ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منالیتے ہیں۔۔۔!!

ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منالیتے ہیں۔۔۔!!
ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منالیتے ہیں۔۔۔!!

  



پہلے کراچی ،پھر لاہور،کوئٹہ کے بعد پشاور،مہمند ایجنسی اور اب عہد غزنوی میں افغانستان سے امن اور محبت کا پیغام ہندوستان میں لانے والے سیّد عثمان مرندی(شاہ حسینؒ )کا مزار خون سے لال کردیا گیاہے۔ہم اس پر دشمن کو کوسنے کیوں نہ دیں ،نوحہ کیوں نہ پڑیں ۔اپنے غم کو ہلکا کرنے کے لئے ہم اور کربھی کیا سکتے ہیں۔ دشمن تیرے کلیجے میں پھربھی ٹھنڈ نہ پڑی ،تونے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اہلکاروں کا نشانہ بنا دیا،وقت کتنا صرف چار دن،مطلب سو گھنٹے میں سو سے زیادہ زندگیاں،کیا خراج مانگا ہے تم نے ،اب تو لاشیں اٹھاتے،اٹھاتے کندھے خم کھا چکے،سانحات گنتے گنتے تھک چکے،خبریں پڑھتے پڑھتے آنکھیں چندھیا چکیں ’’کیا لکھوں رویا جو لکھتے جوں قلم!‘‘

وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں ’’ ہم میں سے ایک پر حملہ سب پر حملہ ہے، یہ حملہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے، میرا دل متاثرین کے ساتھ ہے، ہم ایسے واقعات سے خود کو تقسیم نہیں ہونے دے سکتے ‘‘یہ دل پہلے بھی تو کئی بار رویا ہے،اب کی بار آپ کا کوئی نیا رونا تو نہیں ہے،وزیر اعلیٰ سندھ صاحب فرماتے ہیں سیہون حادثے میں زخمیوں کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،وزیر اعلیٰ صاحب کاش آپ اپنے ہی حلقے میں ہسپتال بنوا دیتے تو متاثرین یوں بے بسی کی موت نہ مرتے،شاید کئی لوگ بچ جاتے۔

ہرواقعے کے بعد اجلاس ہوتا ہے،منصوبے بنتے ہیں اور ایک اور نئے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے،ہر سانحے کے بعد یہی کہا جاتا ہے کہ ہم شدید مذمت کرتے ہیں زخمی ہونیوالوں کو اتنے لاکھ اور مرنے والوں کی زندگی کی قیمت اتنے لاکھ روپے ۔۔۔کہا جاتا ہے ’’قوم کے خون کے ایک ایک قطرے کا فوری حساب لیں گے،دہشت گردوں سے فوری انتقام لیا جائے گا،کسی بھی ذمے دار کو نہیں بخشیں گے۔ قوم پرسکون رہے، پاک فوج دشمن قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی‘‘کب تک قوم سکون میں رہے 15برس سے تو لاشیں اٹھارہی ہے،اپنوں کو کندھوں پر اٹھا اٹھا کر گڑھوں میں دفنا رہی ہے،اور کتنا سکون اور کنتا انتظار۔مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا!

سالوں سے ایک اصطلاح’’طالبان‘سنتے سنتے کان پک چکے تھے کہ ایک اور نیا نام’’جماعت الاحرار‘‘سروں کی تجارت کیلئے اٹھ کھڑاہوا ،پہلے ہر واقعے کی ذمہ داری طالبان کے سرجاتی تھی ، اب نیا برانڈ اور نیا نام غیر ملکی میڈیا کو ای میل کرکے بتا دیتا ہے کہ یہ کام ہم نے کیا ہے۔

2017 ء میرے ملک کیلئے منحوس بن کر سامنے آیا ہے،دہشت گردی کے واقعات میں جنوری میں 61 افراد اپنی جانوں سے گئے، فروری میں اب تک کوئی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، 15 سالہ پرتشدد تاریخ میں اس طرز کے رجحانات پہلے بھی دیکھے گئے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کی اہمیت حکومت کی جانب سے ضرب عضب کے نتیجے میں بہتری کے دعوے کرنے والے حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے،امریکہ تو آج بھی الزام لگارہا ہے کہ اس خطے میں 20 شدت پسند گروپ آج بھی سرگرم ہیں لیکن اس خونریز لڑائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور مہند ایجنسی سے آغاز پانے والی جماعت الاحرار ابھی بھی پیش پیش ہیں، لشکر جھنگوی العالمی اور القاعدہ بر صغیر بھی اکا دوکا واقعات کی ذمہ داری لے رہی ہیں لیکن میڈیا سے مسلسل رابطے میں پہلی دو تنظیمیں ہی ہیں۔

جماعت الاحرار نے گزشتہ دنوں ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں تنظیم کے ایک سینیئر کمانڈر اپنے اہداف کی فہرست پڑھتے ہیں اور اس تازہ کارروائی کو غازی کا نام دیتے ہیں۔ان دونوں تنظیموں کے فعال رہنے کی واحد بڑی وجہ یقیناً پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدت پسندی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلافات ہیں۔ پاکستان مشترکہ سرحد پر نگرانی کو بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے اور اس پر توجہ بھی دے رہا ہے اور اسے شاید احساس بھی ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ کسی بڑے حادثے کے بعد ایک دوسرے ملک کے رہنماؤں کی تعزیتی ٹیلیفون کالز مسئلے کا حل نہیں ہیں، ایک دوسرے کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھنا واحد حل ہے،ہم عالمی دعوؤں کی نفی کرتے نہیں تھکتے لیکن پے در پے واقعات ہمارے دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ظلم جتنا بھی طویل ہو جائے آخر انجام کو پہنچ جاتا ہے،خون بہتا ہے تو جم جاتا ہے،اندھیری رات کے بعد روشن صبح نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے۔ طاقت نے بڑے بڑوں کے تیور ٹھیک کردیے،امریکہ جب 2001ء میں ہماری مدد سے افغانستان آیا تب سے پاکستان ’’جہنم‘‘ بنا ہوا ہے،ناٹو فوجوں نے ہماری شاہراہوں کو استعمال کیا،دہشتگردوں نے ملک کے کونے کونے میں دہشت کا کھیل کھیلا،ہزاروں شہریوں کو قتل کیا،مسجدوں،امام بارگاہوں،گرجا گھروں،گردواروں،مندروں تک کو نہ بخشا،خفیہ قوتوں نے عسکری اداروں کو ٹارگٹ کیا،جی ایچ کیو،مہران بیس،کامرہ اےئربیس،نیوی ڈاکیارڈ پر حملے ہوئے،دو مئی ایبٹ آباد آپریشن ہوا،فوجی جوانوں کو اغواء کیا گیا،حملوں میں شہید کیا گیا،ایک منصوبے کے تحت لسانیت،علاقایت کو فروغ دے کر ملک کو ماتم کدہ بنایا گیا،پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کیلئے ہر چال چلی گئی،ہر مہرہ استعمال کیا گیا،اس جنگ کی صورت پاکستان نے 2002ء سے اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد کی جانیں قربان کیں،پاکستان نے معاشی،معاشرتی ہر سطح پر نقصانات اٹھائے ہیں۔

یہ نہیں کہ دشمن کے قدم روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ہے اس کی کمر توڑنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔۔۔قوم کو اپنی فوج کی صلاحیت پر بھی اعتبار ہے،یہ صلاحیت ہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں آئی ایس پی آرکے مطابق ضربِ عضب آپریشن میں اب تک2ہزار کے لگ بھگ دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں،ساٹھ فیصد سے دہشتگردیوں کی کارروائیوں پر قابو پایا جاچکا ہے،مارے گئے دہشتگردوں کی زیاد تعداد غیرملکیوں کی ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق کھجوری، میرعلی، میران شاہ، دتہ خیل روڈ اور گھریوم جھالر روڈ کو محفوظ بنایا جا چکا ہے،اس کے علاوہ فوج نے میرعلی، دتہ خیل، بویا اور دیگان قصبوں کو بھی عسکریت پسندوں سے خالی کروا لیا ہے۔اب تک27 بم ساز فیکٹریاں، اور ایک ایک راکٹ اور ایمونیشن فیکٹری بھی تباہ کی گئی ہے، جب کہ عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال مواصلاتی ساز و سامان، اسلحہ اور گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔اب تک آپریشن ضرب عضب کے دوران 82 فوجی شہید ہوئے ہیں جب کہ 269 زخمی ہیں۔

ایسے اقدامات اٹھانے سے ہی امن لوٹا تھا ، سہمے سہمے بچے پھر سے مسکرانے لگے تھے، زندگی پھر سے جگمگانے لگی تھی۔ اور صاحب! 20 کروڑ گوشت پوست کے پاکستانی بھی آئے روز ماتم نہیں،خوشیاں چاہتے ہیں،حقیقی امن کی صورت میں بنیادی سہولیات بھی مانگتے ہیں مگر یہ صرف حکومتی کوششوں یا عارضی اقدامات سے نہیں ہوگا، اِس لیے کے مستقل پلان تیار کرنے کی ضرورت ہے، وقت کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے، مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ اِس لیے خدارا وقت کو دولت سمجھیے، قوم اپنے اثاثوں کو نعمت کا تصور دے، یقین کیجیے اگر ایسا کرلیا گیا تو طاقت آپ کے قدم چومے گی، بوکھلاہٹ میں تو اکثر اپنا ہی نقصان ہوتا ہے، منصوبہ بندی اور وقت کا صحیح استعمال کیے بغیر جنگ تو درکنار ایک میچ تک نہیں جیتا جاسکتا،اگر آپ کو دشمن کا پتا ہے تو اسے اپنے زور بازو کا دم بتا کیو ں نہیں دیتے،یا پھر مان لیا جائے کہ

ہم سے قاتل کا ٹھکانہ نہیں ڈھونڈا جاتا

ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منالیتے ہیں

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ