31 مارچ سے پہلے ایل این جی سسٹم میں آجائے گی ،شاہد خاقان عباسی

31 مارچ سے پہلے ایل این جی سسٹم میں آجائے گی ،شاہد خاقان عباسی

 لاہور(آئی این پی) وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 31مارچ سے پہلے ایل این جی ہمارے سسٹم میں آ جائے گی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے پہلی ترجیح پاور سیکٹر ہے‘سب سے زیادہ سالانہ 8ارب کی گیس چوری خیبر پختوانخواہ میں ہو رہی ہے جہاں کاروائی کیلئے صوبائی حکومت کو خط ارسال کردیا ہے‘ پاکستان اپنی حدود میں پاک ایران گیس پائپ لائن بچھانے کا کام جلد شروع کر دے گا تاہم گیس کا حصول ایران پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا‘پٹر ولیم کا ایک بحران آیا تھا جسے حل کر لیا اب یہ دوبارہ نہیں آئے گا ، اب تیل کی طلب کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جارہا ہے ‘ گیس چوری کے خلاف سخت قانون بنا رہے ہیں۔ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز کے ہیڈ کوارٹر کے اچانک دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان اپنی حدود میں پاک ایران گیس پائپ لائن بچھانے کا کام جلد شروع کر دے گا تاہم ایران سے گیس کا حصول اس پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے چار ملکی گیس پائپ منصوبے کے حوالے سے کہا کہ اس حوالے سے بھی کام جاری ہے رواں سال اکتوبر تک بہت سے معاملات حل ہو جائیں گے جسکے بعد تقریباً ایک سال مالی معاملات کے لئے درکار ہیں اوریہ منصوبہ 2019ء تک ہو جائے گا ، اس منصوبے کے تحت گیس پائپ لائن جس ملک سے گزرے گی اسکی ذمہ داری اسکی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختوانخواہ میں سب سے زیادہ گیس چوری ہوتی ہے اور اسکی سالانہ مالیت 8ارب تک پہنچ گئی ہے ، اس سلسلہ میں صوبائی حکومت کو خط ارسال کر دیا ہے کہ گیس چوری پر قابو پائے کیونکہ یہ اسکی ذمہ داری بنتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تو صبح و شام جوڈیشل کمیشن کی بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے پیٹرول بحران کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے پاس سی این جی کو دینے کے لئے گیس نہیں ہے ،سی این جی کے لئے فارمولہ طے کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی باہر سے ایل این جی منگوا کر اس کے ذریعے اپنے اسٹیشنز کو چالو کر سکیں ۔حکومت کے اقدامات کے باعث ایل این جی 31مارچ تک سسٹم میں آ جائے گی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے پہلی ترجیح پاور سیکٹر ہے ۔ شاہد خاقان عباسی

مزید : صفحہ آخر