محتسب پنجاب کے لاہور اور تمام ضلعی دفاتر میں ’’پنشنرز ڈے‘‘ منایا گیا

محتسب پنجاب کے لاہور اور تمام ضلعی دفاتر میں ’’پنشنرز ڈے‘‘ منایا گیا

لاہور(خبر نگار)محتسب پنجاب جاوید محمودنے اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجودپنجاب حکومت کی جانب سے بزرگ پنشنرز کو ڈبل پنشن کی ادائیگی نہ کئے جانے پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس سے مداخلت کی درخواست کردی ہے ۔آڈیٹر جنرل اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے نام علیحدہ علیحدہ مراسلوں میں محتسب پنجاب آفس نے نشاندہی کی ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان اورکنٹرولر کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس پاکستان آرڈنینس مجریہ 2001کے تحت ملک بھر کے پنشنرز کی ادائیگی ان کی آئینی ذمہ داری ہے ۔ وفاقی حکومت کے علاوہ سندھ ،خیبر پختونخواہ اوربلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی 75سال سے زائد عمر کے پنشنرز کو بقایا جات سمیت ڈبل پنشن ادا کرچکی ہیں لیکن پنجاب حکومت عدالت میں یقین دہانی کرنے کے باوجود ان کا قانونی اورآئینی حق دینے کو تیار نہیں اس لئے آڈیٹر جنرل اورکنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس پاکستان اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مداخلت کریں ۔محتسب پنجاب کے لاہور اور تمام ضلعی دفاتر میں اس سلسلے ’’پنشنرز ڈے‘‘ منایا گیا جس میں ریٹائرڈ ملازمین کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انچارج محتسب پنجاب پنشن سیل وزیر احمد قریشی نے کہا کہ محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی من مانی تشریح اعلی عدالتوں اوربزرگ پنشنرزکی بے بسی کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ محتسب پنجاب آفس کی جانب سے لکھے گئے مراسلوں میں واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے30مارچ 2014کو 75سال سے زائد عمر کے نادار پنشنرز کو ڈبل پنشن کا حقدار قرار دیا تھا اوریہ حق لینے کیلئے بزرگ پنشنرز کو پنجاب سروسز ٹربیونل ، لاہور ہائی کورٹ ، محتسب پنجاب ، فیڈرل سروسز ٹربیونل اور سپریم کورٹ میں ایک طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی ،اس لئے آڈیٹر جنرل پاکستان اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس پاکستان کی جانب سے مداخلت ناگزیز ہوگئی ہے تاکہ وہ غیر آئینی اورغیر قانونی اقدامات روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ پنشنر ڈے

مزید : صفحہ آخر