عرب ملک میں یہ شہری 3 سال قبل کفیل کے خلاف مقدمہ جیت گیا، عدالت نے لاکھوں روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا لیکن پھر کفیل نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ جان کر ہر شہری کانپ اُٹھے

عرب ملک میں یہ شہری 3 سال قبل کفیل کے خلاف مقدمہ جیت گیا، عدالت نے لاکھوں روپے ...
عرب ملک میں یہ شہری 3 سال قبل کفیل کے خلاف مقدمہ جیت گیا، عدالت نے لاکھوں روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا لیکن پھر کفیل نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ جان کر ہر شہری کانپ اُٹھے

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکی محنت کشوں کے ساتھ کفیل زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں تو انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قانونی مددحاصل کریں، لیکن ایک بھارتی شہری کے ساتھ ہونےوالے سلوک سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قانون ایسی صورت میں کتنا مددگار ثابت ہوسکتاہے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق 31 سالہ الیکٹریکل انجینئر عبدالقدیر کو جب کئی ماہ تک تنخواہ ادا نہ کی گئی تو اس نے اپریل 2014ءمیں اپنے کفیل کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی۔ اس نے اپنی درخواست میں بتایا کہ 9ماہ کام کرنے کے باوجود اسے تنخواہ ادا نہیں کی گئی تھی اور فریاد کی کہ اس کی محنت کی کمائی اسے دلوائی جائے۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی مشقت اور خواری کے بعد بالآخر فیصلہ عبدالقدیر کے حق میں آگیا۔ عدالت نے کفیل کو حکم دیا کہ عبدالقدیر کو نہ صرف 64214 درہم ادا کئے جائیں بلکہ تمام قانونی اخراجات کی بھی اسے ادائیگی کی جائے۔

’میں نے اس لڑکی کا ریپ نہیں کیا بلکہ اس نے کہا تھا کہ۔۔۔‘ خاتون سے زیادتی کے الزام میں پکڑے گئے پاکستانی شہری نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

کفیل کے خلاف عدالتی فیصلے کو اب ڈیڑھ سال گزرچکا ہے اور بیچارے عبدالقدیر کا کہنا ہے کہ نہ اسے تنخواہ ملی ہے اور نہ قانونی اخراجات کی مد میں ایک بھی پیسہ ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے وہ آج کل ایک ملازمت کررہے ہیں، جس کے سہارے اپنے بھاری قرضہ جات ادا کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد وہ بارہا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔ بے بسی اور بھاری قرضوں میں جکڑے عبدالقدیر کا کہنا تھا ”بدقسمتی سے میں قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا، لیکن مجھے یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہی کہ میں کیا کروں۔ کاش کوئی میری مدد کر دے۔“

مزید :

عرب دنیا -