فیصل آباد ،اداروں میں سیاسی سربراہوں کا تقرر،اختیارات کی جنگ اور چودھراہٹ کی معرکہ آرائی شروع

فیصل آباد ،اداروں میں سیاسی سربراہوں کا تقرر،اختیارات کی جنگ اور چودھراہٹ ...

فیصل آباد(بیورورپورٹ)ایف ڈی اے‘ فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی‘ واسا اور پی ایچ اے میں سیاسی سربراہی تقرریوں کے بعدان کی سرکاری انتظامی سربراہوں کے ساتھ بعض معاملات میں انتظامی کھینچاتانی‘’’اختیارات کی جنگ‘‘ اور’’ چودھراہٹ کی معرکہ آرائی‘‘ شروع ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف سرکاری ادارے میدان جنگ بن گئے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات ان اداروں کی کارکردگی پر بھی محسوس ہونے لگے ہیں رہی سہی کسر ایف ڈی اے کے سیاسی چیئرمین نے سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب کو اپنے آئینی اختیارات کی وضاحت بارے ایک لیٹر لکھ کر اورفیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سیاسی چیئرمین نے شدید ناراضگی کے عالم میں ایم ڈی فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو معطل کر کے پوری کر دی ہے اور بحث یہ چھڑی ہوئی ہے کہ ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو معطل کرنے کیلئے جو اختیار استعمال کیا گیا اس کی قانونی حیثیت کیا تھا؟ کیا ایسا کرتے وقت مینجمنٹ بورڈ کا کوئی اجلاس ہوا اور کیا اس اجلاس کا کورم پورا تھا؟ یاکیا سیاسی چیئرمین کو اکیلے ہی ایم ڈی کی معطلی کا اختیار حاصل ہے؟ اس بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھنا یہ ہے کہ شہریوں پر اس ایکٹ کے کیا اثرات ہیں‘ کیا صفائی کا نظام پہلے سے بہتر ہو گیا ہے؟ کیا سٹاف پر کنٹرول بہتر ہو گیا ہے؟ کیا لوگوں کو پہلے سے زیادہ ریلیف مل گیا ہے؟ اگر کوئی نئے ایم ڈی لائے جاتے ہیں تو کیا وہ سیاسی چیئرمین کو خوش رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟اور کیا وہ اچھی ورکنگ ریلیشن شپ قائم کر سکیں گے‘ اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھرشہریوں کا خدا حافظ‘ جب بھی سرکاری اداروں میں سیاستدانوں کی بطور سربراہ تقرریاں ہوتی ہیں تو سب سے پہلے وہ چارج سنبھالتے ہی اپنا شوق تزئین و آرائش و آسائش پورا کرتے ہیں نیا خوبصورت دفتر‘نئی کار‘ منفرد سٹاف‘ بلاحساب ملازمتوں کے کوٹے‘ نیا فرنیچر اور نیا رکھ رکھاؤ درکار ہوتا ہے غرضیکہ وہ اپنے ماحول کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے پر تل جاتے ہیں اور پھر نئے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں یہی کچھ فیصل آباد میں ان سرکاری اداروں میں ہوا .اسی طرح ایف ڈی اے میں ہوا اور اسی طرح واسا میں بھی ہوا. بعض دفاتر کو اپنے سیاسی ساتھیوں کے لئے تنگ محسوس کرتے ہوئے دیواریں گرا کر کھلا بھی کر لیا گیا. لاکھوں روپے شوق تزئین آرائش و آسائش کی نذر کر دیئے گئے یہیں سے اختیارات کی جنگ شروع ہوئی فیصل آباد میں ن لیگ کے دو بڑے سیاسی گروپوں کے ’’تجربہ کار کھلاڑی ‘‘آگے لائے گئے. رانا ثناء اللہ گروپ کے کھلاڑیوں کو تین بڑے ادارے مل گئے جبکہ ایک ادارہ چوہدری شیر علی گروپ کو بھی مل گیا ایف ڈی اے میں پہلی مرتبہ موجودہ چیئرمین اوپنر کی حیثیت سے آئے اور چوکے چھکے لگانے کے لئے پورے فارم میں نظر آئے. ابھی ایک ہی چوکا لگایا تھا کہ باؤنڈری پر ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایمپائرنے روک لیا‘ سارا کھیل ہی رک گیا ڈی سی او فیصل آباد تین روز قبل نئی ہاؤسنگ کالونیوں کے منظوری دینے کے ’’انتہائی اہم اور قیمتی مرحلہ ‘‘پر خود ایف ڈی اے آفس پہنچ گئے اور افہام وتفہیم کے حالات پیدا کرنے کیلئے منعقدہ اجلاس میں موجودہ چیئرمین کے ساتھ خود بھی بیٹھ گئے اور بظاہر دونوں حضرات نے اس اجلاس کی بیک وقت صدارت کی اس سے تناؤ میں کچھ کمی محسوس کی گئی ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ایم ڈی اور سیاسی چیئرمین کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا اس نے صورتحال کو مزید الجھا دیا چنانچہ رانا ثناء اللہ خاں گروپ کے کھلاڑی گزشتہ روز واسا دفاتر میں اکٹھے ہوئے. واسا کے وائس چیئرمین نے معاملات کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے درگذر کی پالیسی اپنانے کا مشورہ بھی دیا مگر باقی کھلاڑی ’’شاہدآفریدی‘‘ کا سٹائل اپنانے پر مصر رہے اسی دوران پتہ چلا کہ ایف ڈی اے کے کھلاڑی نے اپنے ’’اوپر والوں‘‘ کو ادارے کے سرکاری انتظامی سربراہ کے چناؤ کے لئے تین چار ناموں پر مشتمل ایک پینل بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے بلکہ اس کی تمام تیاریاں مکمل بھی کر لی ہیں تاکہ اپنے ہم مزاج آفیسر کی تعیناتی کرائی جا سکے بعض اطلاعات تو ڈی سی او فیصل آباد کو چھیڑنے کی بھی مل رہی ہے‘ اب کون کہاں تک کامیاب ہوتا ہے اصل صورتحال چند روز میں واضح ہونے والی ہے.لیکن اس چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں فیصل آباد کے شہریوں کو ریلیف ملنے کے امکانات کم ہیں اور یہ حکومت کے لیے بھی نیک نامی کا باعث نہیں بن سکتی۔

مزید : صفحہ اول