کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیاں

کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیاں

بھارتی افواج نے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر فائرنگ کی جس سے ایک سکول وین کا ڈرائیور شہید اور دو خواتین سمیت تین شہری زخمی ہوگئے، بھارتی فوج نے بٹل، تتہ پانی اور کھوئی رٹہ سیکٹروں میں بلااشتعال فائرنگ کی۔ سکول وین پر فائرنگ کا واقعہ بٹل سیکٹر میں پیش آیا، وین سکول کے بچوں کو چھٹی کے بعد گھر لے کر جارہی تھی، اِس فائرنگ کی وجہ سے بچے دہشت زدہ ہوگئے، ڈرائیور کے شہید ہونے کی وجہ سے خوفزدہ معصوم بچوں کا وقت پر گھر پہنچنا بھی ممکن نہ رہا۔ تتہ پانی اور کھوئی رٹہ میں تین افراد زخمی ہوئے، بھارتی فائرنگ کا جواب پاکستانی افواج کو دینا پڑا، جس سے بھارتی چوکی تباہ ہوگئی اور پانچ بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پاکستان نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا اور بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اور یہ خلاف ورزیاں اب معمول بنتی جارہی ہیں، سالِ گزشتہ ہزاروں مرتبہ فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات پیش آئے۔ رواں سال کے آغاز سے ہی یہ سلسلہ بڑی باقاعدگی سے جاری ہے، فائرنگ شہری آبادیوں پر بھی کی جاتی ہے، کبھی کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کنٹرول لائن کے قریب معمول کے کام کر رہے ہوتے ہیں، تازہ واقعہ میں بھی ایک سکول وین کو ٹارگٹ کیا گیا، ماضی میں ایسے بہت سے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں شہری آبادیوں پر گولہ باری کی گئی جو نہ صرف جنگ بندی مُعاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ جنیوا کنونشن کے تحت بھی جُرم تصوّ ر کی جاتی ہے، معصوم اور بے گناہ شہریوں کو اِس طرح سنگدلی کے ساتھ نشانہ بنانا ہر لحاظ سے قابلِ مُذّمت ہے، لیکن بھارت کی جن سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے اندر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور دس دس سال کے بچوں کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بنا کر اُن کے جسموں کو داغ دار اور بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، کنٹرول لائن کا محاذ بھی اِس لئے گرم رکھا جاتا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی کارروائیوں سے دُنیا کی توجہ ہٹائی جا سکے، البتہ پاکستان کی جوابی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی لاشوں کے تابوت اُن کے گھروں میں پہنچتے ہیں تو اِس پر میڈیا میں بُہت شور مچایا جاتا ہے اور فہم و شعور سے عاری بھارتی رہنما اور ریٹائرڈ فوجی اپنی حکومت کو پاکستان پر حملے کے مشورے دینے لگتے ہیں۔ اِس طرح کی ہرزہ سرائیاں میڈیا پر اکثر کی جاتی ہیں۔

ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت ایک منصوبے کے تحت فائرنگ کے اِس سلسلے کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ جنگ کنٹرول لائن سے آگے بڑھ کر دوسرے علاقوں تک وسیع ہو جائے اور اِس کے پردے میں بھارتی حکمران کوئی نیا کھیل شروع کر سکیں، جنہوں نے اِس وقت دُنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کی منفی مُہم چلائی ہوئی ہے۔ کشمیری حریت پسند اگر تشدّد سے تنگ آ کر کِسی جگہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو چند منٹوں کے اندر اندر بھارت اِس کا الزام پاکستان پر دھر دیتا ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور اب تک بھارتی رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تمام واقعات پر ایک ایک کرکے غور کریں، اِدھر کوئی واقعہ ہوا اور اُدھر بھارت نے بلاسوچے سمجھے پاکستان پر الزام تراشی کا طوفان کھڑا کر دیا۔ یہاں تک کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں آتشزدگی کا الزام بھی شروع میں ہی پاکستان پر لگا دیا حالانکہ تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہِ اس واقعے میں بھارتی فوج کا ایک حاضر سروس کرنل مُلوّث تھا، جس نے تمام تر منصوبہ بندی کے ساتھ گاڑی کو آگ لگائی۔ اِس کی تفتیش کرتے کرتے جب ایک پولیس افسر کرنل تک پُہنچ گیا اور اِس کی گرفتاری کرنے والا تھا کہ اگلے ہی دن پراسرار حالات میں مُردہ پایا گیا۔

بھارت نے بار بار کے وعدوں کے باوجود سمجھوتہ ایکسپریس کے سلسلے میں ہونے والی تفتیش سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا، لیکن الزام تراشی تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جاتی ہے، اس کی بُنیاد پر مُختلف فورموں پر پاکستان پر الزام لگاتا رہتا ہے اور یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ پاکستان کی حکومت بھارت کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہے۔ جموں حملے کا الزام بھی واقعے کے چند منٹ بعد ہی پاکستان پر لگا دیا گیا، پاکستان کا دفتر خارجہ اِس الزام کو مُسترد کر چُکا ہے، لیکن سمجھوتہ ایکسپریس جیسے واقعات سے یہ ثابت ہو چُکا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے بعض واقعات بڑے منظّم طریقے سے خود کراتا ہے تاکہ اِن کا الزام پاکستان پر دھرا جا سکے، یہ انتہائی افسوس ناک اور غیر ذمے دارانہ طرزِعمل ہے۔

بھارت کی کئی ریاستوں میں زعفرانی دہشت گردی عروج پر ہے اور عشروں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ بھارت اِس پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے، خود مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال یہ ہے کہ آٹھ لاکھ فوج نہتے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو پھیلنے سے نہیں روک سکی، بھارت کو ادراک ہونا چاہئے کہ کشمیریوں کے جذبہء آزادی کو دبانا اب اُس کے بس میں نہیں رہا۔ بے رحمانہ تشدّد اور سیکیورٹی فورسز کے وحشیانہ مظالم کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک روز بروز آگے بڑھ رہی ہے۔ بُہت سے بھارتی سیاست دان اور کشمیری رہنما نریندر مودی کو خبردار کر چُکے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے لیکن بھارتی حکمران اِس جانب تو کوئی پیش رفت نہیں کر رہے البتہ مقبوضہ کشمیر کے تشویشناک حالات کو دُنیا کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کے لئے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے خطّے کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے، جنگ کا یہ دائرہ اگر پھیل گیا تو پھر یہ آگ پورے علاقے کے امن کو بھسم کر دے گی اور پورا خِطّہ نہ جانے کب تک اس کا خمیازہ بھُگتتا رہے گا، بہتر راستہ یہی ہے کہ بھارت کے جنگ باز حکمران اور اُن کے مُشیر جو ہر وقت پاکستان پر حملے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں، ہوش کے ناخن لیں اور منفی اقدامات کو تیاگ کر امن کے لئے مثبت کردار ادا کریں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...