محاسبہ

محاسبہ
محاسبہ

  


خود پر ترس کھانے کے شاذ لمحوں میں کبھی اپنے گریبانوں کوبھی ٹٹول لینا چاہئے۔ آخر ہم کون ہیں؟ ایک ایسا گروہ جو اقتدار سے راہ ورسم کی بنا پر اس مادہ پرست ماحول میں اپنا ڈنکا بجاتا پھرتاہے، کوئی بھی تنقید اخلاقی اسا س سے محروم رہ کر اپنی بنیاد کھو دیتی ہے۔ سماج میں نقد کی جڑیں اخلاق کی زمین سے پھوٹتی ہیں۔ علم اور معلومات اس کی ہری بھری شاخیں ہیں۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف سی پی این ای کے صدرِ محترم مجیب الرحمان شامی کی دعوت پر تشریف لائے تو کیا کیا کچھ بے نقاب نہ کرگئے۔ ریاست کو ایک آہنگ درکار ہے، مگر ہمیں ایک بادشاہت کی ضرورت ہے ۔ جمہوریت کے راگ کتنے ہی الاپتے رہیں، دراصل ایک بادشاہت کا ماحول ہی ہمیں شاد کام رکھتا ہے۔ مطالبات اور نوازشات کے درمیان کے ماحول میں ہم جس طرح بروئے کار آتے ہیں وہ ہمارے اسی مزاج کا عکاس ہے۔وزیر اعظم کا بہت شکریہ کہ اُنہوں نے ’’نادار‘‘ صحافیوں کے لئے پانچ کروڑ کی رقم منظور فرمالی۔ عارف نظامی بتاتے ہیں : ’’حالانکہ میاں صاحب کچھ زیادہ دینے کے موڈ میں تھے‘‘۔عطاالحق قاسمی صاحب نے اس کا نقشہ ایک خوب صورت پیرائے میں تفصیل سے کھینچ دیا کہ ’’وزیراعظم نواز شریف نے شامی صاحب سے کہا کہ آپ نے جب نادار صحافی کارکنوں کے لئے پانچ کروڑ روپے انڈومنٹ فنڈ کا مطالبہ کیا تو میں نے فٹا فٹ ہاں کر دی کہ کہیں آپ دس کروڑ نہ کہہ دیں اور اگر آپ کہہ دیتے تو میں نے مان لینا تھا۔ بس اس وقت سے شامی صاحب ہر جگہ کفِ افسوس ملتے اور یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ پانچ کروڑ کا نقصان ہو گیا‘‘!

اس دلچسپ پیرایۂ اظہار کی لذتوں سے قطرہ قطرہ لطف کشید کرتے ہوئے بھی دل میں اندیشے پید ا ہو جاتے ہیں ۔ ایک بار پھر وزیر اعظم کا شکریہ کہ اُنہوں نے ہم ایسے ’’نادار صحافیوں‘‘ کی فلاح وبہبود کے لئے پانچ کروڑ روپے کی منظوری دی ۔

ایک شکریہ اُس پلاٹ کے لئے بھی جہاں ہم ناداروں کے رہنما سی پی این ای کی قیادت کے طور پر دارالحکومت میں جلوہ گر رہیں گے۔ مگر ایک سوال پی این ای کے صدر دفتر کے لئے عنایت ہو نے والے پلاٹ سے ذرا زیادہ بڑا ہے۔وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیارات کی حدود کیا ہیں؟ وہ اپنی عنایتِ خسروانہ کے لئے کسی ضابطے یا اخلاقی قیود کے پابند ہونے چاہئیں؟ مثلاً جب وہ کسی کوبھی کوئی پلاٹ یا پیسے عنایت کرتے ہیں تو اُن کے پیشِ نظر کیا ہوتا ہے؟ محترم مجیب الرحمان شامی کمال کے آدمی ہیں۔ ہمیں اُن کی ’’صلاحیت‘‘ اور وزیراعظم کی ’’فیاضی‘‘ دونوں میں کوئی شک نہیں ، مگر جب کسی ضرورت مند کو مجیب شامی جیسا باکمال وکیل میسر نہ ہو اور وہ زیادہ حقدارہو تو وزیر اعظم کی فیاضانہ طبیعت کو کیسے متوجہ کیاجاسکتا ہے؟ کیا یہ عمل کسی ضابطے کی تحویل میں نہیں ہونا چاہئے؟ ہمیں دستوری جمہوریت کی طرف سفر کرتے ہوئے بادشاہوں والی خوشنودی کے پُرانے دور سے نکل نہیں جانا چاہئے۔ جب بادشاہ سلامت محبوب کے تل پر ریجھتے ہوئے خوب صورت سلطنتیں بخش دیا کرتے تھے۔کیا ہم وزیر اعظم کے ایسے ہی دیگر صوابدیدی اختیارات پر اس سے پہلے سوالات اٹھاتے نہیں رہے۔ پھر اس عمل کی اپنے لئے تائید کیسے تلاش کی جا سکے گی؟ یہ سوال دراصل اس مخصوص تناظر کی وجہ سے نہیں، بلکہ اقتدار واختیار کے ایک اُصولی تناظر میں ہے۔براہِ کرم کوئی غلط فہمی پیدا نہیں کی جانے چاہئے۔ پلاٹ ہم وصول کر رہے ہیں اور رقم کے ہم مستحق ہیں۔ابھی اس موضوع پر زیادہ گفتگو کو طوالت دینے کی ضرورت نہیں، مگر ایک سوال بیت المال کی ذمہ داری پر ضرور اُٹھنا چاہئے۔

یادش بخیر! وزیراعظم نے اپنا منصبِ سنبھالتے ہی غیر ملکی دوروں میں صحافیوں کے قافلے کوسرکاری خرچ پر حصہ نہ بنانے کا اعلان فرمایا تھاپھر اُس اعلان پر وہ کتنا عمل کر سکے؟ وزیرا عظم کا مخمصہ یہ ہے کہ اُنہیں حکومت تو آصف علی زرداری والی سازگار ہے، مگر وہ اس کی ساکھ خلفائے راشدین والی چاہتے ہیں۔ اب اُن کی اس کشمکش کا کیا علاج کیا جاسکتا ہے؟دنیا نے کبھی طاقت ور مگر اس قدر عاجز حکمران نہیں دیکھا تھا۔ امیر المومنین حضرت عمرفاروقؓ اونٹ پر سوار جارہے تھے۔حضرت علیؓ نے دیکھا تو دریافت فرمایا: ’’امیر المومنین صبح سویرے کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟‘‘

حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’اے علیؓ! صدقے کے اونٹوں میں سے ایک کہیں گم ہوگیا ہے۔اسے تلاش کررہا ہوں۔‘‘

حضرت علیؓ جانتے تھے کہ حضرت عمرؓ نے کیا معیارِ حکومت قائم کردیا ہے ۔فرمایا: ’’امیر المومنین! آپ نے اپنے بعدمیں آنے والے خلفاء کو بڑی مشکل میں ڈال دیا۔‘‘

حضرت عمرؓ نے تب کوئی ابہام باقی نہ رہنے دیا،شتابی ارشاد کیا: ’’اے علیؓ! رب تعالیٰ کی قسم! جس نے حضرت محمدﷺ کو رسول حق بنا کر مبعوث فرمایا۔اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بھیڑ کا بچہ بھی مرجائے تو روزِ قیامت اس کے متعلق بھی مواخذہ ہو گا۔اس امیر کی کوئی عزت نہیں ،جس نے مسلمانوں کو ہلاک کر دیا اور نہ ہی اس بدبخت کا کوئی مقام ہے ،جس نے مسلمانوں کو خوف زدہ کیا‘‘۔کیا وزیراعظم کو معلوم ہے کہ اُن کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ کیسے بروئے کار آتی ہیں؟ مثلاً آج کل وہ ایک بات تواتر سے ارشاد فرما رہے ہیں کہ ملک کے وسائل کم ہیں اور مسائل زیادہ ۔اب سوال یہ ہے کہ خود اُن کے اس بیان کردہ موقف پر اُنہیں قومی وسائل کو کیسے استعمال کرنا چاہئے؟اُن کی حکومت پہلے سے ہی قومی خزانے میں جمع فیسوں کی رقم کو واپس لوٹا دیتی ہے تاکہ ایک عوامی پذیرائی پائی جاسکے اور نوجوانوں کو متوجہ کیا جاسکے جو اُن کی موجودہ سیاست میں ایک مبالغہ آمیز مسئلہ بن چکا ہے۔لیپ ٹاپ سکیم بھی اسی بیمار ذہنیت سے شروع کی گئی تھی۔موجودہ حکومت نے ایسے بہت سے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن کی اہمیت معاشی ماہرین کے نزدیک کچھ بھی نہیں اور یہ خطرناک طور پر قومی وسائل پر بوجھ بننے والے ہیں، مگر اس کی سیاسی اہمیت شاید کچھ نہ کچھ ضرور ہو، پھر یہ خطرناک طور پر ایک ایسے سیاسی طبقے کو پیدا کرے گا جو معاشی طور پر اس حکومت کا فیض یافتہ ہو گا۔ اسی خوف ناک رجحان نے قومی سیاست کے بہترین ماہ وسال بھٹو ازم کی جھولی میں ڈال دیئے۔ کیا قومی پالیسیاں کسی مخصوص طبقے کے بجائے قومی سطح پر کھلے انداز سے بروئے کار نہیں آنی چاہتیں؟ ابھی اس کی تفصیل کا بھی موقع نہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کسی بھی قیادت کو یہ موقع نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھے، مگر ہماری قیادتیں تو غلطیوں پر غلطیاں کرنے کے بعد بھی کچھ سیکھ نہیں پاتیں۔کیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے نام پر اس حکومت نے تین سو ارب ڈالر پھونک نہیں دیئے تھے۔ پھر کیا لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا؟دراصل اس رقم سے کچھ مقربین نے خاص طور پر فائدہ اُٹھایا اور اُنہوں نے توقعات پوری نہیں کیں۔ تب وزیراعظم چند کالم نگاروں کو اپنے جلو میں لے کر بجلی کے مختلف منصوبوں اور لوڈ شیدنگ کے خاتمے پر لمبی لمبی بریفنگز کا اہتمام فرماتے تھے اور وہ کالم نگار اُن بریفنگز کے نتیجے میں دوسرے کالم نگاروں کی ’’جہالت‘‘ کودور فرماتے تھے۔ حکمرانوں کی قربت کا ایسا نشہ ہوتا ہے کہ اچھے بھلے انسان اپنے آپ میں نہیں رہ پاتے تو خود حکمرانی کا اپنا نشہ کیسا ہوتا ہوگا؟اب تازہ ترین فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ وزیر اعظم نے بجلی کی لوڈ شیدنگ کنٹرول کرنے کی خاطر 15؍ ارب روپے سبسڈی کی منظوری دے دی ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص یہ یقین نہیں کرے گا کہ اس طرح لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو سکے گا۔ کیا وزیر اعظم کے پا س کسی بھی فیصلے کے لئے ایک نظام نہیں ہونا چاہئے۔ آخر جمہوریت کا فائدہ کیا ہوتا ہے؟ یہ بنیادی طور پر کسی فردِ واحد کے بجائے ایک جواب دہی کے تصور پر اُستوار نظام ہے جس میں کسی بھی شخص کا اختیار تحدید وتوازن کے اُصول پر ہوتا ہے۔

ایک اور بات وزیراعظم نے اب نئی ارشاد کی ہے کہ اُنہوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا ہے کہ وہ تین ماہ یا تین سال میں لوڈ شیدنگ کا خاتمہ کر دیں گے۔ عارف نظامی نے بجا طور پر اسے ایک انکشاف کہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم نے پھر پوری الیکشن مہم میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کہا کیا تھا؟ صاف نظر آرہا ہے کہ توانائی کے بحران پر موجودہ حکومت کے تمام دعوے ایک بڑی ناکامی کا منہ دیکھنے والے ہیں اور بجلی کے تمام بڑے منصوبوں کے اعلانات حقیقت کے روپ میں ڈھلنے کے امتحان سے دوچار ہیں۔ اس موقع پر دست بستہ یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ وزیر اعظم لوڈ شیڈنگ کے کنٹرول کے لئے پندرہ ارب روپے خرچ کرنے کے بجائے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پرکنٹرول کے لئے ایک نظام وضع فرمائیں۔ اس میں کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں ہوگا اور اس سے بجلی کا بحران بھی حقیقی طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید : کالم