سیاست میں نئے رجحانات

سیاست میں نئے رجحانات
 سیاست میں نئے رجحانات

  

اقبال ؒ کہتے ہیں کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘۔۔۔ اقبالؒ ایک ذہنِ رسا اور تخیل ارفع رکھنے والی شخصیت تھے، لیکن ہمارے اہلِ سیاست بھی اہلِ فکر سے کم نہیں ، نہ صرف یہ کہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کے ماہر ہیں، اس کے ساتھ اپنے جذبات کی فوری رسائی او ر اپنے پیغام کی دعوت و توسیع کے لئے بر وقت ٹویٹر ، فیس بک اور سوشل میڈیا کا استعمال بھی لازمی سمجھتے ہیں۔ مریم نواز ، عمران خان،بلاول بھٹو ٹویٹر کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تنقیداور جوابی تنقید کا کوئی موقعہ ضائع نہیں جانے دیتے۔ یہ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کا کمال ہے اور دوسری طرف ہمارے سیاستدانوں کی بیدار مغزی اور مسلسل و متحرک ذہانت کی عکاسی ہے۔ افسوس کہ ہمارا بنیادی المیہ یہ ہے کہ ہم نئے رجحانات ، جدت، سیاست، گفتگو، طرز عمل ،یہاں تک کہ اپنی طرزِ گفتگواور اظہار خیال کو بھی اخلاقیات اور اقدار کے تابع نہیں کر سکے۔ہمارے ہاں الفاظ کی نُدرت اور نئے نئے خیالات کے تخلیق کی فراوانی ہے، لیکن اس سارے معاملے کے درمیان میں اعتدال، توازن، تہذیب اور شائستگی ندارد ہے۔ منفی پروپیگنڈا، جذباتی اظہار خیال ، طعنہ زنی، جوابی الزام تراشی ، دلیل اور سنجیدگی سے بے نیاز گفتگو ہمارے اہل سیاست اور سیاسی کلچر میں مروجّ ایک نیا تیزی سے پھیلتا ہوا رجحان ہے ،جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، کم ہے۔نئے سیاسی رجحانات اور طرز عمل میں چند مثبت پہلوؤں کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا کی بدولت سیاسی شعور میں اضافہ بھی ایک حقیقت ہے۔ احتجاج کی نوعیت بھی تبدیل ہوگئی ہے۔ مشعل بردا ر جلوس، گھیراؤ جلاؤ ، پہیہ جام اور ہڑتالیں اب ناپید ہیں۔ دھرنا اب ایک موثر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گیا ہے، لیکن کئی پہلوؤں سے یہ ایک مشکل ، صبر آزمااور کٹھن احتجاجی انداز ہے جس کو نتیجہ خیز اور موثر بنانے کے لئے موثر نیٹ ورک ، مربوط تنظیم اور شعوری سیاسی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے سیاسی کارکنوں کو لاٹھی چارج، قیدوبند ، کوڑوں اور دوسری کئی اقسام کی اذیتوں سے گزرنا ہوتا تھا جو اب عملی طور پر ناممکن ہیں ،لیکن آج جمہوری آمریت ، موروثی بادشاہت ، خاندانی حکمرانی اور کرپشن کی وبائیں زوروں پر ہیں۔

ایک جدید اور حاوی رجحان سیاست اور تجارت کا گٹھ جوڑ ہے ۔ کسی زمانے میں جاگیر اور سیاست کا گٹھ جوڑ ہوا کرتا تھا ، قوم پرستی اور سیاست ، فرقہ واریت اور سیاست ، مذہبی انتہا پسندی اور سیاست ،لسانیت اور سیاست۔۔۔ ان تمام عوامل کا آپس میں ربط و تعلق اور بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت ان کا ایک دوسرے کیلئے ممدومعاون ہونا ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔اہل سیاست کی جو مختلف انواع ہمارے ہاں پائی جاتی ہیں، ان کی اپنی اپنی بساط اور حالات کے مطابق یہ مجبوری رہی ہے کہ وہ ان عوامل کو وقتاًفوقتاًآپس میں مربوط کر کے اپنے مقاصد کو تقویت پہنچاتی رہتی ہیں۔ بہر حال سیاست اور تجارت کے گٹھ جوڑ کے رجحان کا جو بھاری منفی نتیجہ نکلا ہے، اس کے اثرات ملک و قوم کے حوالے سے بہتر ہر گز نہیں ہیں۔اس میں حکمران خاندانوں کے بچے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو کروڑوں اور اربوں روپے کے تحفے دے رہے ہیں،جس کی بازگشت اعلیٰ ترین عدالت میں روزانہ سنائی دے رہی ہے، لیکن تجربہ کار اور جہاندیدہ جج صاحبان بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا میں وہ کون سا کاروبار ہے جوپہلے ابتدائی چار سال میں کسی پرائے ملک میں کاروبار کے ڈائریکٹروں کو کم سنی میں 52 کروڑ روپے کا سر منافع دیتا ہے اور یہ منافع اتنا اضافی محسوس ہوتا ہے کہ مزید سرمایہ کاری یا کاروبار کی وسعت کے تقاضوں کے لئے استعمال ہونے کی بجائے بڑے آرام سے اسے خالص زر کی صورت میں ایک دوسرے کو تحفتاََ دیا جا تا ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ کیوں نہ تحفے کی اس رقم سے فلیٹس خریدلئے جائیں،گزشتہ ہفتے یہ حیرت انگیز خبر اخبارات کی زینت بنی ہے کہ بارک اوباما اور مشعل اوباما کرائے کا گھر دھونڈ رہے ہیں اور اس پر متضاد خبر یہ کہ نائب صدر جو بائیڈن کا بیٹا کینسر جیسے مرض میں مبتلا تھا اور اس کے علاج کے لئے رقم کے بندوبست کی خاطر جو بائیڈن نے مکان بیچنے کا اشتہار دے دیا (بعد میں اس کا انتقال ہو گیا)،جس پر بارک اوباما نے ان کو مکان بیچنے سے منع کر کے کچھ رقم قرض کے طور پر دینے کی پیش کش کی اس پر ہمارے حکمران خاندان کے لئے صرف یہی کہا جا سکتا ہے۔۔۔ فاَعتبِروُ یا اولی الابصار۔

ہماری سیاست میں ایک نیا رجحان جملہ بازی اور بیان بازی کا مقابلہ ہے ۔ پرویز خٹک اور ضیاء اﷲآفریدی دونوں عمران خا ن کی تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن دونوں ایک دوسرے کو اعلانیہ کرپٹ ، دونوں خود کو پاک دامن اور ایماندار کہنے پر مصر ہیں اور دونوں تحریک انصاف کو اپنی پارٹی سمجھتے ہیں ۔تحریک انصاف کے سربراہ دونوں کی تعریف و توصیف بھی بذات خود کرتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو سمجھنے کا ہے نہ سمجھانے کا۔۔۔ نتیجہ یہی ہے کے سادہ لوح عوام دونوں کو کرپٹ سمجھتے ہیں اور ان پڑھ عوام کی سیاست اور سیاسی جماعتوں سے نفرت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاست میں ایک اور رجحان سیاسی جماعتوں کے اندر سیکنڈ لائن لیڈر شپ پر متمکن شخصیات کی پس پردہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دھینگامشتی کر کے مرکزی لیڈر شپ کی نگاہ میں اپنی ریٹنگ بڑھانے اور خوشامد میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی ایک دوڑ ہے جو سیاسی جماعتوں کے اندر پردے کے پیچھے جاری ہے۔یہ دوڑ خیبر پختونخوا میں عنقریب شدت اختیار کرنے والی ہے۔ امیر مقام جیسا متحرک اوریار باش سیاست دان پیر صابر شاہ کو پچھاڑنے کے لئے مسلسل متحرک ہے۔ خیبر پختونخوا میں نمایاں ، بااثر ، دولت مند ، حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو دھڑادھڑ مسلم لیگ (ن) میں شامل کروایا جارہا ہے۔ اور مستقبل میں صوبائی قیادت کا سہرا امیر مقام کے سر سجنے والا ہے ،جبکہ پیر صابر شاہ ہزارہ لیگ کے بل بوتے پر شاید گورنر ہاؤس میں براجمان ہو جائیں ۔اعلیٰ سطح پر سیاسی قیادت کے حکومتی فیصلوں کا ایک جدید رجحان یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر لڑنے اور زمین آسمان کے قلابے ملانے والی اپوزیشن اور مخالف سیاسی جماعتوں کو اس وقت سانپ سونگھ جاتا ہے، جب ایسا کو ئی بل ایوان میں آتا ہے جو ان کی مراعات میں اضافے کے لئے ہو۔ایسے بل کی نہ کوئی خواندگی ہوتی ہے، نہ اس پر طول طویل بحث کی جاتی ہے، نہ اس میں خامیاں ہوتی ہیں ، نہ اس پر تنقید ہوتی ہے، نہ اس کو کمیٹی یا ذیلی کمیٹی کے حوالے کیا جاتا ہے۔ 48گھنٹے کے اندر اندر ایسا بل تیزرفتاری اور چابکدستی کے ساتھ تمام مراحل طے کر کے پاس ہوجاتا ہے۔

ایک انہونا رجحان یہ ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین کیلئے دس فیصد اضافے کی سفارش پر جون کا سارا مہینہ صرف کرنے والا ایوان یکمشت اپنے لئے تین سو فیصد اضافہ منظور کر لیتا ہے ، جو سرکاری ملازمین دس فیصد اضافے کے مستحق گردانے جاتے ہیں ، وہ فائدہ نئے مالی سال سے اٹھاتے ہیں اور حکمران اپنا فائدہ پچھلے مالی سال سے اٹھانے کا قانونی استحقاق رکھتے ہیں ۔ اور اپنے بقایا جات بھی وصول کر لیتے ہیں ۔ استحقاق کے حوالے سے بھی عوام میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی بحث و مباحثے کے اس نئے رجحان کے تناظر میں سنجیدہ عوامی حلقے یہ جان گئے ہیں کہ پاکستان میں استحقاق رکھنے والے صرف دو طبقے ہیں ۔ پہلے سیاست دان اور دوسرے اعلیٰ سطح کی بیوروکریسی۔ نئے رجحانات اور نئی سیاسی اصلاحات میں شاید پرانی اصطلاح، یعنی استحقاقی طبقہ ، اب استحقاق یافتہ طبقہ بن گیا ہے۔ عوام تو کالانعام ہیں، جانوروں کا تو کوئی استحقاق نہیں ہوتا، وہ تو ہمیشہ مالکان کی خدمت کیلئے ہوتے ہیں ۔۔۔

مزید :

کالم -