لاہورخودکش حملہ ، سی سی ٹی وی فوٹیج نے حقیقت کے قریب ترکی کہانی بے نقاب کردی

لاہورخودکش حملہ ، سی سی ٹی وی فوٹیج نے حقیقت کے قریب ترکی کہانی بے نقاب کردی
لاہورخودکش حملہ ، سی سی ٹی وی فوٹیج نے حقیقت کے قریب ترکی کہانی بے نقاب کردی

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس لائنز کے باہر ہونیوالے خودکش حملے کی حقیقت کے قریب ترکہانی سی سی ٹی وی فوٹیج سے سامنے آگئی ہے اور دہشتگردچھت پر موجود پولیس اہلکاروں کی گولیوں سے بچنے کی کوشش میں پھٹ گیا۔

پولیس لائنزقلعہ گجرسنگھ کے گیٹ کے سامنے بجلی کے کھمبے پر دوسی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جن میں سے ایک کی فوٹیج میں دیکھاگیاہے کہ ایک شخص نے حاجی کیمپ کی طرف سے آنیوالے بوکھلائے جوان کو دیکھتے ہی شور مچادیا جس پر پولیس لائنز کی چھت پر موجود پولیس اہلکاروں نے فائرنگ شروع کردی اور چھت سے ہونیوالی فائرنگ سے بچنے کے لیے مبینہ دہشتگرد نے دومنزلہ عمارت کارخ کیاجس کے قریب پہنچتے ہی وہ دھماکے سے پھٹ گیا۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق مبینہ دہشتگرد شلوارقمیض میں ملبوس تھا اور اُس کی عمر20سے پچیس سال تھی ۔بتایاگیاہے کہ پولیس نے مذکورہ کیمرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تحویل میں لے لی ہے اور آئی جی پنجاب اور ڈی سی اولاہورکی موجودگی میں پولیس لائنز میں ہی سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیاجارہاہے ۔ ڈی آئی جی آپریشنز حیدراشرف نے بھی مبینہ دہشتگرد کے مڑنے کی تصدیق کی تاہم اُس کے ہدف کا حتمی تعین نہیں ہوسکا۔

نجی ٹی وی چینل ’اب تک‘ کے مطابق دہشتگرد کا ممکنہ ہدف ڈی آئی جی آپریشن تھے جبکہ ڈی آئی جی آپریشن کاکہناتھاکہ پولیس اہلکار چوکس تھے اور دہشتگرد اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پایا،وہ پولیس لائنز کو نشانہ بناناچاہتاتھا۔

دوسری طرف شہید ہونیوالے پولیس اہلکاروں سمیت چار افرادکی شناخت ہوگئی ہے جبکہ ایک شخص کی آخری اطلاعات تک شناخت نہیں ہوسکی ۔

مزید : قومی