکتے تھے تو ان کی تحقیق اور کام کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر مختلف لوگوں کے لئے اٹھارہ ارب ایڈریس بنانا ممکن ہوگیا۔

اسی طرح عثمان مبین نے اپنے چند دوسرے ساتھی طالبعلموں کے ساتھ ایک پراجیکٹ پر کام کرتے ہوئے یہ ممکن بنا دیا کہ وائر کے ذریعے انٹرنیٹ کے کنکشن حاصل کرنے کے بجائے لوگ براہ راست سٹیلائٹ سے سو گنا زیادہ سپیڈ کے ساتھ انٹرنیٹ کے کنکشن حاصل کرسکیں۔ ان کی طرف سے اس سلسلے میں سب ٹیکنکل کام مکمل ہے ۔ اس کو ممکن بنانے کے لئے صرف بین الاقوامی قوانین اور انٹرنیٹ کی سروس بنانے والوں کے معاہدوں وغیرہ کے معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ عثمان یوسف مبین نے ایم آئی ٹی سے ڈبل گریجوایشن کی اور الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنسز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی صلاحیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں ڈگری حاصل کرنے سے قبل ہی بہت سے بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بھاری معاوضے پر ملازمت کی پیشکش ہوئی ،لیکن انہوں نے اپنے ملک میں واپس آکر قوم وملک کی خدمت کو ترجیح دی۔انہوں نے چار مارچ 2002ء کو وطن واپس آکر نادرا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر کی حیثیت سے کام سنبھالا۔ نادرا کو جوائن کرنے کے ایک دن بعد، یعنی پانچ مارچ کو ان کی عمر تیئس برس ہوئی۔ اب تک وہ نادرا میں بہت سے بے حد اہم پراجیکٹس مکمل کرچکے ہیں جس سے نہ صرف پاکستان کے بہت سے کام سہل ہوئے ہیں، بلکہ بہت سے دوسرے ملکوں نے بھی ان سے مدد لے کر اپنے اداروں کی کارکردگی کو شاندار بنا لیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے کم از کم بیس کروڑ افراد براہ راست عثمان مبین کے کام سے استفادہ کررہے ہیں۔2008ء میں انہیں عوامی خدمات کے عوض تمغہ امتیاز دیا گیا۔ عثمان مبین ایچی سن کالج کے زمانے میں بارہ برس تک مسلسل صدارتی انعام حاصل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فاسٹ کا انعام جیتا اور 1996ء میں بنکاک میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

عثمان مبین کے نادرا میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر کا عہدہ سنبھالنے کے وقت نادرا کا ڈیٹا ویئر ہاؤس کا کام ایک امریکی کمپنی ’’این سی آر‘‘ کے سپرد تھا۔ انہوں نے یہ کام مقامی طور پر اپنے لوگوں کے سپرد کرکے ادارے کو بھاری اخراجات سے نجات دلائی۔ان کی طرف سے متعارف کرائے گئے نئے انتظامات کے تحت شناختی کارڈ ز کی پرنٹنگ کا کام کئی گنا زیادہ تیز ہو گیا۔ انہوں نے گاڑیوں کو ٹول ٹیکس پلازا پر رکے بغیر ٹیکس ادا کرنے کا نظام ای ٹیگ کے ذریعے متعارف کرایا، اس کے علاوہ سمارٹ شناختی کارڈ، سول رجسٹریشن سسٹم، بینظیر انکم سپورٹ کارڈ، وطن کارڈ، شہریوں کے نقصان کے معاوضے کا پروگرام، اسلحہ لائسنس،بائیو میٹرک پاسپورٹ، جیسے پروگرام متعارف کراکے ان کاموں کو فول پروف بنانے میں مدد کی۔ پاکستان کے علاوہ انہوں نے سری لنکا کے لئے سٹیزن رجسٹریشن پراجیکٹ اور شناختی کارڈ کی مینجمنٹ جیسے پراجیکٹ مکمل کئے۔ سوڈان کے لئے مشین ریڈایبل پاسپورٹ کا پراجیکٹ اورکینیا اور بنگلہ دیش کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کے پراجیکٹ مکمل کئے۔

عثمان مبین جیسے شخص بالعموم اپنے وطن میں بری طرح بددل کر دئیے جاتے ہیں اور مغربی دنیا ہی ان کو اپنے ہاں لے جاکر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے، لیکن ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوں یا کوئی دوسرے نابغہ روزگار لوگ۔ وہ ملک میں کام اسی وقت کرسکے ہیں ،جب انہیں کسی نے کام کرنے دیا ،ورنہ ایسے نابغہ روزگار لوگوں کی ملک میں کمی نہیں ،جن کی تربیت میں ہر طرح کے حالات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کے لئے ہر صورت میں خود کو وقف رکھنے کا جذبہ بھرا ہوا ہے۔ قوم عثمان مبین کے انتخاب پر یقیناًمیاں نواز شریف کی شکر گذار ہے اور یہ توقع کرتی ہے کہ ملک کے باقی سب اداروں کی سربراہی کے لئے بھی سلیکشن کے اسی طرح کے پراسیس کے بعد میرٹ پر افراد کو تعینات کیا جائے۔ اس ایک مثال سے وزیر اعظم کو سمجھ لینا چاہئے کہ چھان پھٹک کے بعد تلاش کرنے سے اسی مٹی سے ایسے ہیرے تلاش کئے جاسکتے ہیں جن کی چمک سے ملک کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے ۔ آخر دوسرے بڑے قومی اداروں کی سربراہی کے لئے میرٹ پر تقرریوں کے ذریعے ہم قوم کے بہترین افراد کا انتخاب کرکے ان سے قوم کو سنوارنے کا کام لینے کی سیاسی خواہش سے کب تک محروم رہیں گے۔؟

(’قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بتا دینا مناسب ہے کہ مَیں عثمان مبین کے دادا ، نانا اور والدین کو گزشتہ اڑتیس برس سے جانتا ہوں، مَیں نے ان کے والدین کی شادی میں شرکت کی ہے۔ اس کے دونوں طرف کے بزرگ بے حد زیرک اور بے حد نیک ، بے لوث اور پرہیز گار لوگ ہیں۔ عثمان مبین اپنے والدین کی خواہش کے مطابق ہمیشہ سے ملک کے لئے کچھ کرنے کے عزم سے سرشار رہے ہیں ، ان کے سامنے کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ ملک و قوم کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کا ہدف رہا ہے اور وہ قومی خدمت سے بڑھ کر کسی بھی دوسری چیز کو ترجیح نہیں دیتے۔)

مزید : کالم