کیا جدید آلات ٹریفک مسائل کا حل ہیں؟

کیا جدید آلات ٹریفک مسائل کا حل ہیں؟

صوبائی حکومت مختلف شہروں میں درپیش ٹریفک مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جدید مواصلاتی نظام کے نفاذ پر غور کررہی ہے، یہ نظام مشرقی وسطیٰ سمیت پوری ترقی یافتہ دنیا میں رائج ہے جہاں ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کی تصویر بنتی ہے جس میں قانون اور ضابطے کی خلاف ورزی کے ساتھ ہی گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی واضح ہو جاتی ہے، یوں ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر اس گاڑی کو جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے، خبر میں بتایا گیا ہے کہ حکومت انٹیلی جنس ٹرانسپورٹیشن سسٹم پر کام کر رہی ہے جس کے تحت شہر بھر میں خود کار شناخت والے کیمرے نصب کئے جائیں گے، فی الحال چند کیمرے ٹریفک وارڈنز کو دیئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے ایک خصوصی آپریٹنگ یونٹ تشکیل دیا تھا، جس نے تفصیل سے غور کے بعد تجاویز مرتب کی ہیں، ان کی منظوری کے بعد ہی کیمروں کی تنصیب کا پورا منصوبہ بنے گا کہ کہاں کہاں نصب ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کے لئے کیا طریق کار ہوگا، اسی منظوری کے بعد ہی کیمرے اور سامان بھی درآمدکیا جائے گا۔

اس وقت ٹریفک کے جو مسائل درپیش ہیں ان کا ایک نمونہ تو گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی انڈر پاس پر نظر آیا، جب ایک کنٹینر کو ڈرائیور نے وارث میر انڈر پاس سے گزارنے کی کوشش کی اور وہ پل کے نیچے پھنس گیا، جس سے ٹریفک معطل ہوئی اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی بسوں اور ٹرکوں کے پھنسنے کے حادثات ہوئے اور جانی نقصان بھی ہوا، لیکن کوئی حفاظتی اقدامات نہ کئے گئے، جب یہ انڈر پاس تعمیر ہوئے تو انڈر پاس شروع ہوتے ہی اوپر گارڈر لگائے گئے تھے جن پر بورڈ لگا کر تحریر کیا گیا تھا کہ ہیوی وہیکلز کا گزرنا منع ہے اور اگر مقررہ اونچائی سے زیادہ والی کوئی گاڑی، بس، یا ٹرک ادھر سے گزرنے کی سعی کرتا تو یہ گارڈر رکاوٹ بن جاتے تھے۔ اب یہ ایک آدھ جگہ رہ گئے ہیں، باقی ہر جگہ سے غائب ہو چکے ہیں، ان کی دوبارہ تنصیب کا کچھ نہیں کیا گیا۔ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنا اور ٹریفک جام سے بچانا ٹریفک وارڈنز کی ذمہ داری ہے، افسوس ناک بات یہی ہے کہ یہ وارڈن حضرات اب اپنے فرائض ادا نہیں کرتے بلکہ چالان کرنے پر لگے رہتے ہیں کہ ان چالانوں کی آمدنی سے ان کو تنخواہیں دی جاتی ہیں، شہر میں جگہ جگہ ٹریفک جام ہوتی ہے۔ ٹریفک وارڈن حضرات چار چار کی ٹولیوں میں چوراہوں کے کسی کنارے پر کھڑے گپ شپ کرتے نظر آتے یا پھر چالان کرتے پائے جاتے ہیں، ان کو ٹریفک کنٹرول کرنے سے کوئی غرض نہیں اور اگر کسی ایک آدھ چوراہے پر کوئی وارڈن ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے کھڑا ہوتو وہ کسی اندازے کے بغیر ہی ایک طرف کی ٹریفک کو اجازت دیتا تو دیر تک گزارتا رہتا ہے۔ نتیجے کے طور پر دوسری سڑکوں پر گاڑیوں کا اژدہام ہو جاتا ہے، حالانکہ مناسب وقت اور گاڑیوں کی تعداد کے مطابق ٹریفک چلنا چاہیے۔ امتحانی مراکز اور زیادہ رش والے مقامات پر وارڈن نظر ہی نہیں آتے۔ اس کے علاوہ ٹیپا والوں نے ٹریفک پولیس حکام سے مل کر سگنل فری کا جو کھیل شروع کیا ہے، وہ کسی بہتر تکنیک کا حامل نہیں، یہ بھی ٹریفک حادثوں اور ٹریفک جام کا سبب بن رہا ہے۔حکومت اگر مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو شہریوں کی تربیت اور ان کو قواعد پر عمل کرانے کی حکمت عملی بنائے اور ٹریفک وارڈنز کو فرائض منصبی ادا کرنے پرآمادہ کرے، ورنہ منصوبے بنتے اور قومی خزانے کو نقصان ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ