ریٹنگ کی دوڑ اور وزیراعظم کی خواہش

ریٹنگ کی دوڑ اور وزیراعظم کی خواہش
ریٹنگ کی دوڑ اور وزیراعظم کی خواہش

  


وزیراعظم محمد نوازشریف نے میڈیا سے ایک ایسی فرمائش کر دی ہے، جسے شاید ہی وہ پورا کر سکے۔ لاہور میں سی پی این ای کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا دو سال تک ریٹنگ کو بھلا کر دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات کی حمایت کرے۔ کیسی معصوم سی خواہش ہے، مگر اس کا پورا ہونا بوجوہ ممکن نہیں۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا ایسا کوئی رسک نہیں لے سکتا، جو ہر شام اس کی ریٹنگ کے لئے جاری جنگ کو ختم کردے۔ کراچی میں کوئی بڑے سے بڑا دہشت گرد بھی پکڑا جائے تو سیاسی جماعت کے ایک بیان کی وجہ سے میڈیا کو ریٹنگ کا دورہ پڑ جاتا ہے، وہ انسانی حقوق کی پامالی، پولیس اور رینجرز کی دہشت گردی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ جب سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی تو ساتھ ہی احتجاج بھی ہونے لگا۔ میڈیا نے اصل حقائق کو پس پشت ڈال کر احتجاج کو فوکس کیا، حالانکہ اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ایک رپورٹ ہی تو سامنے آئی تھی، بغیر کارروائی کے کسی کو کیا ضرورت تھی کہ آسمان سر پر اٹھا لے اور میڈیا اسے مظلوم بنا کر پیش کرتا پھرے۔

سی پی این ای کے صدر جناب مجیب الرحمان شامی نے اسداللہ غالب کی کتاب ’’ضرب عضب‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے بڑی اہم بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں کچھ بھی ہو جائے، وہاں کا میڈیا قومی مفاد کے خلاف کوئی خبر نہیں دیتا، وہاں فوج یا را کو ہدفِ تنقید نہیں بنایا جاتا، جبکہ یہاں آئی ایس آئی کو ہمیشہ نشانے پر رکھا جاتا ہے، دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کو اس طرح کانٹوں پر گھسیٹا جائے۔ امریکہ جیسے آزاد اور انسانی حقوق کے بہت بڑے علمبردار ملک میں بھی ایف بی آئی اور سی آئی اے کی سرگرمیوں سے میڈیا صرفِ نظر کرتا ہے، لیکن پاکستان میں میڈیا آئی ایس آئی پر ایسے تنقید کررہا ہوتا ہے جیسے وہ میونسپلٹی کا کوئی ادارہ ہو۔ مجیب الرحمان شامی صاحب نے یقیناًایک اہم رویے کی نشاندہی کی ہے، ہمارے ہاں صحافتی آزادی کو مادر پدر آزادی کے ہم پلہ سمجھ لیا گیا ہے، جو بڑی خطرناک بات ہے۔ بہت سے ایسے امور ہیں کہ جو ریاست کی سطح پر اس کے ادارے ہی سرانجام دے سکتے ہیں، ان کے کام میں مداخلت یا ان کے راستے میں بلا وجہ کی رکاوٹوں سے اگر ان کے کام کو مشکل بنا دیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ لامحالہ ان لوگوں کو پہنچے گا، جو ریاستی سلامتی کے درپے ہیں۔ ماضی میں ہم نے کیا کچھ نہیں دیکھا۔ طالبان کو اس میڈیانے ہیرو بنا کر پیش کیا۔ ان کے بیانات ، ان کی دھمکیوں اور ان کے نظام کی اس حد تک کوریج کی گئی کہ ریاست کے اندر ریاست کا تاثر بالکل واضح ہو گیا۔ وہ تمام کردار جو آج دہشت گردی کی علامت ہیں، میڈیا پر آتے اور ان کی بریکنگ نیوز چلائی جاتی۔ اس سے ان کا پیغام گھر گھر پہنچا اور ان سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھی۔ کیا ہمیں اس حوالے سے از خود لکیر نہیں کھینچنی چاہیے تھی؟ آج دہشت گردوں کی کوریج اور ان کے بیانات پر 21ویں ترمیم کے بعد پابندی لگ چکی ہے، مگر اس کا یہ علاج تو نہیں ، خود میڈیا کو بھی تو کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ کیا میڈیا کو روکنے کے لئے صرف ریاستی طاقت کا ہتھیار ہی ضروری ہے، اس کے اندر ایسی صلاحیت نہیں کہ جو اسے ضروری اور غیر ضروری میں فرق کی نشاندہی کر سکے۔

مجھے ذاتی طور پر سب سے زیادہ الجھن اور مایوسی اس وقت ہوئی تھی، جب 21ویں ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ کیا ایک متفقہ آئینی ترمیم کے بعد میڈیا کو پھر اس بحث میں اُلجھنا چاہیے تھا کہ فوجی عدالتیں آئین کی روح کے خلاف ہیں یا نہیں، کیا انہیں اس نکتے کو ہوا دینی چاہیے تھی کہ ان عدالتوں کے قیام سے عدالتوں پر عدم اعتماد ہوتا ہے یا نہیں، ایک خاص فیصلہ خاص حالات میں کیا گیا اور اس کے لئے جب پورا آئینی طریقہ ء کار اختیار کر لیا گیا تھا تو پھر خواہ مخواہ اس معاملے کو اُچھالنے کی کیا منطق تھی، اس کے پیچھے سوائے اس ریٹنگ کے، جسے وزیراعظم نے پس پشت ڈالنے کی درخواست کی اور کچھ بھی تو موجود نہیں تھا۔ اس کا بہترین فورم تو سپریم کورٹ ہی ہے کہ جو اس کا فیصلہ کر سکتی ہے، پھر ہر شام ٹی وی چینلوں پر اس کا ڈھنڈورا کیوں پیٹا جائے۔ کیا ٹی وی چینلوں کے چند اینکرز اور ان کے پروگراموں میں شرکت کرنے والے چند لوگوں کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ قوم کے مشترکہ فیصلے کو متنازعہ بنانے کی مہم میں شریک ہو جائیں؟

مَیں سمجھتا ہوں کہ ایک بڑے تناظر میں ایسے تمام حقوق سلب ہو جاتے ہیں، جن لوگوں کے پیارے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، اصل اسٹیک ہولڈ تو وہ ہیں،کبھی ان سے بھی ریٹنگ بڑھانے والوں نے پوچھا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ ان کے لئے تو فوجی عدالتوں کا قیام ہی وہ فیصلہ ہے ،جس سے انہیں تھوڑی بہت تسلی مل سکتی ہے،وگرنہ تو ہر طرف مایوسی ہی مایوسی ہے۔ میڈیا کی اپنی ذمہ داری ہی سب سے اہم بات ہے، اگر ریاست اسے دباتی ہے یا اپنی طاقت سے کسی ڈھب پر لانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ حکومت کے لئے بھی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے اور خود میڈیا کے لئے شرمندگی کی بات ہے کہ وہ قومی مفادات کا ادراک نہیں کر سکا جو کہ لمحہ ء موجود میں پاکستان کی بقاء کا سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ریٹنگ بڑھانا کاروباری اداروں کے لئے تو ایک مناسب حربہ ہے، کیونکہ انہیں اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے، تاہم میڈیا کے لئے ریٹنگ بڑھانے کی اندھی دوڑ کسی بھی طرح اس کے ضابطہ ء اخلاق سے لگا نہیں کھاتی۔ ریٹنگ کی دوڑ اگر معاشرے کے اخلاقی پہلوؤں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے یا قومی مفادات کے خلاف جاتی ہے تواس کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے؟ دہشت گردی کی جنگ میں جس طرح میڈیا سانحہء پشاور کے بعد یک زبان ہوا تھا، اسی طرح اسے ہمیشہ رہنا پڑے گا، تبھی یہ جنگ ہم جیت سکیں گے۔ میڈیا یقیناًانسانی و آئینی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ اس کی بنیادی زمہ داری ہے، لیکن کیا دہشت گردوں ، قاتلوں ، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ مافیا کے بھی آئین یا انسانی حقوق ہو سکتے ہیں۔ کسی بڑی بے قاعدگی کے ثبوت ملنے کی صورت میں تو یقیناًآواز اٹھائی جا سکتی ہے، مگر صرف مفروضوں کی بنیاد پر یا دہشت گردوں کے ہمدردوں کے بیانات کو لے کر کیا ہم اپنے ان اداروں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں جو ایک بڑی جنگ کا حصہ ہیں اور جنہیں قوم کی حمایت درکار ہے۔ ظاہر ہے کوئی اس کا جواب اثبات میں نہیں دے گا۔امریکہ میں جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو اس کے بعد صدر بش نے ایک بڑی جنگ کا آغاز کر دیا۔ گوانتاناموبے جیسی بدنامِ زمانہ جیل بھی بنائی، عملاً تمام بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیئے، مگر امریکی میڈیا نے اس کی مخالفت نہیں کی، بلکہ دنیا کو یہی پیغام دیتا رہا کہ امریکی برتری کی مخالفت کرنے والوں کا انجام بہتر نہیں ہوگا۔ سو امریکی میڈیا کی اسی حمایت کے باعث امریکہ نے افغانستان میں بھی قدم جمائے، عراق پر بھی قبضہ کیا اور دنیا سے یہ کریڈٹ بھی لیا کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے عالمی جنگ لڑ رہا ہے، حالانکہ بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ یہ جنگ امریکہ صرف اپنے عالمی مفاد کے لئے لڑ رہا تھا، مگر اس کے باوجود امریکی میڈیا نے اس پر تنقید نہیں کی۔

کیا پاکستانی میڈیا کے لئے لازم نہیں کہ آزادیء اظہار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ قومی مفاد کو بھی سامنے رکھے۔ بنیادی انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھائی جانی چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی آڑ میں دہشت گردوں یا قانون شکنوں کی حمایت بھی کی جائے۔ ہم بڑی مشکل سے اس بحث کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ اچھے دہشت گرد کون ہیں اور بُرے دہشت گرد کون؟ ہم اس بحث کو بھی پیچھے چھوڑ آئے ہیں کہ کون سی دہشت گردی جائز ہے اور کون سی نہیں؟ ہمیں اب اس بحث میں بھی نہیں اُلجھایا جا سکتا کہ جس دہشت گردی کی جنگ میں ہم مبتلا ہیں، وہ ہماری ہے یا امریکہ کی، ہم ہزاروں جانیں گنوانے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ جو جنگ ہمارے گھروں تک آ گئی ہے، وہ ہماری ہے اور ہم ہی نے اس کا مقابلہ کرنا ہے، اب کم از کم اس نکتے پر مکمل اتفاق رائے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنا اور اس کے لئے ہر اس اقدام کی حمایت کرنی ہے، جو اس سمت میں اٹھایا جائے۔ وزیراعظم نے تو دو سال کے لئے ریٹنگ کی جنگ ختم کرکے حکومتی اقدام کی حمایت طلب کی ہے، لیکن مَیں کہتا ہوں کہ پاکستانی میڈیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ اصول پلے باندھ لینا چاہیے کہ قومی مفاد سب پر مقدم ہے اور اس کے لئے ہر صحافتی آزادی قربان کی جا سکتی ہے۔

مزید : کالم