اکیسویں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان

اکیسویں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان
اکیسویں قسط۔ ۔ ۔حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان

  

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانوادۂنوشاہیہ کی خدمات

قطب الارشاد حضرت برقؒ نے قدسی صاحب پر بے پایاں توجہ دی تھی مگر وہ تحیّر کا شکار ہو گئے۔ وہ اوچ شریف پہنچے تو ان پر بھید کھلا۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ شکستہ حالت میں واپس ڈوگہ شریف آئے۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس تھا۔ وہ کچھ دیر کے لئے حضرت سرکاربحرالعلومؒ کی در گاہ چک سواری گئے تاکہ انہیں معافی مل جائے۔لیکن وہاں سے کوئی سہارا نہ ملا۔حضرت سرکاربحرالعلوم ؒ نوشاہیہ سلسلے کے بہت بڑے بزرگ اور قبلہ پیر صاحب کے دادا ماجدتھے۔ راہ تصوّف میں روحانی آزمائش بہت سخت اور گراں ہوتی ہے۔ اوراد ووظائف کے دوران جب ایک سالک پر باطن کھلتا ہے تو شیطان اس کا خیر خواہ بن کر اسے گمراہ کرتاہے۔ اگرسالک مرشد کامل کی نصیحت پر عمل کرلے تو وہ تباہی سے بچ سکتا ہے۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ، تحقیقی داستان ۔۔۔بیسیوں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک عرصہ بعد قدسی صاحبؒ مجذوبانہ حالت میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ تین سال یونہی گزر گئے۔ ایک روز میں اور بابو منظور احمد حضرت پیر صاحبؒ کیساتھ جہلم کی طرف جارہے تھے۔ میں گاڑی چلا رہاتھا اور بابو منظور احمد فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔ پیر صاحب پچھلی سیٹ پر ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔ بابو منظور نے اچانک قبلہ پیر صاحب سے گزارش کی’’ حضور قدسی صاحب کو معاف کر دیں‘‘ ۔قبلہ پیر صاحب نے گہری نظروں سے انہیں دیکھا اور خاموش رہے۔

بابو منظور احمد نے سیٹ پر پہلو بدلا اور ہاتھ جوڑ دیئے ’’سرکار قدسی کو معاف کر دیں۔ آپ سرکار نوشہ گنج بخشؒ کے خزانوں کے وارث ہیں۔ آپ رحم فرما دیں ۔۔۔ سرکار نوشہ کا واسطہ انہیں معاف کر دیں ۔۔۔آج اور ابھی سرکار۔۔۔‘‘ بابو منظور احمد نے ہاتھ جوڑتے ہوئے بچوں کی طرح ضد کی ٹھان لی تو بحر برق میں ترحم پیدا ہوا توقدسی صاحبؒ کو تمام اعزاز و مقامات حاصل ہو گئے‘‘

اس ایک واقعہ سے راہ تصوف کے طلب گاروں کو یہی پیغام ملتا ہے کہ مرشد کی نگرانی میں مجاہدے کرنے والے اگرگستاخی و بے ادبی کر بیٹھیں توان کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں۔یہ راہ آسان نہیں ہے۔طریقت میں ادب اور خدمت کا بہت بڑا درجہ ہے۔راہ تصوف کے متلاشی بخوبی جانتے ہیں مرشد کی نگاہ میں ادب و خدمت سے مقام حاصل کیا جاتا ہے۔حضور قبلہ حضرت سید نوشہ گنج بخشؒ اپنے مرشد حضرت سخی سلیمان نوریؒ کی جوتیاں اٹھاتے اور اپنے کپڑوں سے صاف کرتے، ان کے تبرکات کو چومتے اور قبلہ مرشد کے وصال کے بعد آپ کے ہجر میں تڑپا کرتے تھے۔حضور قبلہ برقؒ مجدداعظم کی تعلیمات و شخصیت کا پرتوتھے اور آپؒ پر سرکار کی نظر کرم تھی۔

قطب الارشاد حضرت پیر سیدابو الکمال برق ؒ نوشاہی جلال و جمال کا پیکر تھے۔ آپؒ کی نگاہِ تجلّی اثر سے دل پھڑکنے لگتے تھے۔ سید ظاہر شاہ کمال بتا رہے تھے کہ ایک بار ان کے ایک دوست سید اعجاز شاہ بخاری نے ضد شروع کردی کہ آپ سرکار سے کہہ کر انہیں بھی درویشی دلوادیں۔ ہم انہیں سمجھاتے کہ فیض اسطرح تھوڑا ملتا ہے۔ دوست تھے، ضد کرتے رہے۔ ایک بار انہوں نے بھائی صفدر شاہ کی موجودگی میں بھی اصرار کیا اور جب ہمارے سمجھانے پر بھی نہ سمجھے توبخاری صاحب نے بھوک ہڑتال کر دی۔ ایک دن میاں خان خلیفہ ان کے لئے اہتمام سے ناشتہ لیکر گئے توانہوں نے ناشتہ واپس کردیا اور کہا جب تک درویشی نہیں ملے گی کھانا نہیں کھاؤں گا، انہوں نے دوپہر کا کھانا بھی نہ کھایا۔ جب میاں خان خلیفہ ان کا شام کا کھانا لائے تو وہ بھی واپس کر دیا۔ میاں کھانا واپس لیکر جارہاتھا کہ ادھر سے قبلہ پیر صاحب آگئے۔ انہوں نے پوچھا کہ میاں کس کا کھانا واپس لے جارہے ہو۔میاں خان ؒ سیدھا سادا آدمی تھا۔ بولا ’’بخاری صاحب صبح سے کھانا نہیں کھا رہا سرکار ۔۔۔کہتا ہے پہلے درویشی دلواؤ پھر کھانا کھاؤں گا‘‘۔۔۔ اس سے قبل ہم بھی پیر صاحب سے اعجاز شاہ کی سفارش کر چکے تھے مگرادھر سے اذن نہیں ملاتھا۔۔۔ پیرصاحب نے ہلکا سا تبسم فرمایا اور حجرے میں چلے گئے۔ مغرب کے بعد رات گیارہ بجے تک حضور دربارنوشاہیہ لگاتے تھے۔ آپؒ نے کہا’’بھئی اعجاز شاہ کو بلاؤ۔ بھوکا ہی نہ مر جائے‘‘ اعجاز شاہ کو بلاکر حضور کے قریب لایا گیا تو قبلہ پیر صاحبؒ نے کہا ’’اعجاز شاہ ذرا ادھر میری طرف دیکھو۔۔۔‘‘

ہم سب ا ور حاضرین محفل حضور کا جملہ سنکر متوجہ ہوئے۔ بخاری صاحب نے نظر اٹھا کر حضور پیر صاحب کی جانب دیکھا۔ اور پھر جیسے مبہوت ہو گئے۔ آنکھ جھپکنا بھی بھول گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور لبوں پر خاموشی کے تالے لگ گئے تھے۔ دوسرے ہی لمحے اعجاز بخاری نے نظریں جھکالیں۔ اسی اثنا میں پیر صاحبؒ اٹھ کر حجرے میں چلے گئے۔ ہم نے بخاری صاحب سے کہا’’کیا ہوا ہے بخاری صاحب روتے کیوں ہوں‘‘ اعجاز حسین بخاری جواب دینے کی بجائے دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور پھر روتے روتے ہی کہنے لگے’’ہائے او میں مر گیا ۔۔۔میں مر گیا جے۔۔۔‘‘ ان کی یہ کیفیت تین دن تک رہی۔ وہ چھپ چھپ کر روتے،کسی کو دیکھتے تو دھاڑیں مارمارکرروتے اور ہائے او میں مر گیا کُرلاتے ۔۔۔ان کی یہ حالت دیکھ کر ہم نے پیر صاحب سے گزارش کی تو آپ نے تین روز بعد رات گیارہ بجے انہیں طلب کیا اور بخاری صاحب سے کہا’’بخاری صاحب ذرا میری آنکھوں میں دیکھو‘‘۔

بخاری صاحب جذب و مستی کے انداز میں قبلہ کی نظروں میں دیکھنے لگے’’درویشی چاہیے بخاری صاحب‘‘ اعجاز حسین بخاری نے ایک جھٹکا کھایا اور بولے‘‘۔ نہیں سرکار۔۔۔ مجھے اجازت دیں ،گھر جاؤں گا‘‘۔ اعجاز حسین بخاری کی کیفیت ایسی بدلی کہ اگلے روز وہ جب اپنے گاؤں گئے تو وہ بدلے ہوئے انسان تھے۔ انہوں نے کبھی گھر کے کاموں کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا، کھیتوں میں جاکر دیکھ بھال نہیں کی تھی لیکن وہ ایسے تبدیل ہوئے کہ چند دن بعدان کی والدہ نے پیر صاحب کو شکریے کا پیغام بھیجا کہ ان کی دعا سے اعجاز شاہ نے اب زمینداری سنبھال لی ہے۔

نگاہ برق انوار معرفت کی تجلی سے معمور تھی۔ پیر سید تصدیق حسین شاہ نوشاہی نے راقم کو اس ضمن میں دو اہم واقعات سنائے۔

’’پیر صاحب کی نگاہ کی تاب لانا مشکل ہوتا تھا۔۔۔ایک بار قبلہ پیر صاحب کی آنکھیں چیک کرانے کے لئے انہیں برطانیہ میں آئی سپشلسٹ کے پاس لے جایا گیا تو ڈاکٹر نے جونہی مشین کی مدد سے حضور کی آنکھوں کو چیک کرنا چاہا تو ایک دم جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹ گیا۔ اسکا چہرہ متغیر ہوگیا۔اسے یوں لگا جسے اسے بجلی نے چھولیا ہے۔کچھ دیر بعد اس نے یہ بات بتائی کہ وہ جو نہی حضرت برقؒ کی آنکھوں میں جھانکتا ہے تو اسے لگتا ہے جسے وہ آنکھیں اس کے دل میں اتر گئی ہیں‘‘ علامہ اقبال نے اللہ کی ایسی ہی برگزیدہ ہستیوں کے متعلق اپنے کلام میں’’نگاہ مرد مومن‘‘ کی تاثیر بیان کی ہے۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید :

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ -