پیپلز پارٹی، بلاول اورمیڈیا مینجمنٹ

پیپلز پارٹی، بلاول اورمیڈیا مینجمنٹ
پیپلز پارٹی، بلاول اورمیڈیا مینجمنٹ

  


پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس امر کا جائزہ لے گی کہ گزشتہ دو مختلف ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ کیوں نہیں ملے، صوبائی صدر نے لودھراں کے انتخابی نتیجے کے رد عمل میں یہ بیان دیا، جو میرے لئے تعجب کا باعث ہے کہ لودھراں ہی میں تین ہزار سے کچھ زیادہ ووٹوں اور ضمانت کی ضبطی کا مسئلہ نہیں، اس سے پہلے حلقہ این، اے 120 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، یہ تو ایکشن ری پلے ہے، اس لئے ان کو تو پہلے ہی جائزہ لینا چاہئے تھا کہ پنجاب میں جتنے بھی ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے امیدوار اتارے ان سب کا یہی حال ہوا، ہر حلقے میں مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی میں ہوا جس کی بنا پر کہا جارہا ہے کہ اب 2018ء کا انتخاب براہ راست مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا کہ پیپلز پارٹی اب قومی نہیں علاقائی جماعت کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ قمر زمان کائرہ نے تو پھر بھی درد مندی ظاہر کی پارٹی کے دوسرے عہداروں نے تو یہ تکلف بھی گوارا نہیں کیا اور تو اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مسلسل یہ کہلایا جارہا ہے کہ 2018ء میں پیپلز پارٹی جیتے گی خود آصف علی زرداری بھی یہی سب کہہ رہے ہیں اور سیاسی ملاقاتیں اور میٹنگیں کئے جارہے ہیں، موچی دروازہ والے جلسے کے بعد تو یہ سب پھولے نہیں سماتے تھے تاہم لودھراں کے حلقے نے غبارے سے ہوا نکال دی۔

یہ تو الگ مسئلہ اور خود قمر زمان کائرہ اور آصف علی زرداری کی اپنی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، مجھے تو آج بالکل ہی مختلف بات کرنا ہے اور وہ بھی پیپلز پارٹی ہی کے حوالے سے کہ دیار غیر میں بیٹھے دوستوں نے توجہ دلائی ہے، علی جعفر زیدی پرانے ساتھی جو اب برطانوی شہری ہیں نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ حال پارٹی کے بنیادی اصولوں کو ترک کرنے سے ہوا ہے، بہر حال میں تو آج پارٹی کی تاحیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے مایہ ناز، دعویداروں کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں اسی لئے صیغہ واحد متکلم سے کام لے رہا ہوں ورنہ یہ مبرا اسلوب نہیں ہے۔

یہ بدیہی حقیقت ہے کہ سیاست اور شخصیت کے اتار چڑھاؤ میں میڈیا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے اور خصوصی طورپر سیاسی جماعتیں اس کا خیال رکھتی اور اہتمام کرتی ہیں، آج تو آئی، ٹی کا زمانہ ہے، الیکٹرونک میڈیا راج کررہا ہے(پرنٹ میڈیا کی اہمیت ختم نہیں ہوئی اور نہ زیادہ کم ہوئی ہے) ایسے میں تو پبلسٹی کے لئے سیاسی جماعتوں کے بھی پورے پورے ونگ بنائے گئے ہیں جو کام کررہے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر بھی بہت توجہ دی جاتی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی پیپلز پارٹی پر میڈیا کی اہمیت واضح نہیں ہوئی اسی لئے پارٹی کی میڈیا مینجمنٹ تیسرے درجہ سے بھی گئی گزری ہے حتیٰ کہ میڈیا والوں کو یہ بھی علم نہیں کہ پارٹی نے میڈیا کی سہولت کے لئے کیا اقدامات کئے اور کون حضرات یہ ذمہ داری نبھارہے ہیں، میڈیا والوں سے پارٹی کے شعبہ اطلاعات کے حضرات اور سیکرٹری اطلاعات کے بھی رابطے نہیں ہیں، یوں میڈیا میں جو متحرک نوجوان اور صحافی پی،پی کی بیٹ سے متعلق ہیں وہ خود ہی محنت کرتے ہیں اس لئے میڈیا میں پیپلز پارٹی کو وہ حصہ نہیں ملتا جو اس کا حق بھی ہے، پیپلز پارٹی نے کبھی بھی اچھی میڈیا مینجمنٹ نہیں کی ماضی میں فرحت اللہ بابر، نوید چودھری اور منور انجم جیسے لوگ ذاتی طور پر کوشش کرکے تعلقات رکھتے تھے جبکہ اس جماعت میں ’’عبدل وگاڑو‘‘ بہت رہے اورچلے گئے جو پارٹی مخالف حضرات کو خوش رکھتے اور غیر جانبدار، لبرل اور پارٹی سے ہمدردی رکھنے والوں کو دور بھگاتے تھے، البتہ ماضی کی تاریخ کچھ اس لئے روشن رہی کہ خود بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو اور تاحیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی اپنی اپنی شخصیت بہت بھاری بھرکم تھی، ذوالفقار علی بھٹو تو نبض شناس بھی تھے، وہ جب کبھی کراچی سے نکلتے تو اسلام آباد تک میڈیا والوں سے بات کرنے کے علاوہ اجلاسوں اور جلسوں سے بھی خطاب کرتے اور پھر ایک دم لاڑکانہ یا کراچی جاکر بیٹھ جاتے اور ایک ہفتہ تک کا وقفہ دے دیتے تھے، یوں ان سے دلچسپی برقرار رہتی تھی، خود بے نظیر بھٹو کی ذاتی شخصیت میل ملاپ اور بات چیت بہت اچھی ہوتی تھی اور وہ کوشش کرتی تھیں کہ زیادہ سے زیادہ صحافیوں سے ذاتی طور پر واقف ہوں۔

تمہید طویل ہوگئی، میں یہ بات کرتے وقت قطعی شرمندگی محسوس نہیں کرتا کہ میرے ذاتی خیال کے مطابق پیپلز پارٹی کو ایک قومی جماعت کی حیثیت سے موجود رہنا چاہئے کہ یہ جماعت معنوی اور عملی اعتبار سے بھی اعتدال پسند/لبرل جماعت ہے، جس کا وجود معاشرتی طور پر بھی ضروری ہے کہ میدان میں اگر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی نے رہنا ہے تو پھر توازن خراب رہے گا، اس لئے کسی تیسری قومی جماعت کا وجود لازم ہے، جو خود پارٹی قیادت کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔

اب میں اپنی بات کرتا اور توجہ دلاتا ہوں، بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں، ان کو اگلے حکومتی سربراہ کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن پارٹی ان کے ساتھ جو سلوک کررہی ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو ابھرنے سے پہلے ہی دبانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، وہ خود اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذہین اور کچھ کر گزرنے کے خیالات رکھتے ہیں، تربیت ماں نے کی، تاہم اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محترمہ شاید ان کو دیر سے سیاست میں لاتیں کہ قدرت نے ان کو بلالیا اور بلاول کو میدان میں اترنا پڑا، اسی لئے تو وہ اپنی اردو اب ٹھیک کررہے ہیں، بہر حال اب تو عرض ہے کہ بلاول کو حال ہی میں موقع ملا وہ واشنگٹن صدر ٹرمپ کے روائتی سالانہ ناشتہ میں مہمان کی حیثیت سے گئے، ان کی امریکہ میں مصروفیات کی چند جھلکیاں غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے ملیں تو بہت خوشی ہوئی کہ بلاول نے امریکہ میں بیٹھ کر ملک کے لئے قومی بات کی، حکومت کی نہیں ریاست کی نمائندگی کی اور اپنا نقطہ نظر بڑے ہی دلنشین انداز میں پیش کرکے امریکی تھنک ٹینک تک کو متاثر کیا، حتیٰ کہ جنیوا میں تو وہ اس اجلاس میں بھی موجود تھے جو پاکستانیوں کا تھا اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خطاب کیا تھا، خود وزیر اعظم نے ان کا نام لے کر تعریف کی تھی، لیکن دکھ کا مقام ہے کہ بلاول کی جماعت نے ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا کہ ان کے چیئرمین نے امریکہ میں جو کچھ کہا اور جو کیا اس کی باقاعدہ تشہیر ہو اور نہ ہی اس جماعت نے امریکہ میں ان کی مصروفیات کو مربوط کیا حالانکہ انہوں نے اپنے خطے کی صورت حال افغانستان بھارت اور امریکی کردار کو بہت خوبصورتی سے اجاگر کیا، ایسا کیوں کیا گیا؟ وجہ نظر نہیں آتی، کیا یہ ماضی کی طرح بری کارکردگی ہے؟ یا پھر کوئی اور ہی مسئلہ ہے، شاید بلاول کی پروجیکشن زیادہ ہوجاتی، سوچنے والوں کے لئے لمحہ فکر یہ ہے؟

مزید : رائے /کالم


loading...