مسلح افواج کے نام پر جعلی اکاؤنٹس، کارروائی شروع!

مسلح افواج کے نام پر جعلی اکاؤنٹس، کارروائی شروع!

دنیا میں نیکی کے ساتھ بدی اور اچھائی کے ساتھ برائی ازل سے چلی آ رہی ہے، بدی اور برائی کو روکنے اور ختم کرنے کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ پہلے طاقت کا قانون تھا، پھر اللہ نے اپنے پیغمبروں کے توسط سے تہذیب کا راستہ دکھایا اور ریاست کا تصور ابھرا، جس کے ساتھ ہی معاشرے کو ہموار رکھنے کے لئے قوانین بھی نافذ ہوئے۔ تاہم پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی تعلیمات اور ریاستی نظام میں سب سے زیادہ زور اور توجہ اخلاقیات پر دی گئی۔ چنانچہ جہاں تلقین کا راستہ اختیار کیا گیا، وہاں قوانین بھی بنے اور جزا کے ساتھ سزا کا بھی سلسلہ شروع ہوا۔ یوں مسلمانوں کے لئے ایک روشن راستہ متعین کر دیا گیا۔ ہم پاکستانی مسلمان ہیں اور ہمیں بھی اپنے رسول اکرمؐ کی تعلیمات کو پیش نظر رکھنا اور عمل کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں گمراہی کا راستہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔ یہ تو حقیقت ہے اِسے وعظ نہ سمجھا جائے کیونکہ توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہے۔ یہ ذریعہ جدید ٹیکنالوجی ہے جو یقیناًمفید ہے اور اِس کی ایجاد کا مقصد برائی نہیں۔ لیکن اِس کے استعمال سے تو بدرجہ اتم غلط کام ہی لیا گیا ہے اور ہم پر جن تعلیمات نبویؐ کے مطابق اچھا معاشرہ بنانے کی ذمہ داری ہے، اِس میڈیا کے غلط استعمال کی لت میں مبتلا ہو گئے ہیں، ایسی چیزیں تواتر سے ملنا شروع ہو گئی ہیں جو اِس میڈیا کو جرائم کے لئے استعمال کرنے سے متعلق ہیں۔ اب ایک خبر نظر سے گزری وہ زیادہ تشویش ناک بھی ہے کہ ہماری مسلح افواج کے ادارے نے سراغ لگایا اور انکشاف ہوا کہ سوشل میڈیا میں تینوں مسلح افواج اور حکام کے نام سے فیس بک، ٹوئیٹر اور انسٹاگرام پر 255 جعلی اکاؤنٹ بنا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ فوج کی طرف سے اِن اکاؤنٹس کی تفصیل پی۔ٹی۔اے اور ایف۔آئی۔اے کے سائبر کرائمز ونگ کو مہیا کی گئی۔ مقصد یہ ہے کہ مربوط طریقے سے اِن اکاؤنٹس کا مکمل سراغ لگا کر اِن کو بند کیا جائے اور اِس جعلسازی کے مرتکب افراد کو تلاش کرکے اِن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ یہ بڑی تشویشناک بات ہے کہ ہمارے ملک میں پہلے ہی بہت مسائل ہیں، سیاسی طور پر بھی عدم استحکام نظر آتا ہے، ایسے میں سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی جعلسازی تو ملک دشمنی کے زمرے میں آتی ہے اور یہ شبہ بھی غلط نہیں ہوگا کہ غیر ملکی تخریب کار بھی اسے استعمال کرتے ہوں۔ اِس لئے جہاں پاکستان کے شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ محب وطن ہونے کا ثبوت دیں۔ مہذب شہری بنیں اور ایسی کسی علت میں مبتلا نہ ہوں جو ملک یا قوم کے لئے کِسی نقصان کا باعث بنے، اِس کے ساتھ ہی متعلقہ اداروں کے فرائض میں بھی شامل ہے کہ وہ از خود ایسی تخریب کاری اور غلط کام کو روکیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ اب تو خود ہماری مسلح افواج کے ادارے نے پڑتال کرکے یہ فہرست مہیا کی کہ 255 اکاؤنٹ معاشرے میں بے اطمینانی پھیلا رہے ہیں، حالانکہ یہ تو خود پی۔ٹی۔اے اور ایف۔آئی۔اے کے سائبر کرائمز ونگ کو کرنا چاہئے تھا کہ ایسے جعلی اکاؤنٹس کا پتہ کرکے متعلقہ لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے، بہرحال اب اگر اِن کو اطلاع دے دی ہے تو اِن کا فرض ہے کہ وہ کسی رو رعایت کے بغیر تیزی سے کام کرتے ہوئے سب ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...